ماﺅنٹ بیٹن کی سازش سے پنجاب میں فسادات ہوئے

ماﺅنٹ بیٹن کی سازش سے پنجاب میں فسادات ہوئے

  

آل انڈیا مسلم لیگ کو قیادت ایک نڈر، دیانتدار مسلمانوں کے خیر خواہ لیڈر محمد علی جناح ؒ کی حاصل تھی، جو کسی صورت میں نہ خریدا جا سکا، نہ جھکایا جا سکا۔ محمد علی جناح ؒ کے جواہر اخلاق اِس قدر با اثر تھے کہ انگریز کی بڑی عمارت، ہندو کی چالاکی محمد علی جناح ؒ کو اپنے مشن سے ہٹا نہ سکی۔ مسلم قوم کی قیادت ان کی پہچان اور ترجمان بن گئی۔ محمد علی جناح ؒ کا سیاسی وقار اتنا بلند ہو گیا کہ اُس کی روشنی انگلستان کے محلات تک جانے لگی۔ وہ دانا تھے، شناس منزل کو حقیقت تک لے گئے، تاہم انگریز نے بھی اپنے سازشی طرز فکر کو اس طرح تقسیم ہند کے وقت استعمال کیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو بڑے نقصان اُٹھانے پڑے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قدر مالی وجانی نقصان اس طرز کا قتل و غارت کسی ملک میں نہیں ہوا، جس طرح پنجاب کی تقسیم سے ہوا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے رحمی سے قتل ہوئے، مہاجر ہوئے، اپنی املاک، اپنی زمین اور گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ بے شمار نوجوان لڑکیاں اپنی عصمت کھو بیٹھیں۔

تقسیم پنجاب کی سازش نے پنجاب کے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ پنجاب کے اُس وقت کے انگریز گورنر جنکن نے اپنا رویہ سازشیوں کے خلاف کھلا رکھا۔ تقسیم پنجاب کے وقت ہندوﺅں، سکھوں کی مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھ گئی اور پنجاب میں فسادات شروع ہو گئے۔ سکھ بھی مسلمانوں کے خلاف بھڑک اُٹھے۔ انہوں نے کرپان، برچھے مسلمانوں پر استعمال کرنے شروع کر دیئے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے ماﺅنٹ بیٹن کو آگاہ کیا۔ اس پر جنکن گورنر نے پنجاب کے سی آئی ڈی کیپٹن ساویج کو 15اگست1947ءکو لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے پاس رپورٹ کے ساتھ بھیجا۔ اس آفیسر نے سارے پنجاب کے حالات ماﺅنٹ بیٹن، قائداعظم محمد علی جناح ؒ ، لیاقت علی خان، سردار پٹیل کی موجودگی میں کھل کر بتائے۔ سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ سکھ فوجیوں کے ذریعے بھاری تعداد میں اسلحہ اکٹھا کر رہا ہے اور پرنسلی آزاد ریاستوں میں جمع کیا جا رہا ہے اور تین چار بڑے بڑے سکھ لیڈروں نے منصوبہ تیار کیا کہ جو ریل گاڑی مسلمانوں کو لے کر پاکستان جائے گی، اسے اُڑا دیا جائے گا۔ ساتھ خبر سنائی کہ محمد علی جناح ؒ کو آزادی والے روز 14،15 اگست1947ءکو کراچی میں قتل کر دیا جائے گا۔ وہ ایسے بم بھی تیار کر چکا ہے، جس سے پاکستان کے علاقوں میں دریاﺅں کے ہیڈ ورکس اُڑا دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کیپٹن ساویج کے پاس مزید نسخے تھے، جو مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوں گے۔ میٹنگ میں کھل کر راز بتائے۔

قائداعظم محمد علی جناح ؒ صدر آل انڈیا مسلم لیگ اور مسلمانوں کے رہبر نے وائسرائے ہند ماﺅنٹ بیٹن سے کہا کہ سکھوں کے سرکردہ لیڈروں کو حراست میں لیا جائے اور امن کے لئے اقدام کئے جائیں۔ سردار پٹیل نے جو میٹنگ میں موجود تھے، تارا سنگھ اور دیگر سرکردہ لیڈروں کی حراست کی مخالفت میں دلائل دیئے۔ تاہم اس فیصلے پر اتفاق ہوا کہ پنجاب باﺅنڈری کمیشن ایوارڈ کے اجلاس کے موقع پر جو 10اگست 1947ءکو ہونا ہے، سرکردہ لیڈروں کو سرکار ہند کا مہمان بنایا جائے گا۔ ماﺅنٹ بیٹن نے اتفاق کرتے ہوئے پنجاب کے گورنر جنکن کو حکم دیا کہ باﺅنڈری کمیشن کے اعلان کے وقت ان حضرات کو سرکاری حراست میں لیا جائے، مگر مشرقی پنجاب کے نامزد گورنر ٹرائی ویدی نے سردار پٹیل کی اس رائے کے ساتھ اتفاق نہیں کیا کہ سکھ لیڈروں کو حراست میں لیا جائے۔ رپورٹس اور ایسے حالات کے بعد وائسرائے ہند لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے جارج ایبل کو قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے پاس روانہ کیا کہ اُن کو نئے حالات سے آگاہ کیا جائے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے تمام رپورٹس کو سنا، مگر اپنے اسی موقف پر رہے کہ امن کے لئے ایسے اقدام ضروری ہیں۔ باﺅنڈری کمیشن کے اعلان کے وقت سکھ لیڈروں کو حراست میں لیا جائے اور اسلحہ کو قبضہ میں لیا جائے۔

گویا مسلمانوں کے قتل و غارت کی سازش کا علم ماﺅنٹ بیٹن کو تھا، یا وہ اس سازش میں حصے دار تھا۔ وائسرائے ہند باﺅنڈری کمیشن کے اعلان کو آگے کرتا گیا، حالانکہ اعلان کی رپورٹ ماﺅنٹ بیٹن کے پاس7 اگست کو پہنچ چکی تھی۔ اس طرح قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو باﺅنڈری کمیشن کی رپورٹ کا علم تھا۔ جارج ایبل کی رائے بھی یہی تھی کہ باﺅنڈری کمیشن کا اعلان جلد ہو جائے تاکہ اپنی اپنی فوجیں اپنی اپنی جگہ پر پہلے ہی پہنچ جائیں تاکہ ٹرانسفر آف پاور کے وقت وہ اپنی اپنی پوزیشن پر ہوں۔ وائسرائے نے اس ایوارڈ کے اعلان کو خفیہ رکھا۔

اصل میں ماﺅنٹ بیٹن پنڈت جواہر لعل نہرو کے جال میں تھا۔ نہرو کی خواہش تھی کہ گورداس پور، فیروز پور ہیڈ ورکس بھارت کو چلا جائے، جہاں سے زمینی راستہ بھارتی فوجوں کے لئے کشمیر کو نکل سکے۔ اس سازش کو مکمل کرنے کے لئے وائسرائے ہند نے اپنے سٹاف آفیسر اے کیمبل جانس اور کرسٹی کو چیئرمین سی آر کے پاس روانہ کیا کہ ایوارڈ کا اعلان اس وقت تک نہ کیا جائے، جب تک ٹرانسفر آف پاور اور آزادی کا اعلان نہ کیا جائے۔ ریڈ کلف کسی نہ کسی طرح وائسرائے کے ساتھ مواقف ہو گئے کہ باﺅنڈری کمیشن کا اعلان 13اگست کو کراچی میں کیا جائے گا۔

باﺅنڈری کمیشن کے اعلان کو17اگست تک لے جایا گیا، جس سے قتل و غارت کا آغاز ہو چکا تھا، لہٰذا وائسرائے ہند، سکھ لیڈر، کانگریسی لیڈرز میں اتفاق کی بدولت تاریخ میں سب سے بڑی خون کی ہولی کھیلی گئی اور لاکھوں کی تعداد میں انسان تڑپ تڑپ کر ہمیشہ کی نیند سو گئے۔ مسلمانوں کی املاک کو تباہ کیا گیا۔ عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور لاکھوںکی تعداد میں لوگ انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں پاکستان آ سکے۔ امرتسر، بٹالہ، انبالہ کے ریلوے سٹیشنوں پر لاشوںکے انبار لگے تھے۔ تعفن اور بدبو سے پرندوں نے اپنا رُخ بدل لیا۔ بے گور وکفن لاشے درندوں کی خوراک بنے۔ دریاﺅں کے پانی میں خون شامل ہو گیا۔ پانی سر خ بہنے لگا، بارشیں ہوئیں، گھروں کی چھتوں سے پرنالے خون کا پانی برسانے لگے۔ لوگ اپنے گاﺅں، قصبے ، اپنے قبرستان، مسجدوں، محلوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ہندوﺅں اور سکھوں نے وہ ہتھکنڈے مسلمان مردوں اور عورتوں کے خلاف استعمال کئے کہ کوئی ان کا پُرسان حال نہ تھا۔ ان لوگوں نے آزادی کو جنم اپنے خون و اپنی آبرو اور اپنی عزت کے سہارا دیا۔      ٭

مزید :

کالم -