کوئی بھی پروفیشنل باکسر اولمپک میں جگہ بنا سکتا ہے ، کھلاڑی حیران رہ گئے ، فیصلے پر تنقید

کوئی بھی پروفیشنل باکسر اولمپک میں جگہ بنا سکتا ہے ، کھلاڑی حیران رہ گئے ، ...

ریوڈی جنیرو(آن لائن)باکسنگ کے سابق عالمی چیمپیئن کارل فریمپٹن اور دیگر باکسرز نے اولمپکس میں پروفیشنل باکسرز کو شرکت کی اجازت دیے جانے پر تنقید کی ہے۔انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشنز نے ریو اولمپکس کے شروع ہونے سے چند ہفتے قبل قوانین میں اس تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔یاد رہے کہ ریو ڈی جنیرو میں پانچ اگست سے اولمپکس کا آغاز ہو رہا ہے۔فریمپٹن نے کہا کہ غیر پیشہ ور اور پیشہ ور باکسنگ دو مختلف کھیل ہیں اور ’یہ ایسا ہی ہے جیسے بیڈ منٹن کا کھلاڑی ٹینس کھیلے۔‘سابق ویلٹر ویٹ اور لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپیئن رکی ہیٹن نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کی ’جہاں تک میں سمجھتا ہوں غیر پیشہ وارانہ باکسنگ کو خدا حافظ۔ میں اس فیصلے کے حق میں نہیں۔‘دوسری جانب کامن ویلتھ گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے والے باکسر سٹیفن سمتھ نے کہا کہ وہ یہ خبر سن کر حیران رہ گئے۔ واضح رہے کہ سمتھ نے 28 میچ پروفیشنل باکسر کی حیثیت سے بھی لڑے ہیں۔’یہ فیصلہ غلط ہے اور اس سے غیر پیشہ ورانہ باکسنگ تباہ ہو جائے گی۔‘تاہم اولمپک میں تمغہ جیتنے والے باکسر مائیکل کونلن کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ وہ پروفیشنل باکسرز کے مدمقابل ہوں گے۔’مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا، میں ان کو شکست دوں گا۔‘انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اجلاس میں پروفیشنل باکسرز کے اولمپکس میں حصہ لینے کے حق میں ووٹ دیا۔اس فیصلے کے تحت کوئی بھی پیشہ ور باکسر اگلے ماہ وینزویلا میں ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ میں حصہ لے کر ان 26 باکسروں میں جگہ بنا سکتا ہے جو اولمپکس میں حصہ لے سکیں گے۔انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر سی کے وو کا کہنا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کتنے پروفیشنل باکسرز ریو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر سکیں گے۔ سابق ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن ولادیمیر کلشکو ماضی میں عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ اولمپکس میں حصہ لینا پسند کریں گے۔ 40 سالہ ولادیمیر عالمی چیمپیئین ٹائیسن فیوری سے اپنے مقابلے کی وجہ سے اس مرتبہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی