وحدت کالونی ، پولیس گشت میں کمی ، ڈولفن اور محافظ فورس بھی ناکام جرائم بڑھ گئے

وحدت کالونی ، پولیس گشت میں کمی ، ڈولفن اور محافظ فورس بھی ناکام جرائم بڑھ ...

 لاہور(وقائع نگار) تھانہ وحدت کالونی میں جگہ جگہ منشیات فروشی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتیں، دیگر تھانوں کی نسبت زیادہ ہو گئیں، موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی گرفتاری میں ڈولفن و محافظ فورس کی ٹیمیں بھی ناکام، پولیس نے علاقے میں گشت کی بجائے ناکوں پرد وقت گزاری کرنا شروع کر دی۔ نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے وحدت کالونی کے رہائشیوں اور دکانداروں نے شکایات کے انبار لگادئے۔شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ تھانہ وحدت کالونی کے پولیس اہلکار گشت کے دوران شریف شہریوں سے لوٹ مارکرنے کی بجائے کوئی دوسرا کام نہیں کرتے اور سڑک کنارے گزرنے والی ہر موٹر سائیکل کے کاغذات چیک کرنے کے نام پر دو سے تین سو روپے ریٹ مقرر کر رکھا ہے اور نذرانہ کی عدم وصولی پر اہلکار شہریوں کی موٹر سائیکل تھانے میں بند کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود تھانے سے ملحقہ سڑکوں سمیت علاقہ کے گلی محلوں میں سٹریٹ کرائم کی وارداتیں عام ہیں اور ان وارداتوں میں کمی آنے کی بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ علاقہ مکین حسن دین،رانا محمد ،امجد ،لقمان اور اکمل کھوکھر نے کہا کہ اگر علاقہ میں پولیس کا گشت بڑھایا جائے تو اس تھانے کی حدود میں سٹریٹ کرائم اور علاقے میں جرائم کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اس علاقے میں اندھیر نگری مچا رکھی ہے اور موبائل فون چھیننے اور شہریوں سے چھینا چھپٹی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ کے باوجود پولیس حکام اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔دکاندارعمراسماعیل ،عنایت وغیرہ کا موقف تھا کہ پولیس کے ناقص گشت کی وجہ سے تاجر اور علاقے کے مکین اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار سمجھتے ہیں اور مکینوں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل چکی ہے۔ تھانے کی حدود میں اعلیٰ پولیس افسران اور بیورو کریٹس کی رہائش گاہیں ہونے کے باوجود پولیس کی سیکیورٹی اور نگرانی انتہائی ناقص ہے اور پولیس صرف مخصوص علاقوں میں گشت اور مخصوص مقامات کی نگرانی کر کے اوپر رپورٹ دے دیتی ہے کہ سب اچھا ہے، حالانکہ شام ہوتے ہی موٹر سائیکل سوار ڈاکو شہریوں سے لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں اور اسی علاقے میں خواتین سے موبائل فون اور پرس چھیننے کی وارداتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ پولیس کو تھانے کی حدود میں مکینوں اور تاجروں سے کم از کم ہر ماہ میٹنگز اور اجلاس کرنے چاہیں تاکہ پولیس کے ساتھ شہریوں کے تعلقات میں بہتری آئے اور شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال ہو سکے۔ تھانوں میں ایک عام آدمی کی رسائی نہیں ہے اور آپریشن اور انوسٹی گیشن کی شکل میں پولیس کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے بھی ایک عام آدمی کو انصاف نہیں مل سکا ہے البتہ ایڈمن افسران کی صورت میں انہیں کچھ دادرسی مل رہی ہے۔اس حوالے سے تھانہ وحدت کالونی میں رابطہ کیا گیا تو پولیس کا کہنا تھا کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔پولیس کی جانب سے علاقہ میں پولیس کا گشت بڑھا کر جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جلد ہی علاقہ سے جرائم پیشہ افراد کو قلعہ قمع کر دیں گے۔

مزید : علاقائی