کار اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں کمی ، گاڑیوں کی برآمدگی میں اس سال اضافہ ہوا

کار اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں کمی ، گاڑیوں کی برآمدگی میں اس سال ...

  

 لاہور(کرائم رپورٹر)سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے کہا ہے کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف کو ایس پی کی نگرانی میں سی آئی اے کی طرز پر علیحد ہ ونگ کا درجہ دئے جانے کے بعد سے اس کی کارکردگی میں واضح بہتری آئی ہے اور گزشتہ سال کی نسبت اس سال میں کار اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی آنے کے ساتھ ساتھ چوری شدہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی برآمدگی کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف کی موثر مانیٹرنگ ، کار و موٹر سائیکل چوروں کے مکمل ریکارڈز اور چوری شدہ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی مکمل تفصیلات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے یہ جدید طرز پر کمپیوٹرائزڈ آپس رومز تشکیل دیا گیا ہے جس میں پنجاب بھر کی چوری شدہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ڈیٹا محفوظ کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے تھانہ گلبرگ میں اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف کے جدید کمپیوٹرائزڈ آپس رومز کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چوہدری،ایس ایس پی انویسٹی گیشن حسن مشتاق سکھیرا،ایس ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک، ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف اویس ملک کے علاوہ انویسٹی گیشن ونگ کے تمام ایس پیز بھی موجود تھے۔ ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف اویس ملک نے سی سی پی او کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آپس روم میں پنجاب کی 15لاکھ سے زائد چوری شدہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ڈیٹا محفوظ کیا جا چکا ہے اور اس ڈیٹا بیس کو پنجاب کے تمام اضلاع کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے جس کا یہ فائدہ ہو گا کہ پنجاب کے کسی بھی ضلع میں اگر لاہور کی چوری شدہ گاڑی پکڑی جاتی ہے اور جونہی اس کا اندراج کمپیوٹر میں ہو گا ہمارے آپس روم میں فوری طور پر اس کی انڈی کیشن ہو جائے گی کہ شہر سے چوری ہونیوالی گاڑی اس ضلع میں پکڑی گئی ہے اور اسی طرح لاہور میں کسی ضلع کی چوری شدہ گاڑی پکڑی جانے پر جونہی سسٹم میں اینٹر ہو گی اس ضلع میں خود بہ خود بذریعہ کمپیوٹر اطلاع ہو جائے گی ۔اس موقع پر سی سی پی او نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس سسٹم کو فوری طور پر فرانزک لیب کے ساتھ منسلک کیا جائے اور متعلقہ تفتیشی افسران مدعی مقدمہ سے مسلسل رابطے میں رہیں او ر انہیں کیس پر ہونیوالی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کریں۔انہوں نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ لاہور سے چوری ہونیوالی ہر گاڑی کی مکمل تفصیل بذریعہ ڈیٹا بیس بلا تاخیر لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر قائم چیک پوسٹوں کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع کو بھجوائی جائے تا کہ کار چور گروہوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پولیس کو بروقت متحرک اور الرٹ کیا جا سکے اور وہ چوروں کے منظم گروہوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے بروقت منصوبہ بندی کر سکیں۔

مزید :

علاقائی -