خریداری گندم بہت خوب۔۔۔ اضافی گندم کا حل بھی نکالیں

خریداری گندم بہت خوب۔۔۔ اضافی گندم کا حل بھی نکالیں
 خریداری گندم بہت خوب۔۔۔ اضافی گندم کا حل بھی نکالیں

  

الحمد للہ موجودہ حکومت کاشت کاروں کی بہتری کے لئے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 341 ارب روپے کی خطیر رقم کا پیکیج دینے کے بعد بھی موجودہ بجٹ میں 160ارب روپے مزید تجویز کئے ہیں جو کسانوں کی مجموعی بھلائی کے لئے خرچ کئے جائیں گے، گندم کی فصل کا اہم ترین مسئلہ اُس کی اچھے نرخوں پر خریداری ہوتا ہے، جس کا ذمہ محکمہ خوراک اور پرائیویٹ سیکٹر نے اٹھایا ہوتا ہے۔ گزشتہ برس کی 22لاکھ ٹن گندم بچ جانے کے باوجود میاں شہباز شریف کا وژن تھا کہ 40لاکھ ٹن گندم بہرحال 1300 روپے من میں خریدی جائے تاکہ چھوٹے کسانوں کو اچھا ریٹ مل سکے۔ گزشتہ برس کی طرح اِس بار بھی محکمہ خوراک کے ذمہ داران جن میں منسٹر خوراک بلال یٰسین، سیکرٹری خواک ڈاکٹر پرویز خان اور ڈائریکٹر خوراک آصف بلال لودھی سرفہرست ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دیئے ہوئے ٹارگٹ کو بڑی محنت اور جانفشانی سے پورا کیا ہے اور باردانہ کی تقسیم سے لے کر تمام مراحل میں معمولی غلطیوں کے علاوہ بہتر انتظام کے ساتھ اس ٹاسک کو مکمل کر لیا ہے، جس پر ویلڈن شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو بھی مبارک باد۔ مُلک میں گندم کا ہونا ہمیشہ ایک اچھی بات ہوتی ہے کہ یہ اہم ترین انسانی خوراک ہے، مگر اضافی گندم کا ہونا بعض اوقات نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔

گزشتہ برس اعلیٰ حکام کے ساتھ سی ایم صاحب کے کہنے پر ایک میٹنگ میں یہ سوال اُٹھایا تھا کہ اضافی گندم کو عالمی مارکیٹ کے تناظر میں ٹی سی پی کے ذریعے ٹینڈر جاری کر کے فروخت کیا جائے اور افغانستان کی مارکیٹ کو جو تقریباً ہم سے چھن چکی ہے آٹا بھجوانے کے لئے عمومی طور پر گندم کا ریٹ1100روپے کر دیا جائے تاکہ ری بیٹ اور جعلی ایکسپورٹ کرنے والے مافیا سے ہٹ کر عام فلور ملیں بھی افغانستان کا کام کر سکیں اور اِس طرح مارکیٹ بھی واپس آ جائے گی اور ملکی عوام بھی سستے آٹے سے مستفیض ہو سکیں گے وہاں یہ بات تسلیم نہ ہوسکی جس پر راقم نے کہا تھا کہ آئندہ برس یہ گندم پھر بچ جائے گی اور محترم خضر حیات گوندل سے عرض کی تھی کہ آئندہ سال 16اپریل کو مل کر بتاؤں گا کہ کتنی گندم بچ گئی اور کتنا نقصان ہوا۔ مَیں تو بتانے کے لئے تیار تھا۔16اپریل آئی ضرور، مگر23لاکھ ٹن گندم بچ جانے سے اربوں روپے کے نقصان کی ’’نوید‘‘ سننے کے لئے خضر حیات صاحب موجود نہیں تھے کہ اُن کا تبادلہ کر دیا گیا تھا گویا یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پالیسی بنانے والا کوئی اور اُس پر عمل کروانے والا کوئی دوسرا اور اُس کے نتائج بھگتنے والا کوئی اور ہی ہوتا ہے اور اس طرح تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ہم بہت پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

آج حالت یہ ہے کہ پنجاب کے پاس 64لاکھ ٹن گندم، سندھ کے پاس17لاکھ ٹن گندم، خیبرپختونخوا کی خریداری جاری، جبکہ پاسکو کے پاس بھی 17لاکھ ٹن گندم موجود ہے۔ اگر حساب کیا جائے تو ان سب کے گوداموں میں اور گوداموں سے باہر ایک کروڑ ٹن سے زائد گندم ہو گی جو ہماری ضرورت سے45 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پنجاب کے ان افسران اور وزیراعلیٰ کی محنت کو وفاق بیک اَپ کرتا اور گزشتہ برس کی غلطی کو نہ دھراتا جو اُس نے ایکسپورٹ کے معاملہ پر کی۔اس بار بھی اُسے چاہئے تھا کہ عالمی ٹینڈروں کے ذریعے ایک دفعہ اِس اضافی گندم کو باہر بھیج دیتے اور جعلی ایکسپورٹ اور ری بیٹ پر خرچ ہونے والی رقم ٹینڈروں کے ذریعے خرچ کر دیتے اور کم ریٹ پر ہی اپنی گندم باہر بھجوا کر مارکیٹ اسٹیبلش کرتے، مگر ایسا پھر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے جعلی ایکسپورٹ جس کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں، ماسوائے اُن چند لوگوں کے جو اس میں ملوث ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ’’چھٹتی نہیں ہے مُنہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘۔ اِس لئے وفاقی حکومت کی وزارتِ متعلقہ ہوش کے ناخن لے، کیونکہ جعلی ایکسپورٹ کو چھوڑ کر فلور ملوں کو بیل آؤٹ پیکیج دے کر اصلی آٹے کی افغانستان کو اور سمندر کے راستے اصلی ایکسپورٹ کر کے مُلک کو اُس اضافی گندم سے چھٹکارا دلایا جائے جو دو سال سے پڑی ہے اور اب تیسرے سال کی گندم بھی اگر شامل ہو گئی تو یہ مُلک کا بہت بڑا نقصان ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کی گندم کو حقیقی ایکسپورٹ کرنے کے لئے وزیراعلیٰ کو توجہ دینا ہو گی وگرنہ گندم تیسرے سال میں داخل ہو جائے گی،ضائع بھی ہو جائے گی اور اخراجات کی مد میں اربوں روپے کے نقصانات بھی ہوں گے۔ گویا ہمیں ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں پوری فلور ملنگ انڈسٹری کو استعمال کرتے ہوئے اس اضافی گندم کا مسئلہ حل کیا جا سکے گا۔

مزید : کالم