ملکہ معظمہ نے وائسراﺅں کے ذریعے 1858ءسے 1901ءتک یعنی 43 سال تک حکمرانی کی

 ملکہ معظمہ نے وائسراﺅں کے ذریعے 1858ءسے 1901ءتک یعنی 43 سال تک حکمرانی کی
 ملکہ معظمہ نے وائسراﺅں کے ذریعے 1858ءسے 1901ءتک یعنی 43 سال تک حکمرانی کی

  

مصنف : ای مارسڈن 

 ہندوستان ملکۂ انگلستان کے سایۂ عاطفت میں

جب بغاوت فرو ہو گئی اور ہر طرف امن و امان ہو گیا تب پارلیمنٹ انگلستان نے یہ محسوس کیا کہ اب ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے بھی سلطنت ہند پر حکمرانی کرنے کی کچھ ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس کا دور زندگی اچھا، طویل، نہایت شاندار اور عجیب و غریب رہا ہے مگر اب اس کا کام پورا ہو چکا ہے۔ انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ نے پارلیمنٹ کی منظوری سے اور اس کی زیر ہدایت ہند کی عنانِ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس طرح ہندوستان سلطنتِ برطانیہ کا ایک حصہ ہو گیا۔ یہ سلطنت ایسی عظیم الشان اور وسیع ہے کہ اب تک صفحہ ہستی پر کوئی سلطنت بھی اس کے برابر نہیں ہوئی۔ ملکہ معظمہ نے ایک اعلان جاری کیا جو ہندوستان کی مقامی زبان میں ترجمہ ہو کر یہاں کے ہر بڑے شہر میں نومبر 1858ءکی یکم تاریخ کو عام رعایا کے سامنے پڑھا گیا۔ یہ اعلان ہندوستان کے شہزادوں اور رعایا کے نام تھا اور اسے بجا طور پر ہندوستان کا حقوق نامہ اعظم (میگناکارٹا) کہا جا سکتا ہے۔ جس پر اس وسیع ملک کے باشندوں کے حقوق اور آزادی کی بنیادیں قائم ہیں۔

 لارڈ کیننگ جو 1856ءسے ہند کے گورنر جنرل تھے۔ ملکہ معظمہ کی طرف سے ہندوستان پر حکومت کرنے کے لیے مقرر کیے گئے۔ ان کا عہدہ وائسرائے و گورنر جنرل قرار پایا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تمام انگریز اور ہندوستانی افسر اپنے اپنے عہدوں پر ملکہ معظمہ کے ملازموں کی حیثیت سے برقرار رہے۔ اس اعلان میں لکھا تھا کہ ہم یعنی ملکہ معظمہ ہندوستان کے والیان ریاست کے حقوق رتبہ اور عزت کو ایسا ہی سمجھیں گے جیسا کہ اپنے۔ ہم ان تمام کو جو ہماری ماتحتی میں کچھ اختیارات رکھتے ہیں نہایت تاکید کرتے ہیں کہ وہ ہماری رعایا کے ہر فرد بشر کے مذہبی عقیدے یا عبادت میں ہر طرح دست اندازی کرنے سے محترز رہیں۔

یہ ہماری خواہش ہے کہ ہندوستان کے تمام حقوق اور رسم و رواج کا پورا پورا خیال رکھا جائے۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے ہماری رعایا کو خواہ وہ کسی نسل یا عقیدے کی کیوں نہ ہو ہماری ملازمتوں کے عہدوں پر جن کے فرائض وہ قابلیت سے ادا کرنے کے قابل ہوں بلارو رعایت اور پوری پوری آزادی سے جگہ دی جائے۔

”یہ ہماری زبردست خواہش ہے کہ ہم ہندوستان پر امن و صنعتوں کو ترقی دیں۔ عام مفاد اور ترقی کے کاموں کو بڑھائیں اور اس ملک میں رہائش رکھنے والی اپنی تمام رعایا کی بہتری کے لیے حکومت کریں۔ ان کی خوش حالی میں ہماری طاقت، اطمینان میں ہماری حفاظت اور شکر گزاری میں ہمارا بہترین معاوضہ ہو گا۔“

 اب ہندوستان کے والیان ریاست اور باشندوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارا جان و مال ایک ایسی حکومت کے زیر سایہ محفوظ ہے جو ان تمام طاقتوں کی بہ نسبت زیادہ مضبوط اور زیادہ مہربان ہے جن کے ایک عرصہ دراز سے ہم محکوم رہے ہیں۔ اس وقت سے اب تک کامل امن و امان میں 60 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا۔ اس اثناءمیں برٹش ہند کی حدود کے اندر کوئی بھی جنگ و جدل نہیں ہوئی اور باہر بھی بہت کم لڑائیاں ہوئیں۔ تمام ملکی تاریخ امن امان، عروج و خوشحالی، اصلاح پر اصلاح، ایزادی دولت اور ترقی و اطمینان کی تاریخ ہی ہے اور نئی تہذیب کی تمام سہولتیں یہاں یکے بعد دیگرے بہم پہنچائی جاتی رہی ہیں۔

 ہندوستان کے باشندے جن کے دل اس مہربانی سے متاثر ہو چکے تھے۔ اپنی ملکہ معظمہ سے محبت کرتے تھے اور آپ بھی انہیں پیار کرتی تھیں۔ آپ ہندوستان کے غریب سے غریب مزدور کی بھی ویسی ہی ملکہ تھیں جیسی کہ انگلستان کے معزز سے معزز لارڈ کی۔ آپ اگرچہ ہندوستان کبھی تشریف نہیں لائیں لیکن پھر بھی ہندوستانی زبان لکھ اور پڑھ سکتی تھیں، کیونکہ آپ نے ہندوستان سے ایک منشی بلا کر اس سے یہ زبان سیکھی تھی۔ جب کبھی کوئی نیا وائسرائے یا اعلیٰ افسر ہندوستان آتا تھا اور روانہ ہونے سے پہلے آپ کے روبرو پیش ہوتا تھا تو اس سے یہ کہنے سے ہرگز نہ چوکتی تھیں کہ ”ہندوستان میں ہماری رعایا کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا“۔ ملکہ معظمہ اپنے وائسراﺅں کے ذریعے 1858ءسے 1901ءتک یعنی 43 سال تک حکمرانی کرتی رہیں۔ ہندوستان کے کسی حصے پر کبھی اس سے بہتر حکومت نہیں ہوئی جیسی کہ ملکہ معظمہ کے عہد میں تمام ہندوستان پر ہوئی ہے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -