بجٹ میں اعداد شمار نہیں ہونگے تو میر کی غزلیں اور خیام کی رباعیات ہوں گی ؟

بجٹ میں اعداد شمار نہیں ہونگے تو میر کی غزلیں اور خیام کی رباعیات ہوں گی ؟

  

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

اصطلاحات کی روایتی زبان میں بات کی جائے تو ہر کوئی بجٹ کو اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہی کہتا ہے، اب کوئی ان سے پوچھے کہ جس دستاویز کا نام ہی بجٹ ہے وہ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں ہوگا تو کیا میر کی غزلوں اور عمر خیام کی رباعیوں پر مشتمل ہوگا۔ کوئی بھی ترکیب چند بار کے استعمال سے پامال ہو جائے تو پھر اس میں وہ چاشنی نہیں رہ پاتی جو کہنے والا اس میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جو قومی اقتصادی سروے پیش کیا ہے اس میں 2015-16ء میں معیشت کی کارکردگی کی جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ اگر بہت خوش نما نہیں ہے تو اتنی بدنما بھی نہیں کہ اس کے چمکتے دمکتے پہلوؤں کو نظرانداز کرکے اس کی تاریکیوں میں الجھ کر رہ جایا جائے۔ یہ درست ہے کہ اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ کئی اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے، لیکن جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ اتنا برا بھی نہیں۔ مثال کے طور پر بجٹ میں جی ڈی پی کی شرح نمو 5.2 رکھی گئی تھی جو حاصل نہیں ہو پائی اور جو کچھ حاصل ہوا وہ 4.7 فیصد ہے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ شرح بھی پچھلے آٹھ سال میں سب سے زیادہ ہے۔ بالفاظ دیگر گزشتہ آٹھ بجٹوں میں شرح نمو اتنی بھی حاصل نہیں ہو پائی تھی جو سال رواں میں حاصل ہوئی ہے۔ ان آٹھ برسوں میں تین برس سے موجودہ حکومت برسر اقتدار چلی آ رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شرح نمو کے حوالے سے اس حکومت کی کارکردگی اپنے دور حکومت کے گزشتہ دو سال سے بہتر ہے اور سابق حکومت کے پورے پانچ سالہ دور میں شرح نمو کا ہندسہ 3 فیصد کے لگ بھگ تھا۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ کپاس کی فصل اچھی نہیں ہوئی اس لئے یہ ہدف بھی حاصل نہیں ہوا۔ زرعی شعبے کی کارکردگی تو مجموعی طور پر تسلی بخش نہیں رہی اس لئے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے قومی اقتصادی کونسل اور کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجٹ میں زرعی شعبے پر توجہ دی جائے۔

گزشتہ کئی سال سے بجٹ میں ریونیو جمع کرنے کا جو ہدف رکھا جاتا تھا وہ حاصل نہیں ہو پاتا تھا چنانچہ اس ہدف پر نظرثانی کرکے اسے کمتر سطح پر لایا جاتا تھا۔ 2014-15 ء کے بجٹ میں تو اس ہدف پر دو دفعہ نظرثانی کی گئی اور ہدف کم کیا گیا لیکن اب کی بار امید ہے کہ 3100 ارب روپے کا ہدف حاصل ہو جائے گا کیونکہ ٹیکس جمع کرنے کی رفتار اب تک تسلی بخش ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے مقابلے میں یہ بڑی کامیابی ہے۔ پچھلے تجربات کو پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو اس سال بھی خدشات موجود تھے کہ کہیں ٹیکس ہدف کم نہ کرنا پڑ جائے لیکن وزیر خزانہ کے مطابق یہ ہدف حاصل ہو جائے گا۔ اگرچہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ٹیکس 6200 ارب روپے جمع کرنے کا پوٹینشل ملک میں موجود ہے جہاں اب تک 3100 ارب روپے بھی حاصل نہیں ہو رہے اور پہلی مرتبہ اتنی رقم جمع ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے وہاں دگنے ریونیو کی امید رکھنا فی الحال تو خوش فہمی ہی ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت آئے تو شاید یہ رقم حاصل ہو پائے لیکن ابھی دلی دور ہے۔ زرعی شعبے کی کارکردگی اگر اچھی نہیں رہی تو صنعتی شعبے نے مایوس نہیں کیا اور گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسائل کے باوجود صنعتی شعبے کی پیداوار میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر توانائی کی سپلائی کے لحاظ سے موسم اچھا رہے اور صنعتوں کو بجلی اور گیس ملتی رہے تو اس شعبے میں مزید کامیابیوں کی امید کی جاسکتی ہے۔ بینکوں سے قرضوں کی شرح سود اس وقت 42 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور صنعت کاروں کے تصور سے بھی کم ہے۔ اس وقت یہ شرح 5.75 فیصد ہے۔ پاکستان کی برآمدات اگرچہ کم ہوئی ہیں اور ان میں اضافے کی اشد ضرورت ہے تاہم اس کمی کو ترسیلات زر نے بڑی حد تک پورا کیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے سال رواں میں 16 ارب ڈالر پاکستان بھیجے اس سال ترسیلات زر میں 5.25 فیصد اضافہ ہوا۔ قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان کو اب آئی ایم ایف سے مزید پروگرام لینے کی ضرورت نہیں رہی۔ چند دن پہلے سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف پر زیادہ انحصار اچھا نہیں کیونکہ اس طرح فنڈ کی بہت سی شرائط ماننی پڑتی ہیں۔ شوکت عزیز کو خوش ہونا چاہئے کہ ان کی بات سن کر حکومت نے آئی ایم ایف سے مزید پروگرام لینے سے انکار کردیا ہے۔ دنیا کے امیر ملک بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امریکہ جیسا ملک ان سرمایہ کاروں کو بھی فراخ دلی سے مراعات دیتا ہے جو امریکہ میں معمولی سی سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کسی بھی ملک کیلئے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان سرمایہ کاروں کو ترغیبات دیتا رہتا ہے تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری توقع سے کم ہے۔ سال رواں میں البتہ 5.4 فیصد اضافہ ہوا، سب سے زیادہ سرمایہ کاری بجلی اور گیس کے شعبوں میں ہوئی، ریلوے اور پی آئی اے کی کارکردگی میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے تاہم یہ دونوں ادارے ابھی منافع کمانے کے قابل نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی کارکردگی ایسی ہے جسے تسلی بخش کہا جاسکے تاہم اگر یہ آگے کی طرف بڑھنا شروع ہوئی ہے تو لائق تحسین ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تین کروڑ 20 لاکھ افراد مستفید ہوئے اور اس طرح غربت میں کمی آئی لیکن اس ضمن میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا انکم سپورٹ کی یہ رقم مستحق لوگوں تک پوری طرح پہنچ رہی ہے یا درمیان میں اسے بھوت اچک کر لے جاتے ہیں کیونکہ ایسی شکایات عام ہیں کہ جعلی شناختی کارڈوں پر اور جعلی تصدیق ناموں پر غیر مستحق لوگ یہ رقم لے اڑتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -