حکومت ہند میں ہندوستانیوں کو حصہ دیئے جانے کی طرف پہلا قدم کب اٹھا؟

حکومت ہند میں ہندوستانیوں کو حصہ دیئے جانے کی طرف پہلا قدم کب اٹھا؟
حکومت ہند میں ہندوستانیوں کو حصہ دیئے جانے کی طرف پہلا قدم کب اٹھا؟

  

مصنف : ای مارسڈن 

 پہلا وائسرائے ہند ۔۔۔دانشمندانہ اور بتدریج اصلاح

 پہلے وائسرائے لارڈ کیننگ نے جو 1856ءمیں گورنر جنرل ہو کر ہندوستان تشریف لائے تھے۔ ہندوستان پر 1862ءتک حکومت کی۔ وہ ایسے مہربان حاکم تھے کہ ہندوستان میں ”کلیمنسی کیننگ“ یعنی رحم دل کیننگ کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ایسے سینکڑوں باغیوں پر مہربانی کر کے ان کے قصور معاف کر دیئے جو کہ قتل اور خونریزی کے مجرم ثابت ہوئے تھے۔ ان باغیوں میں ایسے آدمی بکثرت تھے جن کو شریر اور خود غرض فتنہ پردازوں نے گمراہی میں مار ڈالا تھا اور اس لیے وہ اپنی غلطی پر سخت نادم اور پشیمان تھے۔ ملکہ وکٹوریہ کی خواہش یہ تھی کہ ان سب کو معاف کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے گھروں میں واپس جا کر بلاخوف و خطر زندگی بسر کر سکیں۔ لارڈ کیننگ نے نہایت احتیاط اور خوش اسلوبی سے ملکہ معظمہ کی اس خواہش کو پورا کیا۔

 لارڈ کیننگ کے عہد حکومت میں ہندوستان کے 3 بڑے قوانین وضع ہوئے جو کہ نہایت احتیاط سے تیار کر کے ملک میں نافذ کیے گئے۔ ان کے نام ضابطہ دیوانی 1859ءتعزیرات ہند 1860ءاور ضابطہ فوجداری 1861ءہیں۔ اس وقت تک ہر صوبے کا قانون علیحدہ علیحدہ تھا لیکن یہ تینوں قوانین تمام ہندوستان کے لیے بنائے گئے تھے۔ ان کی بدولت ملک کو وہ نعمت ملی جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہ ہوئی تھی۔ یہ نعمت تمام ذاتوں اور فرقوں کے لیے یکساں دیوانی و فوجداری قوانین تھے۔ اسی زمانے کے قریب 1861ءمیں پریزیڈنسی شہروں کے اندر ”ہائی کورٹس آف جسٹس“ (عدالتہائے انصاف) قائم کی گئیں۔

 لارڈ کیننگ نے ایک اور اصلاح یہ کی کہ گورنر جنرل کی قانونی کونسل میں جو تمام ہندوستان کے لیے نئے قانون وضع اور پرانے قوانین کی ترمیم کیا کرتی ہے ہندوستانی ممبروں کو بھی جگہ دی۔ یہ حکومت ہند میں ہندوستانیوں کو حصہ دیئے جانے کی طرف پہلا قدم تھا۔ ان ممبروں کو بعد میں ہندوستانی رعایا اپنے قائم مقاموں کے طور پر منتخب کرنے لگی۔ ہندو ممبر ہندوﺅں کے اور مسلمان ممبر مسلمانوں کے قائم مقام ہوئے۔ اس سے اگلے 50 برس میں دیگر وائسرائے صاحبان بھی اسی سمت میں بڑھتے چلے گئے ہیں۔ اب ہر صوبے میں اس کی اپنی قانونی کونسل اور اپنے ہندوستانی ممبر ہیں۔ اس لیے گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر محض تاریکی میں نہیں بلکہ ان ممبروں کی معلومات اور مشورے کی روشنی میں کام کرتے ہیں۔ یہ ممبر گورنمنٹ کو بتا سکتے ہیں کہ کوئی قانون رعایا کے لیے مفید ہو گا یا مضر۔ اگر کسی مسودۂ قانون کو مناسب اور مفید سمجھا جاتا ہے تو وہ کونسل میں پاس ہو کر ملک کا قانون ہو جاتا ہے لیکن اگر خراب یا ناکارہ ثابت ہوتا ہے تو اس کے مسودہ میں ترمیم کر کے تمام نقائص دور کر دیئے جاتے ہیں اور اس طرح اس قانون کو اچھا اور مفید بنا لیا جاتا ہے یا اگر یہ ناممکن نظر آتا ہے تو بالکل ہی خارج کر دیا جاتا ہے۔

 اصلاحیں بتدریج کیوں ہونی چاہیں۔ ان اور دیگر اصلاحوں میں جو کہ تجویز ہوئی ہیں یا وقتاً فوقتاً پاس کی گئیں۔ حکومت ہند کو نہایت محتاط رہنا پڑا اور پھونک پھونک کر آگے قدم رکھنا پڑا۔ کیونکہ اول تو شروع شروع میں کوئی شخص بھی یہ پیشین گوئی نہیں کر سکتا کہ نئے قواعد یا تبدیلیاں رعایا کے لیے مفید ہونگی یا نہیں۔ قدیم زمانے میں ہندوستان کے بہت سے ملکوں میں بہت سے حکمران تھے۔ ہر حکمران اپنی منشا ءکے بہترین طریق پر حکومت کیا کرتا تھا۔ ہر ملک کے قوانین اور رسم و رواج بھی الگ الگ تھے۔ یکساں نہ تھے۔ ایک ملک میں جو بات جائز اور حسب قانون تھی دوسرے ملک میں وہی ناجائز اور خلاف قانون خیال کی جاتی تھی لیکن اب ایک گورنمنٹ عالیہ قائم ہو گئی تھی اس لیے یہ ضروری تھا کہ ایسے قواعد اور قوانین وضع کیے جائیں جو تمام ملک کے لیے یکساں طور پر موزوں اور مفید ہوں۔ گورنمنٹ کی یہ خواہش تھی کہ کسی قانون یا رواج میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہ کی جائے جب تک کہ وہ صحیح طور پر رعایا کے حق میں مضر اور نقصان دہ ثابت نہ ہو۔ مثلاً ایک ایسی رسم ہندو بیواﺅں کا ستی ہونا اور دوسری معصوم شیر خوار لڑکیوں کا مارا جانا تھا۔ دوسرے گورنمنٹ کی یہ خواہش تھی کہ کوئی ایسا قانون نہ وضع کیا جائے جو تمام لوگوں کے لیے یکساں طور پر مفید نہ ہو، یا جس کے لیے عوام تیار نہ ہوں، یا جسے کچھ نئی آفت سمجھ کر وہ خوف زدہ ہو جائیں۔ کیونکہ ہندوستان کے باشندے اپنے اپنے قدیم رسم و رواج، قدیم طریقوں اور قدیم چیزوں کو نہایت پسند کرتے ہیں جو ان کے اور ان کے بزرگوں کے وقت سے زیر عمل چلی آ رہی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ 1857ءکے سپاہیوں کے عظیم الشان بلوے کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لارڈ ڈلہوزی نے ہند میں بہت سی نئی نئی چیزیں مثلاً ریل، تار، ڈاک کے ارزاں ٹکٹ، انگریزی پڑھانے کے سکول اور ہسپتال ایک دم جاری کر دیئے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ سب چیزیں نہایت اچھی اور مفید تھیں اور اب ہر شخص ان کے فوائد کو جانتا اور مانتا ہے لیکن پھر بھی اس وقت یہ بالکل نئی تھیں اور اس لیے اکثر ہندوستانیوں کے دلوں میں ان کی طرف سے خوف پیدا ہو گیا تھا۔

 نیز اصلاحات کے متعلق غور کرنے اور ایسے قواعد وضع کرتے ہوئے جو اگرچہ انگلستان میں عام ہیں مگر ہندوستان میں بالکل نئے ہیں گورنمنٹ کو 2باتیں زیر نظر رکھنی پڑتی ہیں۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -