ملکی حالات صدارتی نظام کیلئے موزوں نہیں ، وزیراعظم کا احتساب سے بچنا نا ممکن ہے ، عمران خان

ملکی حالات صدارتی نظام کیلئے موزوں نہیں ، وزیراعظم کا احتساب سے بچنا نا ممکن ...

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا، جو جماعت ٹی او آرز سے پیچھے ہٹے گی عوام کے غضب کا نشانہ بنے گی۔ عمران خان نے کہا کہ اگر پاناما لیکس پر کارروائی نہ کی گئی تو سڑکوں پر نکلیں گے، حکومت نے دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا بھی لیا تو تحریک انصاف خاموش نہیں رہے گی۔عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی کا سنگین بحران ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات بین الممالک نہیں ذاتی نوعیت کے ہیں، مغربی ممالک کے ساتھ تحائف کے تبادلوں کی بنیاد پر تعلقات استوار نہیں کئے جا سکتے، پاکستان قرضوں کے جال میں جکڑا جا چکا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ ایران سے بہت عرصہ قبل پائپ لائین لانی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان سے برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مضبوط معیشت کے بغیر آزاد اور مؤثر خارجہ پالیسی مرتب کرنا ممکن نہیں، نون لیگ کا رویہ سیاسی جماعتوں جیسا نہیں مافیاز جیسا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان کو حزب اختلاف نہیں حکومت مضبوط کرتی ہے، جب نون لیگ کے احتساب کی بات کی تو انہوں نے شوکت خانم پر حملہ کیا، حکومت کا کام الزام تراشی کی بجائے مجرموں کو پکڑنا ہوتا ہے۔چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ قومی اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کئے بغیر اداروں کی اصلاح نا ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام کے تحت بہتر گورننس ممکن ہے، مگر موجودہ حالات میں پاکستان کیلئے یہ موزوں نہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ صدارتی نظام چھوٹے صوبوں سے زیادتی ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امن اور انسانی ترقی کی ضرورت ہے، سرمائے کی پرواز تیسری دنیا کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ پاناما کے بعد پوری دنیا ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ روکنے کیلئے متحرک ہو چکی ہے، آف شور کمپنیوں کے مالکان کے کوائف شائع کرنے کیلئے عالمی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے، باہر چھپایا گیا پیسہ وطن واپس لایا جائے تو پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانا ممکن ہے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کی ظاہری آمدن کے مطابق وہ ہائیڈ پارک میں فلیٹ کا ماہانہ کرایہ بھی نہیں دے سکتے۔

مزید :

صفحہ اول -