استقبالِ رمضان اور اُس کے تقاضے

استقبالِ رمضان اور اُس کے تقاضے
استقبالِ رمضان اور اُس کے تقاضے

  

آنے والے مہمان کا استقبال کرنا بڑی قدیم روایت ہے اِس سے مہمان کی عزت افزائی ہوتی ہے میزبان بھی خوش ہوتا ہے ایسے ہی اللہ کا مہمان رمضان المبارک کا مہینہ جب شروع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اِس مبارک ماہ کا خود استقبال کرتے ہیں، استقبال بھی اتنا عظیم کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں یعنی جو لوگ اِس ماہ میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اُن کی عبادت قبولیت کا درجہ پاتی ہے یہ ترغیب ہے بندوں کے لئے اب نیک اعمال کر لو اور جنت پا لو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے‘‘ یعنی وہ اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے نیکیوں کے موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی رمضان کے دِنوں میں عبادت گزاروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اِس لئے اُن کو گناہ کی دعوت دینے والے شیطان قید ہوتے ہیں۔

عموماً کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک جنت کے حصول اور خود احتسابی کا مہینہ بھی ہے اِس لئے اِس افسوس ناک رویے کو دور کرنے کی ضرورت ہے، کہ رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں اور رمضان گزرنے کے بعد ہی اشیاء سستی ہو جاتی ہیں، حالانکہ اللہ رمضان کریم میں نیکیوں کا بدلہ کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ ایک عمل کا ثواب ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک پہنچ جاتا ہے اِس مبارک مہینے میں ہمیں خود احتسابی کے عمل کا آغاز اپنے آپ سے کرنا چاہئے اِس لئے شروع دن سے نیت کرنا چاہئے ، مَیں رمضان کریم میں اپنی نیت کو خالص رکھوں گا، نیک کام کروں گا اور بھلائیوں کے کام کے لئے آگے بڑھوں گا، اپنے مال کا کچھ حصہ روزانہ اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا، خواہ تھوڑا ہی ہو۔ خشوع وخضوع اور غور و فکر کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کروں گا، اپنی زبان کو غیبت، چغلی، جھوٹ اور فضول باتوں سے بچاؤں گا، مَیں پانچوں نمازیں مسجد میں جماعت کے ساتھ تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کروں گا، مَیں اس مہینے میں محلے میں،مسجد میں، دفتر میں اپنا رویہ بدلوں گا۔ایثار کروں گا رحم دلی دکھاؤں گا۔

خود احتسابی کے ساتھ مبارک ماہ کی ایک ایک گھڑی کو نیکیوں کے اجر کے حصول کا منصوبہ بناؤں گا تو یقیناًاس کے میری زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ رمضان کو قرآن کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ قرآن عظیم الشان کا نزول رمضان المبارک میں ہوا ہے۔

رمضان میں روزے فرض کئے گئے ہیں، روزے کی فرضیت اور اہمیت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے اللہ خود فرماتے ہیں: روزہ میرے لئے ہے اور مَیں ہی اس کی جزا دوں گا۔ فرمایا گیا روزے داروں کے لئے جنت میں داخلے کے لئے ایک مخصوص دروازہ بنایا گیا ہے جس سے روزہ دار ہی داخل ہو سکیں گے۔ روزہ کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ کا حصول ہے اور تقویٰ انسان کے اخلاق، کردار کے سنوارنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

روزے سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے،روزہ پاکیزگی اور بالیدگی کی عملی مشق ہے جس کے ذریعے لوگ ر وحانی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں۔

تزکیہ نفس میں خود احتسابی کا بڑا دخل ہے۔حدیث مبارک ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جس آدمی نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے 70سال کی مسافت سے دور کر دیتے ہیں‘‘۔

روزہ سے مقصود یہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات کے شکنجہ سے آزاد ہو سکے۔ اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہو اور اس کے ذریعے سے وہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کر سکے۔ حیات ابدی کے حصول کے لئے اپنے نفس کاتزکیہ کر سکے، بھوک اور پیاس سے اس کی ہوس کی تیزی اور شہوت کی حدت میں کمی پیدا ہو اور یہ بات یاد آئے کہ کتنے مسکین ہیں جو اس کی توجہ کے طالب ہیں ۔ روزہ کے مقاصد پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا گیا ہے روزہ ڈھال ہے گناہوں سے بچنے کی۔

ایسا شخص جو نکاح کا خواہش مند ہولیکن اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو اُسے روزہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ روزہ کو اس کا تریاق قرار دیا گیا ہے۔ مقصود یہ ہے روزہ کے مصالح اور فوائد چونکہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کی رو سے مصلح تھے اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کی خاطر محض اپنی رحمت اور احسان سے فرض کیا ہے پس روزہ وہ ہے جو ہمیں پرہیز گاری کا سبق دے۔ روزہ وہ ہے جو ہمارے اندر تقویٰ طہارت پیدا کرے۔ روزہ وہ ہے جو ہمیں صبر تحمل عطاکرے۔ روزہ وہ ہے جو ہمیں تکالیف برداشت کرنے کا عادی بنائے، برائی سے اجتناب کی قوت پیدا کرے یہی چیز روزہ کا اصل مقصود ہے یہی رمضان کے مبارک ماہ کے تقاضے ہیں، کوئی بدلے نہ بدلے ہم اپنے آپ کو بدلیں گے۔ اپنے اہل و عیال کو بدلیں گے اپنے رشتے داروں سے نیک سلوک کریں گے، ہمسائیوں سے روا داری کریں گے۔

اہلِ اسلام کے لئے صرف تین دن بعد ایک بار پھر نیکیوں کا موسم بہار سایہ فگن ہو رہا ہے۔ آیئے مل کر عزم کریں سحر و افطار، صدقہ و فطر دل کھول کر کریں گے۔ اپنی زبان، ہاتھ، کان، پاؤں، آنکھوں کی حفاظت کریں گے اور رمضان کو غنیمت سمجھتے ہوئے اللہ کو راضی کر کے جنت حاصل کریں اور رمضان میں روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی کرنے کے بجائے سستی کرنے میں کردار ادا کریں ، جتنا ریلیف دے سکتے ہیں عوام کو دیں۔

مزید :

کالم -