میدان کے پیچھے پہاڑوں کی دھندلی سی سرحد تھی اور گلیشئیرکا دودھیا وجود بھی یہاں سے زیادہ چمکیلا نظر آتا تھا،درۂ شمشال کہیں بہت اوپر تھا

میدان کے پیچھے پہاڑوں کی دھندلی سی سرحد تھی اور گلیشئیرکا دودھیا وجود بھی ...
میدان کے پیچھے پہاڑوں کی دھندلی سی سرحد تھی اور گلیشئیرکا دودھیا وجود بھی یہاں سے زیادہ چمکیلا نظر آتا تھا،درۂ شمشال کہیں بہت اوپر تھا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:118

فرانسیسی زبان سیکھنے کا طریقہ:

 اوپر سے ایک غیر ملکی سیاح آتا دکھائی دیا۔ لمباقد، دبلا جسم، سنہری پٹے جو ہوا سے لہراتے اور دھوپ میں چمکتے تھے۔ کندھے پر رک سیک، ہاتھ میں کوہ پیماؤں والی دھاتی چھڑی۔ ہمارے قریب آکر وہ رک گیا تاکہ ہمیں گزرنے کے لیے راستہ دے سکے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ وہ سِلوا تھا۔ ایک فرانسیسی آوارہ گرد۔ وہ درۂ شمشال سے ہو کر لو ٹ رہا تھا۔تھکن سے اس کا گورا چہرہ ٹما ٹر جیسا سرخ تھا۔ اسے انگریزی نہیں آتی تھی اس نے اردو میں ”سلام“ اور ہاتھ پھیلا کر چاروں طرف اشارہ کرتے ہوئے ’ ’بوت آچا ہائے۔“ کہا جس کے جواب میں،میں نے اسے ’ ’بوں یوغ“ (bonjour)اور ”میغسی بُو کو“ (merci beaucoup)کہا جس سے ہم دونوں کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ اس سے آگے اس کی اردو اور میری فرانسیسی ختم ہو گئی اور باقی مکالمہ آفاقی زبان ِ محبت یعنی مسکرا ہٹ میں کیا گیا جس میں ہم مسافر بہت طاق ہوتے ہیں۔ چند منٹ سستا کر ہم اوپر اور سلوا نیچے روانہ ہو گیا۔

 ”آپ کو فرانسیسی آتی ہے؟“ عثمان نے متاثرہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پو چھا۔

”شوق ہے سیکھنے کا لیکن موقع نہیں ملا۔“ میں نے جواب دیا۔

”کو ئی بھی زبان سیکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس زبان کی گرل فرینڈ بنا لیں۔“ ندیم نے مشورہ دیا۔

”چنیوٹ اور اس کے گرد ونواح میں دور دور تک فرنچ گرل فرینڈ available نہیں ۔“ میں نے کندھے اچکائے۔

”ہوں ں ں۔۔۔۔“ ندیم نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔ ”ایک زبیدہ آپا ٹا ئپ ٹو ٹکا اور ہو سکتا ہے۔“

”وہ کیا؟“ سب نے یک زبان پوچھا۔

”کچھ دن باقاعدگی سے فرنچ فرائز کھا کر دیکھیں شاید فرق پڑ جائے۔“

دھوپ رفتہ رفتہ تیز ہو تی جا رہی تھی۔حالت ِ رکوع میں چڑھتے چڑھتے جب ذرا سیدھی جگہ آئی اور میں نے گردن اٹھا کر اوپر دیکھا تو پگڈنڈی درختوں کے ایک ایسے ذخیرے میں داخل ہو کر گم ہو رہی تھی جن کی ٹہنیوں پر بے شمار لمبے اور سخت کا نٹے اگے ہو ئے تھے اور شا خیں ہمارے مسلکی اختلافات کی طرح ایک دوسرے میں اس بری طرح گتھی ہوئی تھیں کہ سلامتی سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ پتا نہیں یہ لوگ خود یہاں سے گزرتے بھی تھے یا صرف اجنبی لو گوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے یہ انتظام کیا ہوا تھا۔ ہم کوئی غالب تو تھے نہیں جو راہ کو پُر خار دیکھ کر خوش ہوتے اس لیے کوئی اور راستہ ڈھو نڈنے کی کوشش کی لیکن نہیں ملا سومجبوراً اسی سرنگ سے گزرے مگر اس طرح کہ سکڑے سمٹے، جھک جھک کر اور بیٹھ بیٹھ کر جیسے عاشق، چور یا فقیر۔ دھوپ کی رسائی اس راستے میں نہیں تھی اور یہ چند گز مشکل ہی نہیں تکلیف دہ بھی تھے۔ چہرہ نوکیلے کانٹوں سے بچانے کی کوشش میں بازوؤں پر کھرونچیں آگئیں اور کپڑوں میں بھی سوراخ ہو گئے۔

 اس کے دوسری طرف آبادی ”بندہ سر“ تھی۔۔۔ چھو ٹا سا ایک کھیت، جس میں ہری گندم کھڑی تھی۔ کھیت کے حا شیے پر پگڈنڈی تھی جو اس بلند مقام کی با لکل کگر پر تھی اور ہر قدم پر ڈر لگتا تھا کہ ذرا سی غفلت پر ہم گہرے خلا ءمیں سر کے بل جا پڑ یں گے۔ ایک قطار میں اس سے گزر کر آگے گئے۔ دو تین گھروں کی آبادی تھی۔ مگر ایسی آبادی جو بے آباد تھی۔ چھوٹے چھو ٹے کچے گھر۔ موسموں کی شدت سہ سہ کر جھریائے ہوئے لکڑی کے دروازوں کی کنڈیا ں لگی ہوئی تھیں لیکن تالے ندارد۔ سارے میں اتنا سنا ٹا تھا جیسے جِن پھر گیا ہو اور اب ہم پھر رہے تھے۔ گھر کچے ہو نے کے با وجود صاف ستھرے تھے۔ چھتوں پر اور مٹی سے لپے ہموار صحنوں میں چارے کے چھو ٹے چھو ٹے گٹھے دھوپ میں سوکھ رہے تھے۔ چھو ٹے چھو ٹے بونے، سنو وہائٹ کے بو نے جو ہما ری آہٹ سن کر سبز گٹھے بن کر کھڑے ہو گئے تھے۔میں اس خا موشی میں لا شعوری طور پر دبے پاؤں چلتا تھا کہ کہیں سکوت کا یہ آبگینہ میری چاپ سے ٹو ٹ نہ جائے۔ گھروں کے سامنے ایک لیپاہوا بڑاصحن تھا جس کے بیچ میں اڑھائی تین فٹ اونچا مضبوط اور موٹاتنا گڑاہوا تھا۔ اس جگہ گندم اور جو کی فصل بچھا کر یاک یا بیلوں کی مدد سے گاہی جاتی ہوگی۔ لوگ غالباً جانوروں کے ساتھ چراگاہ گئے ہوئے تھے۔ 

میں نے نیچے جھا نک کر اپنے بےیزارہم راہیوں کو دیکھنا چاہا لیکن وہ اس بلندی سے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ میں کگر کے قریب ایک پست دیوار پر بیٹھ گیا۔ یہاں ہوا خنک اور خشک تھی ۔ نیچے سے نظر آنے والاوسیع و عریض سرمئی میدان یہاں سے زیادہ واضح نظر آتا تھا۔ اس میدان کے پیچھے پہاڑوں کی دھندلی سی سرحد تھی اور گلیشئیرکا دودھیا وجود بھی یہاں سے زیادہ چمکیلا نظر آتا تھا۔درۂ شمشال کہیں بہت اوپر تھا۔ میری نظر سے اوجھل، اپنی اس پر اسرار خوبصورتی کے ساتھ جو آنکھ سے اوجھل اور پہنچ سے دور چیزوں میں ہوتی ہے۔ ہر پو شیدہ اور نارسا جگہ میں کوہ ِ ندا کی خصو صیت ہوتی ہے جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مسافر، فن کار، شاعر، عاشق سب اپنے اپنے کوہ ِ ندا کی پکار سنتے ہیںتو دنیا کی سدھ بھلا دیتے ہیں اور ایک ایسے سفر پر چل نکلتے ہیں جہاں سے پھر ان کی خبر نہیں آتی۔ لیکن آدھے لوگ پہلے ہی ساتھ چھو ڑ گئے تھے، بلال راستے میں ہماری واپسی کا انتظار کر رہا تھا اور عثمان بھی زیادہ انٹرسٹد نہیں تھا اس لیے کچھ دیر یہیں بیٹھ کر میں اور ندیم بھی واپسی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -