کتاب ”اُم النبی ﷺ“

  کتاب ”اُم النبی ﷺ“
  کتاب ”اُم النبی ﷺ“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 یہ کتاب"اُم النبیﷺ" نبی آخرالزمان حضر ت محمدؐ کے عظیم والدین اور ان کے اعلیٰ حسب اور نسب کے حوالے سے ہے۔ جسے مصر کی ایک خاتون ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن  بنت شاطی نے نہایت محبت، تحقیق اور دل جمعی کے ساتھ کچھ اس طرح تحریر کیا ہے کہ نبی کریم ؐ کو اس کتاب کی عظمت کی خبر پہنچ گئی۔ ہندوستان کی ایک عظیم برگزیدہ شخصیت جوسعودی حکومت میں کسی اعلی منصب پر فائز تھی، ایک رات ان کے خواب میں آقائے دو جہاں محمدؐ  تشریف لائے اور آپؐ  نے انہیں مصر کی ایک لائبریر ی دکھائی جس میں کتاب اُم النبیؐ  موجود تھی، اس کتاب کی نشاندھی فرماتے ہوئے نبی کریم ؐنے فرمایا، یہ کتاب حاصل کرکے کسی ذریعے سے پاکستان بھجواؤ، جہاں آپؐ کے چاہنے والے اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں گے، یہ اس لیے ضروری ہے کہ میرے(آپؐ) والدین کے بارے میں لوگوں کے عقائد خراب ہو رہے ہیں۔ نبی کریمؐ کے حکم پر ہندوستان کی اس گمنام شخصیت نے مصر کا سفر اختیار کیا اور اس لائبریری تک رسائی حاصل کر کے آقا کریمؐ نے کی بتائی ہوئی کتاب وہاں سے حاصل کر کے واپس مدینہ شریف آگئے۔روضہ رسولؐ پر وہاں ان کی ملاقات مولانا عبدالواحد قادری مدنی صاحب سے ہوگئی جو گزشتہ25سال سے روضہ رسولؐ کی خدمت پر مامور رہے۔ وہ کتاب یہ کہتے ہوئے ان کے سپرد کردی گئی کہ وہ اس عظیم کتاب کولے کر نہ صرف پاکستان جائیں،بلکہ اس عظیم الشان کتاب کا اردو ترجمہ بھی کروا کے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک پہنچائیں، انہوں نے کراچی پہنچ کر یہ کتاب ترجمے کے لیے محمد اصغر صاحب کے سپرد کر دی، جنہوں نے اس عظیم کتاب کا اردو زبان میں ترجمہ کر دیا۔بیشک یہ انتہائی مشکل کام تھا لیکن نبی کریمؐ کی خصوصی عنایت سے یہ مشکل ترین مرحلہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس اردو ترجمے کو کتابی شکل میں شائع کرنے کی سعادت لاہور کے جناب فاروق عزمی کے حصے میں آئی، جنہوں نے نہایت محنت اور توجہ سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاکر اپنی آخرت بھی سنوار لی۔

اس کتاب پر پہلا کالم لکھنے کا اعزاز بلاشبہ مجھے حاصل ہو ا۔اللہ کے نبی حضرت محمدؐ کی خواہش ہے کہ اس کتاب کا پاکستان کی تمام زبانوں (پنجابی، سرائیکی، سندھی، بلوچی،پشتو) میں ترجمہ کرکے اسے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک پہنچایا جائے تاکہ آپؐ کے والدین اور ان کے اعلی حسب نسب کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شناسائی حاصل ہوسکے۔ چلتے چلتے میں اس عظیم الشان کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن کا مختصر تعارف یہاں کروا رہاہوں -:ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن 1913ء میں مصر کے روایتوں میں جکڑے ہوئے ماحول میں پیدا ہوئیں، مگر انہوں نے اپنی زندگی کے دوران شاندار تعلیمی و تحقیقی کامیابیاں حاصل کیں اور 3 دسمبر1998ء کو قاہرہ میں وفات پائی۔ ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن نے ایک سو سے زائد کتابیں اور ادبی شہ پارے اور بے شمار مضامین و مقالات اپنی یادگار چھوڑے۔ وہ ادبی دنیا میں ”بنت الشاطئی“ کے نام سے معروف ہوئیں۔ ڈاکٹر عائشہ کی پرورش اور تعلیم و تربیت خالصتا اسلامی ماحول میں ہوئی۔اسلامی تعلیمات،قرآن مجید اور اس کی تفسیر، حدیث نبویؐ اور عربی زبان و ادب کا حصول اور بعد میں دین کی نشر و اشاعت اور پرچار…… جس کا علم انہوں نے بڑی محنت سے حاصل کیا تھا، ان کی زندگی کا مرکز و محور بن گئے۔ ستر سال سے زیادہ عرصے تک ڈاکٹر عائشہ کی زندگی قرآن مجید کے گرد گھومتی رہی۔وہ  اپنی زندگی کے اہم واقعات سے کچھ اس طرح پردہ اٹھاتی ہیں۔ ”کہ ابھی میں دس برس کی عمر کو نہیں پہنچی تھی کہ میں نے ایک رات خواب میں خود کو ایک سکول میں بیٹھے دیکھا۔ ایک فرشتہ  آسمان سے اتر کر کھڑکی کے پاس آیا۔ ایک سبز رنگ کا تھیلا میرے سپرد کرکے آسمان کی طرف پرواز کر گیا۔ میں نے وہ تھیلا کھولا تو اس میں المصحف (قرآن حکیم) کا ایک نسخہ لپٹا ہوا تھا جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ 


خواب سے آنکھ کھلی تو میں نے محسوس کیا کہ میری زندگی قرآن حکیم سے ہمیشہ وابستہ رہے گی…… کہ یہی وہ عطیہ ہے جو میرے لیے خواب میں آسمان سے بھیجا گیا“۔قرآن مجید کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر عائشہ نے1929ء میں طالبات کی تدریس کی سند بطور بیرونی طالبہ حاصل کی اور پہلی پوزیشن کی حقدار ٹھہریں۔ یہ ان کی پر جوش علمی زندگی کی کٹھن گزر گاہ کا پہلا بنیادی پتھر (سنگ میل) تھا۔1934ء  میں انہوں نے ثانوی تعلیم کا ادبیاتی سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اس وقت ان کی عمر اکیس برس تھی۔ 1939ء ء میں انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی ادب میں بی اے کی ڈگری اور دو سال بعد ایم اے ”ادبیات“ کی ڈگری حاصل کی،وہ ابھی چالیس برس کی نہیں ہوئی تھیں کہ ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ سند سے نوازی گئیں۔ تعلیم و تدریس کا آغاز ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن نے جامعہ قاہرہ کے کلیہئ فنون (Faculty of Arts)میں عربی ادب کی ریڈر (ایسوسی ایٹ پروفیسر) کی حیثیت سے کیا ا ور اس کے بعد مصر اور مصر سے باہر کئی جامعات میں اعلیٰ تدریسی عہدوں پر فائز رہیں۔ مثلاً پروفیسر شعبہ عربی عین الشمس یونیورسٹی (۲۶۹۱ء) پروفیسر تفسیر و تعلیمات علیا کلیہ شریعہ جامعہ القروبین مراکش (1970ء) اور پروفیسر ادبیات عربی موصل یونیورسٹی عراق۔ طویل تدریسی زندگی کے دوران وہ اپنے طبع زاد تحقیقی و علمی مشاغل کے علاوہ یونیورسٹی کے سو سے زیادہ طلبہ کے تحقیقی کاموں کی نگرانی بھی کرتی رہیں۔ ان کی علمی فضیلت اور تعلیمی میدان میں ان کی شاندار مساعی کو فقط ان کے تلامذہ، رفقاء کار اور تعلیم وصحافت سے تعلق رکھنے والے زعماء ہی نے خراج تحسین پیش نہیں کیا، بلکہ اس کی عکاسی اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ انہیں حکومتی سطح پر مصر کا State Award ملک فیصل انعام برائے خدمت اسلام (درجہ اول) اور کویت کا انعام برائے ترقی عطا کیا گیا۔بنت الشاطئی کی چند معروف تصانیف یہ ہیں:(1)القرآن والتفسیر العصری (2)التفسیری البیانی القرآن الکریم(3)الاعجاز البیان فی القرآن۔ مقال فی الانسان۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ ڈاکٹر عائشہ کے بارے میں بہت سے مقالات لکھے گئے جن میں ”غیر فانی شخصیات کا مرقع“، ”افکاراسلامی کی ایک بہادر (پہل کار) محقق“ اور ”ایک مصنفہ جس نے قرآن کے سائے میں زندگی گزاری“ جیسے اہم مضامین شامل ہیں۔ ان کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اپنے مخصوص تحقیقی میدان……قرآن، تفسیر اور سنت نبوی ؐ …… میں ان کا کتنا بلند مقام تھا اور انہیں اہل علم و فضل کے ہاں کس قدر عزت و احترام کی نظروں  سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ گفتگو  صرف اس مصنفہ کے حوالے سے تھی۔ عظیم الشان کتاب کے حوالے سے بات پھر کسی کالم میں ہوگی۔ ان شاء اللہ 

مزید :

رائے -کالم -