ایران کے خلاف اسرائیل کی 'آکٹو پس پالیسی، لیک ہو گئی ، تحقیقات شروع

ایران کے خلاف اسرائیل کی 'آکٹو پس پالیسی، لیک ہو گئی ، تحقیقات شروع
ایران کے خلاف اسرائیل کی 'آکٹو پس پالیسی، لیک ہو گئی ، تحقیقات شروع

  

تل ابیب(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز نے اپنی وزارت کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو حالیہ میڈیا لیکس کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جس نے اسرائیل کی "آکٹوپس پالیسی" کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے فوری بعد  اسرائیلی ٹیلی ویژن نے بتایا کہ ایک ملٹری انٹیلی جنس یونٹ ایران کی اسٹیل ملز پر سائبر حملے کا ذمہ دار تھا۔ گینٹزنے ڈیفنس فاؤنڈیشن میں سیکیورٹی کے ڈائریکٹر  کو حالیہ کارروائیوں کے اس انداز میں لیک ہونے کی تحقیقات کا حکم دیا جو اسرائیل کی ابہام کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

یہ تحقیقات اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہیں کہ فوج کے سربراہ کوچاوی اور موساد کو ایران کے جوہری معاہدے پر ان کے موقف پر اختلاف ہے۔ گینٹز نے اس رپورٹ پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کی بحث بند دروازوں کے پیچھے رہنی چاہیے۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایویو کوچاوی نے حال ہی میں انٹیلی جنس یونٹ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جہاں انہیں پیر کے سائبر حملے کے بعد ایک ویڈیو دکھائی گئی جس نے سرکاری ملکیت والی خوزستان سٹیل کمپنی کو پیداوار بند کرنے پر مجبور کردیا۔ فیکٹری میں ایک بڑی آگ لگ گئی۔ ٹی وی پرلوگوں نے دیکھا کہ وہاں پر لوگ چیخ رہے تھے اورمدد کے لیے پکار رہے تھے۔

عام طور پر اسرائیل ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کے حوالے سے ابہام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ روایت کے برعکس وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بار بار اسے "آکٹوپس کے نظریے" کا نام دیا کہ وہ ایران پر اس کے "پنجوں" کے بجائے براہ راست حملہ کرے۔

مزید :

بین الاقوامی -