مہاتما گوتم بدھ کون تھا؟ بدھ ازم دنیا کا چوتھا بڑا مذہب کیسے؟

مہاتما گوتم بدھ کون تھا؟ بدھ ازم دنیا کا چوتھا بڑا مذہب کیسے؟
مہاتما گوتم بدھ کون تھا؟ بدھ ازم دنیا کا چوتھا بڑا مذہب کیسے؟
سورس: Wikipedia

  

ہم چین، جاپان اور کوریا کی فلمیں دیکھیں تو ان میں بدھ  مت اوربدھا کا ذکر کثرت کے ساتھ ملتا ہے، بعض لوگ بدھ مت کو ہندو ازم کی ہی ایک شاخ سمجھتے ہیں  اور بعض لوگ اس کنفیوژن میں رہتے ہیں کہ آخر یہ کیا مذہب ہے، اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی اور بدھا کون تھا?

بدھ مت کی ابتدا  گوتم بدھ نے کی جس کا اصل نام شہزادہ سدرھارتھ تھا،  سدھارتھ کپل وستو کے راجہ کا بیٹا جو نیپال کی سرحدوں کے نزدیک شمالی ہندوستان کا ایک شہر ہے۔ سدھارتھ کی ذات گوتم اور اس کا قبیلہ شاکیہ تھا ، نیپال کی موجودہ سرحدوں کے بیچ لمبائی کے مقام پر 563 قبل مسیح میں پیدا ہوا ۔ 16 برس کی عمر میں اس کی شادی اپنی ہم عمر چچا زاد سے کردی گئی۔ شاہی محل میں پرتعیش ماحول میں اس کی پرورش ہوئی تاہم وہ خود اس ماحول سے اکتایا ہوا تھا اور ہمیشہ پریشان رہتا تھا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ  انسانوں کی بڑی آبادی غریب ہے اور اس محرومی کے سبب ہمیشہ ہی مشکلات میں گھری رہتی ہے، حتیٰ کہ امیر لوگ بھی اکثر مایوس اور ناخوش رہتے ہیں۔ ہر شخص  بیماری کا شکار ہوتا اور آخر کار مر جاتا ہے۔ 29 سال کی عمر میں جب شہزادہ سدھارتھ کے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی موجودہ زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرلے اور خود کو سچ کی تلاش کیلئے وقف کردے۔ اسی سوچ کے تحت وہ محل چھوڑ کر چلا گیا ، اس نے اپنی بیوی، اپنے نومولود بچے اور تمام دنیاوی آسائشات کو ترک کردیا اور ایک مفلس یوگی بن گیا۔ 

کچھ عرصہ اس نے اس دور کے مشہور یوگی علما سے علم حاصل کیا ، جب اسے ان کے افکار سے مکمل آگہی حاصل ہوگئی تو اس کے بعد اس نے انسان کے غیر اطمینان بخش مسائل کے اپنے حل وضع کیے۔  گوتم نے ایک سنیاسی بننے کی کوشش کی، کئی سال وہ مسلسل فاقہ کشی اور خود اذیتی کے مراحل سے گزرا،  آخر اسے یہ احساس ہوا کہ جسم کو اذیت دینے سے ذہن میں ابہام پیدا ہوتا ہے اسی لیے یہ ریاضت اسے سچ کی قربت نہ دے سکی، چنانچہ اس نے پھر سے باقاعدہ خوراک لینی شروع کی اور فاقہ کشی کو ترک کردیا۔

شہزادہ سدھارتھ نے تنہائی میں انسان کی موجودگی کے مسائل پر استغراق کیا، آخر ایک شام جب وہ ایک عظیم الجثہ انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا تو اسے اس معمے کے سبھی ٹکڑے  باہم یکجا ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ سدھارتھ نے اس کے بعد ساری رات غورو فکر میں بتائی ، صبح ہوئی تو اس پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ اس نے حل پالیا ہے اور وہ یہ کہ اب وہ بدھ بن گیا ہے۔ جس کے معنی ایک اہل بصیرت کے ہیں۔ شہزادہ سدھارتھ جب بدھ بنا تو اس کی عمر 35 برس تھی۔  زندگی کے اگلے 45 سال اس نے شمالی ہندوستان میں سفر کرتے ہوئے گزارے، وہ ان لوگوں کے سامنے اپنے خیالات کا پرچار کرتا جو اسے سننے آتے تھے، 483 قبل مسیح میں وہ  اپنی وفات کے سال تک ہزاروں پیروکار بنا چکا تھا۔ اگرچہ اس کے افکار لکھے نہیں گئے تھے  لیکن اس کے ماننے والوں نے اس کی تعلیمات کو یاد رکھا اور یہ تعلیمات سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں۔اس حوالے سے مکمل تفصیل جاننے کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری کی یہ ویڈیو دیکھیں۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -ادب وثقافت -