امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (3)

امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (3)
امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (3)

  



پولیس اصلاحات کے ضمن میں سب سے ضروری تھانوں کے اندر کے ماحول کی تبدیلی ہے جو اس وقت ہولناک ہے۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے وہاں کا رُخ کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ جہاں لوگوں کی شکایات کا اندراج ہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو، وہاں اُن کو انصاف کیسے فراہم ہو سکتا ہے؟ اس سلسلے میں چند سال پیشتر ایک تجویز زیر غور تھی کہ مقدمات کا اندراج تھانوں کی بجائے نزدیکی پوسٹ آفسوں میں کیا جائے۔ اس تجویز پر عمل درآمد کے لئے ابھی تک اقدامات نہیں اُٹھائے گئے اگر اس کو بروئے کار لایا جائے تو مقدمے کے اندراج کے ضمن میں کسی آفیسر کی صوابدید کا محتاج نہ ہونا پڑے، شکایات ڈاک کے ذریعے وصول کی جائیں اور اندراج مقدمہ کے بعد فائل برائے تفتیش تھانے میں بھجوا دی جائے، کیونکہ جب تک اندراج مقدمہ کے لئے لوگ پولیس کے محتاج ہوں گے، تب تک اُن کی شکایات کا ازالہ ناممکن ہے، اس لئے مقدمہ رجسٹرڈ ہونے کے بعد لوگوں کی تکالیف کا ایک اہم مرحلہ عبور ہو سکتا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش کا مرحلہ جو نہایت ہی اہم ہے، شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت کسی بھی مقدمے کے مدعی کے لئے تفتیش کے مراحل سے گزرنا اس قدر مشکل ہے کہ اس کی تفصیل درج کرنے کا قلم کو یارا نہیں۔

اس وقت پولیس کا نظام بہت حد تک اصلاح طلب ہے کہ عوام کے مصائب دور کرنے کے لئے وہ خدمت انجام نہیں دے رہا، جو آزاد مُلک میں ضروری ہے۔ مقدمے کا اندراج اور تفتیش کرنے والی ایجنسی اس وقت ایک ہی ہے، جس نے ساری خرابیوں کو جنم دیا ہے۔ امن و امان کا قیام آزاد ممالک کی پولیس کے لئے اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، کیونکہ شہریوں کو پُرامن معاشرے کی فراہمی مملکت کا اولین فرض ہے۔ آج کل تفتیش کے حوالے سے جو طریقے مروج ہیں، وہ اس قدر فرسودہ ہیں کہ اُن کا استعمال موجود ہ ترقی یافتہ دور میں کسی معاشرے میں زیب نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں تفتیشی عملہ ناخواندہ، تساہل کا شکار اور مختلف ڈیوٹیوں کے بوجھ تلے دَبا ہوا ہوتا ہے اور مقدمہ درج ہونے کے بعد اس کی اصلیت تک پہنچنے کے لئے ہمارے پولیس افسران کے پاس نہ تو وقت ہوتا ہے اور نہ وہ صلاحیت جو اسے کسی نتیجے تک پہنچا سکے۔ صرف روایتی انداز سے تحقیق کی جاتی ہے، اسے سائنٹیفک بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا، کیونکہ ہمارے تفتیشی عملے میں اس ضمن میں صلاحیتوں کی کمی ہے۔ اگر تفتیش جدید خطوط پر نہیں ہو گی اور پورے انہماک سے نہیں کی جائے گی تو مجرمان کی سرکوبی کیسے ہو گی؟ اس لئے ضروری ہے کہ تفتیش جیسے اہم کام سے نمٹنے کے لئے ایک الگ شعبہ کی تشکیل عمل میں لائی جائے۔

واچ اینڈ وارڈ، یعنی روائتی پولیس کا انتظام اور تحقیق کے شعبے کے لئے افسران کا انتخاب الگ الگ کیڈرز میں سے کیا جائے۔ دونوں شعبوں کا عملہ ایک الگ غیر مربوط نظام کے ذریعہ بھرتی کیا جائے، جس کے لئے مختلف تعلیمی قابلیت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دونوں شعبہ جات میں بھرتی، ٹریننگ، سروس کے لئے قواعد و ضوابط اور حالات کار مختلف ہونے چاہئیں، کیونکہ دونوں کی منزل بالکل مختلف ہے۔ یہ دو مختلف محکمہ جات دُنیا کے تقریباً ہر مُلک میں رائج ہیں، اس لئے ہمارے مُلک کی روز بروز دگرگوں ہوتی ہوئی نظم و ضبط کی حالت اس بات کی شدت سے متقاضی ہے کہ دونوں شعبہ جات کو الگ کر دیا جائے۔ دونوں کے قواعد و ضوابط بھی الگ مرتب کئے جائیں، تاکہ ہر ایک شعبے کی کارکردگی بڑھائی جائے۔ امن و امان میں بہتری اسی وقت ممکن ہے، جب عام پولیس کو لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کا انتظام دیا جائے اور ملزمان کی سرکوبی اور ان تک پہنچنے کے لئے تحقیق کے نئے نظام کو مرتب کیا جائے۔ امن و امان قائم کرنے والے شعبے کا سربراہ عام پولیس میں سے لیا جائے، جس کی اس فیلڈ میں تجربے سے بھرپور سروس موجود ہو۔

اس محکمے میں کام کرنے والے ماتحت عملے کا انتخاب بھی اسی ضرورت کے تحت عمل میں لایا جائے اور اس کی ٹریننگ کا انتظام بھی انہی خطوط پر کیا جائے۔ ان دونوں محکمہ جات کو الگ کرنے کے بعد ایک نہایت ہی ضروری اصلاح اور درکار ہے۔ پراسیکیوشن برانچ کو آزاد ماحول میں رکھا جائے اور اس کا کیڈر بالکل الگ تشکیل دیا جائے۔ کہنے کو تو پراسیکیوشن برانچ آج بھی آزاد ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اس کی مکمل آزادی کا تصور اسی وقت کیا جا سکتا ہے، جب اس کا تعلق عام پولیس افسران کے ساتھ نہ ہو اور اس کا انتظام و انصرام عام پولیس کے زیرنگیں نہ ہو۔ پراسیکیویشن برانچ کا آزاد اور الگ تشخص بہت ضروری ہے، اس کے لئے یہ امر بھی ضروری ہے کہ اس کے لئے بھرتی کے قواعد میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ قانون کے پیشے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو اس محکمے میں کھپایا جائے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے ملزمان کو عدالتوں میں بھجوا کر سزائیں دلوائی جائیں، تاکہ مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھنے والے افراد قانون کی گرفت سے بچ نہ سکیں۔

جب قانون کا ادراک رکھنے والے لوگوں کے ذریعے اس شعبے کو چلایا جائے گا، تو ملزمان کو سزائیں دلانے میں آسانی ہوگی اور جتنے زیادہ لوگ سزائیں پائیں گے، اتنا ہی معاشرے میں جرم کرنے کی حوصلہ شکنی ہو گی اور آخر کار امن و آشتی کے لئے فضا سازگار ہوگی۔ موجودہ انتظام کے تحت نظم و نسق کے ضمن میں تینوں شعبوں کا تعلق پولیس سے ہی ہے، اس لئے ان کے افسران کی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں اور وہ امن و امان کا وہ نتیجہ فراہم نہیں کر رہے، جو نہایت ضروری ہے۔ جب تک پولیس کی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے کی گئی تفتیش کو پراسیکیوشن برانچ آزادی سے جانچ نہیں سکے گی، اس وقت تک ناقص تفتیش سے بھرپور مقدمات عدالت میں جاتے رہیں گے،جو جوڈیشل ٹیسٹ پر پورے نہ اُترنے کی بنا پر ناکامی سے دوچار ہوتے رہیں گے۔ اور امن و امان تہہ و بالا کرنے اور ملزمان کیفرکردار تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ان حالات میں امن و امان میں کیسے بہتری آ سکے گی؟ جب پراسیکیوشن برانچ، بالکل الگ تھلگ اور آزاد ماحول میں کام کرے گی، تو عدالت میں شہادت کا نظام بھی ترقی کرے گا اور شہادت کا معیار بھی بہتر ہو گا، جس سے عدالتوں سے ان لوگوں کو سزائیں دلوانا آسان ہو گا اور ملزمان کے لئے خوف کی فضا پیدا ہو سکے گی۔ اس برانچ کے پروفیشنل افراد کے زیر نگیں ہونے سے قانون کے تقاضے پورے کرنے میں مدد ملے گی اور فیصلہ جات کی نوعیت ہی بدل جائے گی۔ لوگوں کے اندر قانون کے احترام کا جذبہ اُجاگر ہو گا۔

موجودہ نظام کے تحت تفتیش تکنیکی نقائض سے بھرپور ہوتی ہے، کیونکہ اس کو عدالتوں میں بھجوانے کے لئے ایک آزاد چھلنی کا انتظام نہیں ہوتا اور عدالتوں کے معیار پر پورا نہ اُترنے کی وجہ سے ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔ اس کوتاہی کا ذمہ لینے لئے بھی کوئی تیار نہیں ہوتا۔ جب آزاد اور خود مختار ادارہ اس کام کے لئے مامور ہو گا، تو ذمہ داری کا تعین آسانی سے ہو سکے گا اور ناکامی کی صورت میں اس میں بہتری کے انتظامات کئے جا سکتے ہیں۔ جب تک پولیس کے محکمے کی تنظیم مندرجہ بالا تینوں شعبوں میں نہیں کی جاتی، ہمیں امن و امان کی صورت حال میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے سکتے۔ اگرچہ امن و امان کی بہتری کے لئے اور بھی بہت سے اقدامات ضروری ہیں، جن کا تذکرہ ہم اگلے مرحلے میں کریں گے، لیکن بنیادی طور پر یہ بات بہت اہم ہے کہ جب تک جرم کی دُنیا میں بسنے والے لوگ مکمل طور پر قانون کی گرفت میں نہیں آتے، قانون شکنی ہوتی رہے گی، کیونکہ لوگ جب یہ دیکھیں گے کہ قانون کی گرفت ان کے لئے زیادہ مضبوط نہیں ہے، تو وہ اور بھی آزادی کے ساتھ اپنے جرائم کو دہراتے رہیں گے اور اس طرح وہ امن و آشتی کے لئے چیلنج اور معاشرے کے لئے سوہان روح بنتے رہیں گے۔(جاری ہے)

مزید : کالم