سوئٹزرلینڈ نے مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی بجائے 2 لاکھ پاﺅنڈ جرمانہ ادا کر دیا

سوئٹزرلینڈ نے مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی بجائے 2 لاکھ پاﺅنڈ جرمانہ ...
سوئٹزرلینڈ نے مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی بجائے 2 لاکھ پاﺅنڈ جرمانہ ادا کر دیا

  

سٹاک ہوم (این این آئی) یورپ کے امیر ترین ملک سوئٹزرلینڈ کے ایک دولت مند گاﺅں کے رہنے والوں نے کوٹہ سسٹم کے تحت صرف 10 مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر کے اس کے بدلے 2 لاکھ پونڈ جرمانہ ادا کیا جو 3 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد کی رقم بنتی ہے۔ اس گاﺅں کا نام اوبرول لائلی ہے جہاں 300 کے قریب افراد کروڑ پتی ہیں اور گاﺅں کی آبادی 22 ہزار کے قریب ہے۔ انہوں نے باضابطہ طور پر ایک ریفرنڈم کے ذریعے صرف 10 مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر گاﺅں کی آبادی تقسیم ہوگئی اور بقیہ کو ”نسل پرست“ کا نام دیا جانے لگا۔ پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے معاملے پر گاﺅں کے میئر کا کہا کہ انہیں علم نہیں تھا کہ پناہ مانگنے والے 10 افراد شامی ہیں یا کسی اور علاقے سے بہتر روزگار کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن ہیں جبکہ جہاں تک شامی تارکین کا تعلق ہے تو انہیں ان کے گھر کے قریب کیمپوں تک ہی محدود رکھا جائے۔ میئر نے کہا کہ اگر رقم کی ضرورت ہے تو ہم انہیں بھیج دیں گے لیکن انہیں پناہ دینے سے ایک غلط پیغام جائے گا اس کے بعد مزید لوگ انسانی سمگلروں سے رابطہ کر کے سمندر عبور کرکے یہاں آنا شروع ہو جائیں گے۔

مزید : بین الاقوامی