سقراط بولا ” ملازم سے کہو کہ میری موت کا پیالہ لائے“پیالہ منہ کی طرف بڑھایا اور غٹ غٹ پی گیا

سقراط بولا ” ملازم سے کہو کہ میری موت کا پیالہ لائے“پیالہ منہ کی طرف بڑھایا ...
سقراط بولا ” ملازم سے کہو کہ میری موت کا پیالہ لائے“پیالہ منہ کی طرف بڑھایا اور غٹ غٹ پی گیا

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :آخری قسط

اقریطون: سورج کافی اوپر آ گیا ہے آپ کچھ ناشتہ تناول فرما لیں۔

سقراط : ”یہ ناشتے ہی کی تو تیاری ہے۔ ملازم سے کہو کہ میری موت کا پیالہ لائے۔“ یوں دیکھا، جس طرح ایک طاقتور بیل کسی مہیب چیز کی طرف دیکھتا ہے۔ ہاتھ بڑھا کر پیالہ ہاتھ میں لے لیا اور ملازم سے پوچھا کہ ا س سے کس قدر آدمی مر سکتے ہیں؟ اس نے کہا یہ مقدار صرف ایک آدمی کےلئے ہے۔ سقراط نے پوچھا کہ اس پیالے کے متعلق کوئی اور ہدایت؟ ملازم نے کہا ”پینے کے بعد ٹہلنا شروع کر دیجےے جب پاﺅں بھاری ہوں تو لیٹ جایئے۔

سقراط نے پیالہ منہ کی طرف بڑھایا اور غٹ غٹ پی گیا۔ ہم نے رونا دھونا شروع کر دیا اور بعض کی فریادیں تو اس قدر دل گداز تھیں کہ خداکی پناہ۔ فاذن کہتا ہے کہ میں نے منہ ڈھانپ کر رونا شروع کر دیا اور دل کی یہ حالت تھی گویا خنجر چل رہے ہیں۔ اس پر سقراط کہنے لگا۔ میں نے عورتوں کو اس لیے یہاں سے نکالا تھا کہ گر یہ وزاری نہ ہو اور اب تم مرد وہی کام کر رہے ہو چنانچہ ہم تعظیماً خاموش ہو گئے اور سقراط نے ٹہلنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد کہنے لگا کہ میرے پاﺅں وزنی ہو گئے ہیں۔اس پر ملازم نے اسے لٹا دیا اور پاﺅں کو پکڑ کر پوچھنے لگا۔ ”کیا آپ میری گرفت کو محسوس کر رہے ہیں؟“ کہا ”نہیں“ یونہی وہ پوچھتا گیا۔ یہاں تک کہ کمر تک آ گیا اور ہمیں مخاطب کر کے کہنے لگا۔ ”جب یہ سردی، سقراط کے دل تک جا پہنچے گی، معاملہ ختم ہو جائے گا۔“

اس دوران سقراط نے اقریطون کو کہا ”بھائی مجھے یاد آ گیا کہ ہمارے ہاں سقلالیوس کا ایک مرغا تھا۔ وہ سقلالیوس کو ضرور واپس پہنچادینا“ اقریطون نے کہا ”سر آنکھوں پر کوئی اور ارشاد؟“ لیکن کوئی جواب نہ ملا اٹھ کر دیکھا تو آنکھیں پتھر اچکی تھیں۔ اقریطون نے مسافرِ عدم سقراط کی آنکھیں میچ دیں اور ڈاڑھی کے نیچے سے ایک پٹی ڈال کر اس کے منہ کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

فاذن کہتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں کوئی ہستی سقراط سے بڑی موجود نہ تھی۔اقراطیس نے فاذن سے پوچھا۔ ”دمِ مرگ کون کون سے حضرات سقراط کے پاس موجود تھے؟“ کہا ”سقراط کے تقریباً تمام شاگرد“ پوچھا ”افلاطون بھی موجود تھا۔“ جواب دیا ”نہیں، بیمار تھا اور اس لیے غیرحاضر تھا۔“(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -