ون بیلٹ ون روڑ منصوبہ سے فوائد حاصل کرنے کیلئے پالیسی تشکیل دیدی ہے ، یونس ڈھاگہ

ون بیلٹ ون روڑ منصوبہ سے فوائد حاصل کرنے کیلئے پالیسی تشکیل دیدی ہے ، یونس ...

  

 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وزارت پانی و بجلی کے سیکرٹری محمد یونس ڈھاگہ نے کہا کہ چینی صدر کی جانب سے شروع کئے جانے والے ون بیلٹ ،ون روڈ کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو حاصل ہور ہا ہے اور حکومت پاکستان نے اس پراجیکٹ کی کامیابی کیلئے ہر ممکن اعانت کی غرض سے ایک پالیسی فریم ورک بھی تشکیل دیا ہے۔اس بات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں انٹرنیشنل انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ فورم 2016سے اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ چینی حکومت کے جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ کی صورت میں شروع کئے جانے والے پروگرام قابل ستائش ہیں جو بروقت اور درست سمت کا تعین کئے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت کی جانب سے ایشیاء انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک کا قیام بھی ایک نہایت ہی خوش آئند اقدام ہے جس سے انفراسٹرکچر کے ترجیحی پراجیکٹ کی تکیمل کیلئے مالی معاونت حاصل ہوگی۔یونس ڈھاگہ نے کہا کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کیلئے اس ملک کے پالیسی سازوں کو اپنے مطلوبہ حدف کو حاصل کرنے کیلئے پائیدار پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت انفراسٹرکچر کے پراجیکٹس خاص کر توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی سہولیات بہم پہنچانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔یونس ڈھاگہ نے کہا کہ ہم اس وقت متعدد بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو بلٹ،آپریٹ،اون،ٹرانسفر کی بنیاد پر پاکستان کو تونائی فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان کی ساز گار اور بہتر پالیسیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج چین کے کنٹریکٹرز پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے پراجیکٹوں میں انتہائی جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں جو پاکستان کی بہتر اور سرمایہ دوست پالیسی کا بہترین مظہر ہے۔یہی نہیں بلکہ یہ ٹیلی کام اور ٹرانسمیشن جیسے پراجیکٹس میں بھی پاکستان کو بھرپور مدد فراہم کئے ہوئے ہیں۔یونس ڈھاگہ نے کہا کہ چین کی کمپنیاں پاکستان میں جاری مختلف پراجیکٹس کیلئے مختلف انداز میں اعانت فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب 2013میں پاکستان کو توانائی کے میدان میں بڑے چیلنجز کا سامنا تھا چین نے پاکستان کے ساتھ 46 بلین ڈالر کا سی پیک معاہدہ کیا جس کی بدولت چین کی حکومت ،کمپنیاں اور کنٹریکٹرز پاکستان میں انفراسٹرکچر کے جملہ پراجیکٹس جن میں 10400میگا واٹ کے 14پاور پراجیکٹ،گیس پائپ لائن،بندرگاہ،ایئر پورٹ،ریلوے اور سڑکوں کے پراجیکٹ شامل ہیں کیلئے سرمایہ کاری فراہم کریں گے۔یونس ڈھاگہ نے کہا کہ چین کی ایک کمپنی اس وقت پورٹ قاسم میں 1320میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے ساتھ ساتھ حویلی بہادر شاہ میں 1200میگاواٹ کے گیس سے چلنے والے پاور پراجیکٹ پر سرمایہ کاری کئے ہوئے ہے۔اس کے علاوہ چین ہی کی ایک اور کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کئے ہوئے ہے جس کے دریائے جہلم پر تین پراجیکٹ ہیں جن میں جہلم میں 3000میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 200میگا واٹ کا ہوا سے چلنے والاپراجیکٹ بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

مزید :

علاقائی -