خیبرپختونخواحکومت کا عوامی مقامات پرتمباکو نوشی پرپابندی کا فیصلہ

خیبرپختونخواحکومت کا عوامی مقامات پرتمباکو نوشی پرپابندی کا فیصلہ

  

پشاور(آن لائن) صوبہ خیبر پختو نخوا کی حکومت نے عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانونی مسودہ تیار کرلیا۔قانونی مسودہ منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا پروہیبشن آف اسموکنگ/ ٹوبیکو پروکٹس اینڈ پروٹیکشن آف نان اسموکرز ہیلتھ بل 2016 کے تحت تمباکو نوشی کرنے والے شخص کو جرمانہ اور تین ماہ قید کی سزا سنائی جائی گی۔بل کی منظوری کے بعد صوبے میں تمباکونوشی سے متعلق اشتہارات، اس کی تیاری اور خرید و فروخت پرسخت پابندی ہوگی۔اس قانون کا مقصد ٹوبیکو انڈسٹری کے مالکان کی جانب سے تمباکونوشی کی تشہیر کو روکنا ہے تاکہ عوام سگریٹ نوشی کی طرف متوجہ نہ ہوں۔18ویں ترمیم کے بعد خیبر پختو نخوا اس قسم کا قانون بنانے والا پہلا صوبہ بن جا ئے گا، جس میں تمام وفاقی یونٹس تمباکو کو روکنے کے لیے قانون سازی کریں گے۔بل کا مقصد صوبے میں متعدد وفاقی قوانین کو ختم کرنا ہے، جس میں ویسٹ پاکستان جوینائل اسموکنگ آرڈیننس برائے 1959 ( 1959 کا ڈبلیو۔پی آرڈیننس XII)، دی ویسٹ پاکستان پروہیبشن آف اسموکنگ ان سینما ہاؤس آرڈیننس برائے 1960 (1960 کے ڈبلیو۔ پی آرڈینینس IV)، دی پروہیبشن آف اسموکنگ اینڈ پروٹیکشن آف نان اسموکرز ہیلتھ آرڈیننس برائے 2002 (2002 کا LXXIV) شامل ہیں۔بل کے تحت تعلیمی وسرکاری اداروں، عدالت، دفاتر، ہوٹلوں اور پارکوں میں تمباکو نوشی کرنے پر سخت پابندی عائد ہوگئی اور دکانداروں کو 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کو تمباکو فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ دفاتر اوردیگر مقامات پر’نو اسموکنگ زون ‘ کے اشتہارات آویزاں کیے جائیں گے۔قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص پر ایک ہزار جرمانہ عائد کیا جائے گا اور بار بار قانون توڑنے والوں پر 10 ہزار جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔بل کے مطابق قانون شکنی کرنے والے شخص پر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 3 ماہ قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے شخص کو عام مقامات یا سفر کے دوران سواری سے اتارا بھی جاسکتا ہے۔تمباکو نوشی کرنے والے شخص کو پہلی بار عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس کے خلاف عدالتی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔اس بل کے تحت تمام اقسام کی نشہ آور اشیاء جن میں سگریٹ، سگار اور شیشہ شامل ہیں، استعمال کرنے پر سخت پابندی ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -