ایشیاکا امن مذہبی نسل پرستوں کی زد میں

ایشیاکا امن مذہبی نسل پرستوں کی زد میں

  

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب سے بھارت میں مسٹر مودی اپنے خاص گروپ کے ساتھ برسراقتدار آئے ہیں ،اس وقت سے جنوبی ایشیا کا امن نسل پرست مذہبی جنونیوں کی زد میں ہے، بزرگوں کے مزارات اور مسلمانوں کے دیگر مقدس مقامات کو جنونی ہندو جلارہے ہیں، مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی کوششیں زوروں پر ہیں اور خطرہ یہ ہے کہ مسٹر مودی اور ان کے سدھائے ہوئے ہندو چیلے پورے بھارت میں صوبہ گجرات والا مسلم کش خونیں ڈرامہ دہراسکتے ہیں اور یہ خدشات غلط نہیں ہوسکتے ،مگر حقیقت یہ ہے کہ پورے ایشیا، بلکہ افریقہ کا امن دو جنونی نسل پرست گروہوں کے خطرات کی زد میں ہے۔ ان نسل پرست دوگروہوں کے جنونی خطرات پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، ان میں سے ایک گروہ تو بھارت کا مذہبی جنونی برہمن ہے ،جس کی سربراہی مسٹر مودی کے ہاتھ میں ہے، لیکن ایک دوسرا گروہ بھی مذہبی جنون میں مبتلا ہے اور یہ گروہ اسرائیل کے عالمی صہیونیت کے مرض میں ہزاروں سال سے مبتلاچلا آتاہے۔ ان دونوں نسل پرست مذہبی جنونی گروہوں کا اصل نشانہ تو اسلام اور مسلمان ہیں، جنہوں نے دنیا بھر کے صلیبی جنونیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا ہے جو اسلامی دنیا کی دولت لوٹنے کے نشے میں ایک ہزار سال سے مبتلا چلے آتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے بیدار مغز سیاسی قائدین ان نسل پرست جنونیوں کے خطرات سے دنیا بھر کے امن پسند اور انصاف کے علمبردار انسانوں کو آگاہ کریں، بھارت کے نسل پرست برہمن کا اصل نشانہ تو پاکستان کے مسلمان ہیں، مگر پاکستان چونکہ اللہ کے فضل سے دو ہتھیار رکھتا ہے ،جن میں سے پہلا بم پاکستان کی سرفروش افواج ہیں اور دوسرا ہتھیارایٹمی اسلحہ ہے ،اس لئے بھارت اور پاکستان کا تصادم پورے ایشیا ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ،مگر دوسرا جنونی مذہبی گروہ اسرائیل کا صہیونی گروہ ہے جس کا ملک اسرائیل تو لمبائی چوڑائی میں کھجور کی گٹھلی کے برابر قرار دیا جاتا ہے، مگر یہ بھی ایٹمی اسلحہ سے لیس بتایا جاتا ہے، اس کی زد میں صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں ،بلکہ مسلمانوں کے تمام مقدس مقامات ہیں ،ان یہودی جنونیوں کے اثرات تمام عالم اسلام ،بلکہ تمام انسانی دنیا کو اپنی زد میں لئے ہوئے ہیں، اس لئے فوری ضرورت ہے کہ ان ہر دونسل پرست مذہبی جنونیوں کے خطرات سے دنیا کو خبردار کیا جائے اور تیسری تباہ کن ایٹمی جنگ سے انسانیت کو بچایا جائے ۔ یہ خطرات وخدشات مندرجہ ذیل اسباب سے پیدا ہوئے ہیں:

1۔کشمیری مسلمان مودی اور اس کے مجنونانہ ارادوں سے آگاہ ہوکر نہ صرف یہ کہ جنرل الیکشن میں مودی اور اس کی جماعت کو مسترد کرچکے ہیں، بلکہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کشمیر کے عوام اور ان کے محبوب لیڈر مخالفانہ تحریک شروع کرچکے ہیں۔ ان محبوب لیڈروں میں سید علی گیلانی پیش پیش ہیں، جنہیں میں تحریک آزادی کشمیر کا ’’ناقابل شکست کوہ ہمالیہ‘‘ کا لقب دیتا ہوں۔

2۔مودی اور اس کی پارٹی پرانے مہاسبھائی پروگرام کو کھل کر سامنے لے آئے کہ مسلمان ناپاک اور ملیچھ ہیں،ان سے بھارت ماتا کو پاک کرنا ہے، اس کے لئے جنونی برہمن نے تین میں سے کوئی ایک راہ اپنانا ہے، یا تو مسلمان کو زبردستی شدھی کرکے ہندو مت کا پانچواں طبقہ بنانا ہے ،یعنی ہندو مت قبول کرنے والے مسلمان شودر اور اچھوت سے بھی نچلا طبقہ ہوں گے یا انہیں بھارت سے باہر بھگانا ہے ،مگر جو نہ ہندو ہوئے اور نہ باہر بھاگے، ان کی جگہ پھر صرف قبرستان ہوگا۔

3۔ بھارت کے عام سنجیدہ لوگ ۔۔۔ ہندو یا غیر ہندو۔۔۔ مودی اور اس کے چیلوں کے موقف اور انداز سیاست سے بیزار ہیں اور اس کاتازہ ثبوت وہ عبرتناک شکست ہے جو دلی کی عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں ہوچکی ہے، اب خطرہ یہ ہے کہ مودی اور اس کے چیلے گھبرا کر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی فوری کوشش کرسکتے ہیں اور بھارت و کشمیر کے تمام مسلمان صوبہ گجرات میں مودی کے وحشیانہ اقدام کی زد میں آسکتے ہیں۔ صدر اوباما سمیت بہت سے عالمی لیڈر اس خطرے سے آگاہ ہیں اور اس سے باز رہنے کے لئے مودی کو خبردار بھی کرچکے ہیں، مگر یہ کافی نہیں، ہمیں فوری طورپر تمام دنیا میں ایک ہنگامہ برپا کرنا ضروری ہے، کیونکہ مودی اپنے پروگرام کو بے پردہ کرچکا ہے ،اس لئے اس سے پہلے کہ وہ صوبہ گجرات والی خوفناک اور شرمناک قیامت بھارتی مسلمانوں پر دہرائے ،بھارت کے عام سنجیدہ اور منصف مزاج لوگوں کو ساتھ ملانے کے علاوہ تمام دنیا کو اس سے بروقت خبردار کرنا چاہئے۔ خوش قسمتی سے ہمارے بعض وزراء مودی کے ان برے ارادوں اور کوششوں کی مذمت کرچکے ہیں، مگر اس میں مزید اور فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ، مودی اور اس کے چمچوں کے عزائم کو دنیا کے سامنے ننگا کرکے خاک میں ملایا جاسکتا ہے، اس سے دونوں نسل پرست گروہوں کو بھی باز رکھا جاسکتا ہے، دنیا بھر کے مسیحی بھائی اس میں ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -