آج شام وفاقی بجٹ، عوام کے نام پر عوام پر بوجھ ،ٹیکس بڑھیں گے

آج شام وفاقی بجٹ، عوام کے نام پر عوام پر بوجھ ،ٹیکس بڑھیں گے

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین

آج اسلام آباد میں وفاقی بجٹ پیش ہو رہا ہے، اس کے حوالے سے اشاریئے تو سامنے آ چکے۔ حجم، ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات اور اکثر ٹیکسوں کے حوالے سے بھی تفصیل نشر اور شائع ہو چکی اس کے باوجود فنانس بل پیش ہونے تک کچھ بھی ہو سکتا اور ہوتا رہا ہے۔ اکثر یہ بھی کہا گیا کہ آخری وقت میں کوئی چھپا ٹیکس خفیہ ہتھیار کے طور پر نکال کر لاگو کر دیا گیا، محترم اسحاق ڈار اب سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور معاشرے کے اس طبقے سے ریلیف کی توقع کم اور جیب خالی کرانے کا طریقہ زیادہ آزمودہ ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بھی ٹیکس نیٹ بڑھانے کا الزام لگاکر ہر اس طبقے کے مسائل میں اضافہ ہوگا جو ٹیکس دیتا ہے اور ٹیکس چھپانے والے پھر بھی پکڑے نہیں جائیں گے کہ وہ تو سرمایہ میں سے حساب الگ کر لیتے ہیں۔ وزیرخزانہ فائیلر اور نان فائیلر کے چکر میں گاڑیوں کی رجسٹریشن ،بنک لین دین، جائیدادوں کی خرید و فروخت اور درآمدی اشیاء کا نام لے کر ہر اس شے پر ڈیوٹی کی شرح اور سیلز ٹیکس بڑھانا چاہتے ہیں جو عام آدمی کے استعمال کی ہے۔ نام میک اپ کی امپورٹڈ اشیاء کا لیا جا رہا ہے لیکن ٹیکس کی شرح میں اضافہ اچار اور جام پر بھی کر دیا جائے گا۔

بجٹ جو بھی ہو یہ الفاظ کی ہیرا پھیری ہوتا ہے اور اس میں چھپے ٹیکس پالے جاتے ہیں۔ مواصلاتی دور کے باوجود ایف بی آر کے تعاون سے وزارت خزانہ یہ کر گزرتی ہے۔ دیکھیں کیا گزرتی ہے قطرے پہ گہر ہونے تک، آج شام یہ سانپ بھی پٹاری سے نکل آئے گا، اس بجٹ پر توجہ یوں بھی زیادہ ہوتی ہے کہ صوبائی حکومتوں کے بجٹ کا انحصار بھی اس پر ہے کہ اسی بجٹ سے ان کو حصہ ملنا ہوتا ہے۔

عوام پہلے ہی بجلی، گیس، تیل اور اشیاء ضرورت و خوردنی کی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اوپر سے ڈیوٹیوں میں اضافہ، سیلز ٹیکس بڑھانے اور فائیلر نان فائیلر کا چکر چلا کر ان کو مزید مجبور کیا جا رہا ہے اور دعویٰ معیشت کے استحکام اور ملکی ترقی کا ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں کا ذکر ہو گا لیکن صحت، تعلیم اور روزگار کے حوالے سے مایوسی ہوگی۔ بہرحال آج سم سم کھل جائے گا۔

افسوس تو اس امر کا ہے کہ ہر جمہوریت اور جمہوری دور اور حکومت میں حزب اختلاف پہرے دار اور چوکیدار ہوتی ہے لیکن یہاں تو بات ہی مختلف ہے، اپوزیشن بھی تعمیری مخالفت اور عوامی مسائل پر بات کرتے اور حقائق سامنے لانے کی بجائے ’’باری، باری‘‘ کھیل رہی ہے۔ تحریک انصاف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو باریوں کا طعنہ دیتی اور لیتی ہے، ’’اب میری باری ہے‘‘ حزب اختلاف سے موثر تنقید اور عوامی جذبات کے مطابق حکومت پر دباؤ بڑھاتی ہے لیکن یہاں تو فرینڈلی اپوزیشن کا الزام لگایا جاتا لیکن خود پارٹی تسلیم کر لیتی ہے۔

اس وقت تعلقات میں تناؤ ہے۔ پاناما لیکس کا ڈیڈ لاک ختم کرانے کے لئے سپیکر ایاز صادق نے مداخلت کی ہے کل (ہفتہ) پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہے اس میں اس ڈیڈ لاک کو توڑنے اور بات آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، جس کی امید کم ہے، یہ سلسلہ نہ ٹوٹے گا نہ تیزی سے آگے بڑھے گا، حالانکہ فریقین کے بیانات اور اعلانات غماز ہیں کہ سب احتساب چاہتے اور کرپشن ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں لیکن عمل یہ ہے کہ نہ تو پاناما کمیشن کے لئے پیش رفت کی جا رہی ہے اور نہ ہی احتساب بل کو منظور کرنے کی کوئی تیاری ہے حتیٰ کہ انتخابی اصلاحات کا مسودہ تیار کرکے رکھ لیا گیا، کب وکلاء سے نکلے گا اور کب اطلاع دی جائے گی یہ معلوم نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری والد کے بلاوے پر دبئی گئے ہیں، واپس آئیں گے تو معلوم ہوگا کہ کس نے کس پر فتح پائی۔ ویسے یہ تاثر درست نہیں کہ دونوں متحارب ہیں، باپ بیٹا ہیں اور ایک دوسرے کو اکاموڈیٹ کرتے ہیں۔ ویسے غور طلب بات ہے کہ ہلیری کلنٹن نے بلاول کے جلوس کی فوٹیج دیکھ کر تعریف کر دی، والد محترم اسے روکنا چاہتے ہیں کہ وہ تجربہ کار ہیں۔

مزید :

تجزیہ -