چودھری نثار ، اسحاق ڈار یا ’’میں ‘‘ وزیراعظم بننے کے خواہش مند نہیں ، ایاز صادق

چودھری نثار ، اسحاق ڈار یا ’’میں ‘‘ وزیراعظم بننے کے خواہش مند نہیں ، ایاز ...

  

 لاہور/اسلام آباد(این این آئی ) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کا متبادل کسی کو بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، چودھری نثار، اسحاق ڈار یا مجھ سمیت کسی کی وزیر اعظم بننے کی کوئی خواہش نہیں ،آئین میں ڈپٹی وزیراعظم کی کوئی گنجائش نہیں ہے جبکہ پرویز الٰہی کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ دیا گیا تھا،پارلیمانی کمیٹی میں ڈیڈلاک کے خاتمے کے لئے ہفتہ کو قائد حزب اختلاف سمیت حکومت و اپوزیشن ممبران کو طلب کرلیا ،ڈرون حملوں کی اجازت کسی ملک کو نہیں دی جاسکتی،اگر پاکستان امریکہ پر ڈرون حملہ کرے تو اس کا کیا رد عمل ہو گا؟ ملا اختر منصور 400کلو میٹر دور ایران میں تھا اس وقت ڈرون حملہ کیوں نہیں کیا گیا؟،ہمیں معاملے کو پارلیمان کے ساتھ ڈپلومیٹک پلیٹ فارم پر اٹھانا ہوگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے قومی اور پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری جرنلسٹس سے ملاقات کے دوران غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ آئین میں ڈپٹی وزیراعظم کی کوئی گنجائش نہیں ہے جبکہ پرویز الٰہی کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ دیا گیا تھا۔وزیر اعظم نواز شریف کا متبادل کسی کو بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، چودھری نثار، اسحاق ڈار یا مجھ سمیت کسی کی وزیر اعظم بننے کی کوئی خواہش نہیں ،آئین میں ڈپٹی وزیراعظم کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں ایوان میں غیرجانبدار ہوں لیکن میرا لیڈر نواز شریف ہی ہیں اور وہی وزیراعظم ہیں اس پر کوئی اور خواہش نہیں۔ رولز میں کوئی ایسی بات نہیں کہ 30دن تک وزیراعظم کے ملک سے باہر رہنے پر اس عہدے پہ کوئی براجمان ہوسکتا ہے۔صرف 40روز تک مسلسل غیر حاضری پر اختیار ہے کہ متعلقہ غیر حاضر کی رکنیت معطل کی جائے۔صدر مملکت کے حوالے سے رولز ہیں کہ ان کی غیر موجودگی میں چیئرمین سینیٹ اور پھر چیئرمین کی غیر موجودگی میں سپیکر صدارت کا عہدہ قائم مقام طور پر سنبھالتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمانی کمیٹی میں ڈیڈلاک کے خاتمے کے لئے ہفتہ کو قائد حزب اختلاف سمیت حکومت و اپوزیشن ممبران کو طلب کرلیا ہے۔انہوں نے ڈرون حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم ہر کسی سے نہیں لڑ سکتے، اس معاملے کے حل کے لیے امریکہ کو قائل کرنا ہوگاکیونکہ ڈرون حملے غلط ہیں اور ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ہمیں ڈرون حملوں کے معاملے کو پارلیمان کے ساتھ ڈپلومیٹک پلیٹ فارم پر اٹھانا ہوگا۔ سرتاج عزیز سے ڈرون حملوں پر بات ہوئی ہے اور سرتاج عزیز کو قومی اسمبلی کی خارجہ اور دفاع کی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا بھی کہا ہے اور ڈرون حملوں پر ہونے والی تحاریک التوا کو مشترکہ کمیٹیوں کے اجلاس میں دیکھا جائے۔انہوں نے کہاکہ جب ملا اختر منصور 400کلومیٹر ایران میں تھا اس وقت ڈرون حملہ کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ٹی او آرز پر پارلیمانی کمیٹی میں ارکان کی مسئلہ حل کرنے کی نیت ہے۔اگر اپوزیشن نے انا کا مسئلہ بنا دیا تو پھر مسئلہ بن جائے گا۔آف شور کمپنیوں سمیت تمام معاملات پر قانون سازی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ شیخ رشید روتے ہی رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ زمانہ طالبعلمی میں ایک دوست سیاستدان کو کھیلتے ہوئی ہاکی مار دی تھی میری ہاکی لگی ان کی گال پر تھی اثر کہیں اور ہوا۔

مزید :

علاقائی -