مردوں کو زندہ کرنے کے تجربات کرنے والا سائنسدان جس نے مردہ کتے زندہ کردیے تھے

مردوں کو زندہ کرنے کے تجربات کرنے والا سائنسدان جس نے مردہ کتے زندہ کردیے ...
مردوں کو زندہ کرنے کے تجربات کرنے والا سائنسدان جس نے مردہ کتے زندہ کردیے تھے

  

 موت ایک اٹل حقیقت ہے، اللہ کا فیصلہ ہے کہ  ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن حضرتِ انسان مدتوں سے موت پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے، کبھی یہ آبِ حیات ڈھونڈتا ہے تو کبھی سائنسی طریقوں سے موت پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے لیکن 1930 کی دہائی میں ایک امریکی سائنسدان ایسا بھی گزرا ہے  جس نے سائنس کی مدد سے مردہ کتوں کو زندہ کر دکھایا تھا۔

 موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے کے حوالے سے کام کرنے والے سائنسدان کا نام ڈاکٹر رابرٹ ای کورنش تھا جو سنہ 1903 میں امریکی شہر سان فرانسسکو میں پیدا ہوا، یہ انتہائی فطین بچہ تھا  جس نے  صرف 18 برس کی عمر میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے گریجوایشن اور 22 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی، اسے 21 سال کی عمر میں ہی بطور ڈاکٹر پریکٹس کی اجازت مل گئی تھی۔  یہ شروع سے ہی مختلف قسم کی تحقیقاتی پراجیکٹس میں شامل رہا تاہم سنہ 1932 میں رابرٹ ای کورنش کو مردوں کو زندہ کرنے میں دلچسپی پیدا ہوئی اور اس نے اس پر تجربات شروع کردیے۔ اس نے حال ہی میں ہارٹ اٹیک، بجلی لگنے یا دیگر وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کو زندہ کرنے کا تجربہ کیا، اس تجربے کیلئے وہ مردے کو سی سا سے باندھ دیتا اور اس کے جسم میں ایڈرینالائن اور ہیپارین کے انجیکشن لگاتا اور خون کو پتلا کرنے اور اس کے بہاؤ کو بحال کرنے کیلئے سی سا پر ان کو تیزی سے ہلاتا۔ کورنش کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ کسی بھی انسان کو زندہ نہیں کرپایا جس کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جانوروں پر یہ تجربہ کرے گا اور اس کے بعد انسانوں کی طرف آئے گا۔ 

سنہ 1934 میں رابرٹ ای کورنش نے پانچ کتے لیے اور انہیں لیزارس ایک سے پانچ تک کے نام دیے۔ ان کتوں کو لیبارٹری میں  نائٹروجن گیس کے ذریعے  ایک ایک  کرکے مارا اور پھر انہیں زندہ کرنے کا تجربہ کیا  ۔ کورنش کے اس تجربے میں پہلے تین کتے تو زندہ نہیں ہوئے تاہم چوتھا اور پانچواں کتا دوبارہ زندہ ہوگئے۔موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے والے کتے اندھے اور پاگل ہوچکے تھے۔ یہ سائنس کی دنیا میں ایک بڑا کارنامہ تھا جس پر رابرٹ ای کورنش کی خوب تعریف کی گئی، یہاں تک کہ سنہ 1935 میں لائف ریٹرنز نامی فلم بھی اس کے کام سے متعلق بنائی گئی ۔ سلیبریٹی بننے کے بعد رابرٹ ای کورنش کی توجہ اپنے مردوں کو زندہ کرنے کے کام سے ہٹ گئی اور اس نے انسانی بھلائی کی دیگر تحقیقات میں حصہ لینا شروع کردیا لیکن سنہ 1947 میں وہ ایک بار پھر  اپنے پرانے تجربے کے ساتھ منظر عام پر آیا۔ اس بار وہ اپنے تجربے کو دوبارہ انسانوں پرکرنا چاہتا تھا۔ اس حوالے سے مکمل تفصیل جاننے کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری کی یہ ویڈیو دیکھیں۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -