تمباکونوشی کے مسائل اور حل

تمباکونوشی کے مسائل اور حل
تمباکونوشی کے مسائل اور حل

  



تمباکو نوشی عالمی صحت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف ترقی یافتہ ممالک کو متاثر کررہی ہے بلکہ ترقی پذیر غریب اور تیسری دنیا کے ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہےں۔ اگرچہ اس موضوع پر لگاتار جاری آگہی کی بدولت صورت حال کچھ بہتر ہورہی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق دنیا کی چوتھائی آبادی میں اب بھی تمباکو کا کسی نہ کسی شکل میںاستعمال جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال تقریباً پچاس لاکھ اموات ہوتی ہےں، جن میں سے ستر فیصد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتا ہے۔

تمباکو کی تمام اقسام، جیسا کہ سگریٹ (لائٹ یا فلٹر والی سمیت)، سگار، حقہ، نوجوانوں میں مشہور شیشہ اور تمام چبانے والے تمباکوپان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ، کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق نکوٹین سمیت تقریباً چار ہزار زہریلے کیمیکل کے ساتھ ساتھ سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے ایک فرد میں بہت سی بیماریاں لاحق ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ان بیماریوں میں کینسر، دل اور پھیپھڑوں کے عارضے اور زچگی میں ہونے والی پیچیدگیاں قابل ذکر ہےں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی شرح اموات تمباکوشی نہ کرنے والوں سے دگنی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تمباکو نوشی کا جتنا استعمال زیادہ ہوگا، اتنا ہی کسی فرد کے تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوگا۔ اس لئے بہتر ہے کہ تمباکونوشی کی عادت کو فوری طور پر ترک کیا جائے۔ یہ ہمارا روزانہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک سگریٹ نوش کو زندگی کے ساتھ بہت سے سمجھوتے کرنے پڑتے ہےں۔ جیسا کہ رات کو کھانسی کی وجہ سے سو نہ سکنا، سٹیمنا کی کمی، سانس کا جلدی چڑھ جانا وغیرہ۔

پھیپھڑوں کے کینسرکی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ نوے فیصد مردوں اور اسّی فیصد خواتین کو ہونے والے پھیپھڑوں کے کینسرکی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہی ہوتی ہے۔ تمباکو،پھیپھڑوں کو متاثر کرنے کے ساتھ منہ، گلے، خوراک کی نالی، معدہ، لبلبہ، مثانہ اور گردوں کے کینسر کا باعث بھی ہے۔ دل کی تقریباً بیس فیصد بیماریوں کا تعلق تمباکو نوشی سے ہے۔ سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں سگریٹ پینے والے مردوں میں تین گنا اور خواتین میں چھ گنا ہارٹ اٹیک ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی مرد وخواتین کے تولیدی نظام پر بھی یکساں طور پر اثر انداز ہوتی ہے جبکہ جلدپر جھریاں پڑنا اور معدہ کا السر عام باتیں ہےں۔ سگریٹ کے دھوئیں میں شامل کاربن مونو آکسائیڈ کی وجہ سے ہیموگلوبن کی آکسیجن کو لے جانے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔وہ افراد جو سگریٹ نہیں پےتے خصوصاً خواتین اور بچے، اگر وہ بھی سگریٹ کے ماحول میں موجود ہوں تو اُن کو بھی سگریٹ نوشی سے ہونے والی بیماریاں ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سیکنڈ ہینڈ سموکنگ بچوں کے لئے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے بچوں میں ناک، کان اور سانس کی بیماریاں جیسا کہ دمہ اور برونکائیٹس کا شدید خطرہ ہوجاتا ہے۔صحت کے علاوہ سگریٹ کی وجہ سے لگنے والی آگ، گھریلو بجٹ پر سگریٹ کے خرچہ کا دباو¿ بھی اس کے نقصانات میں سے ہےں۔

تمباکو نوشی کا مسئلے کا واحد حل ترکِ تمباکو نوشی ہے یعنی تمباکو نوشی کی عادت کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینا۔ اس کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہوتا ہے۔ تمباکو نوش اس بری عادت کو ترک کرنے کے دوران مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ شروع کے مرحلہ میں ”میں نہیں چھوڑسکتا“ کے بعد ”چھوڑنے کے بارے میں سوچتا ہوں“ کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد تمباکو نوش عملی طور پر تمباکو کا استعمال ترک کردیتا ہے لیکن یہ تکلیف دہ عمل ہے ، پھر بھی تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کی تکلیف سے بہت ہی کم تکلیف دہ ہے۔ اگر اس مرحلہ کو کامیابی سے گزار لیں تو تمباکو نوشی سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جاتی ہے۔ترکِ تمباکو نوشی سے ہر عمر کے مرد و خواتین کی صحت پر فوری کے ساتھ ساتھ عمر بھر کے لئے بہتری آنا شروع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی ترک کردینے سے کینسر ہونے کا خطرہ ڈیڑھ گنا کم اور دیگر بیماریاں ہونے کا بہت ہی کم ہوجاتا ہے۔ تمباکونوشی کو چھوڑنے کے پانچ سال کے اندر پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ کم ہوتا چلا جاتا ہے، لیکن پھر بھی سگریٹ نہ پینے والے کی نسبت سگریٹ چھوڑ دینے والے کو اس بیماری کا خطرہ زیادہ رہتا ہے، جبکہ دل کی بیماری سے موت کے امکانات بھی سال میں پچاس فیصد کم ہوجاتے ہےںاور گزرتے وقت کے ساتھ یہ خطرہ اورکم ہوجاتا ہے اور دوسال میں صرف اتنا ہی خطرہ رہ جاتا ہے جتنا ایک سگریٹ نہ پینے والے کو ہوتا ہے۔اس کے علاوہ دانتوں اور مسوڑھوں کی حالت بہتر ہو جاتی ہے اور جسم اور سانس میں سے سگریٹ کی بدبو بھی نہیں آتی۔

نکوٹین کے نشہ کے زیر اثر سگریٹ نوش کا سگریٹ نوشی کو چھوڑنا بہت مشکل ہوتاہے۔ نکوٹین سگریٹ نوش کی نفسیات پر اثر ڈالتی ہے اور نکوٹین کی جسم میں موجودگی سے سگریٹ نوش موڈ میں تبدیلی محسوس کرتا ہے جبکہ نکوٹین کی کمی کی وجہ سے ذہنی طور پر اضطراب پیدا ہوتا ہے اور یہ کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ سگریٹ چھوڑدینے کے بعد پہلا ہفتہ بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اگلے دو ماہ یہ جسمانی و ذہنی اضطراب اورنکوٹین کی طلب کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کی عام علامات میں سردرد، متلی، کھانسی، بھوک، کمزوری، بے آرامی اور نیند نہ آنے کے ساتھ ساتھ بے چینی اور ڈپریشن ہےں۔ بہت سے مریض پیٹ کی خرابی اور موٹاپے کی شکایت بھی کرتے ہےں لیکن یہ سب وقتی ہوتا ہے۔

سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لئے انسان کو یہ سوچنا چاہئے کہ یہ عادت نہیں ہے بلکہ ایک نشہ ہے جس کے بہت نقصانات ہےں۔ ایک بار فیصلہ کرلینے کے بعد تمباکونوشی کی تاریخ طے کرلینی چاہئے۔ اپنا تمام تمباکو کا سٹاک پھینک دیں اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں کو بتائیں کہ وہ اس سلسہ میں آپ کی مدد کریں۔ دوسرے تمباکو نوش افراد کے ساتھ ملنا جلنا کم کردیں۔ جسم میں نکوٹین کی طلب سے آپ کا کیا ہوا فیصلہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس لئے ایک بھی سگریٹ نہ پئیں۔ تمباکو نوشی کے علاوہ کوئی بھی دوسرا نشہ نہ کریں جیسا کہ شراب وغیرہ۔ مسلمانوں کے لئے رمضان کا مہینہ ترکِ تمباکونوشی کے لئے بہترین ہے۔ ورزش، زیادہ پانی پینے اور تازہ پھل کھاتے رہیں۔ عالمی دن برائے انسداد تمباکو کے موقع پر آج کے دن اپنے اور اپنی فیملی کے لئے تمباکو نوشی چھوڑنے کا فیصلہ ضرور کرلیںاور پھر اپنے فیصلہ پر شرمندہ نہ ہوں، کیونکہ یہ آپ کی فیملی کے لئے بہترین تحفہ ہوگا اور یہ آپ کی زندگی پر بھی مثبت اثر ڈالے گا۔

مزید : کالم