رمضان، مہنگائی اور سبسڈی!

رمضان، مہنگائی اور سبسڈی!

  

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزہ داروں کی سہولت کے لئے سستے بازار اور اشیائے ضرورت پر سبسڈی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی سٹوروں کے ذریعے اشیائے خوردنی اور ضروریات کی قیمتوں میں معتدبہ رعایت دی ہے، جبکہ پنجاب کی صوبائی حکومت کی طرف سے رمضان بازاروں نے کام شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پانچ ارب روپے کی سبسڈی سے آٹا، گھی اور چینی سستی مہیا کی جائے گی۔ دوسری اشیائے خور ونوش اور ضروریات پر بھی رعائتیں دی گئی ہیں۔

وفاقی اور پنجاب حکومت کی ان کوششوں پر تنقید نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حوصلہ افزائی کی جائے، لیکن کیا یہ عجیب نہیں کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے منافع خور اشیاء کا ذخیرہ کرکے بتدریج قیمتیں بڑھاتے چلے گئے، اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ ماش کی دال 300 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ اب تو حالات یہ ہو گئے ہیں کہ دال کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے قیمتیں بڑھا دی گئیں ،اب سبسڈی کے ذریعے نرخ کم کئے گئے ۔ یوٹیلٹی سٹوروں سے چینی 60روپے فی کلو، گھی وناسپتی 115 روپے فی کلو اور دال ماش273 روپے فی کلو ملے گی۔ یہ کیا خوب حکمت عملی ہے کہ بازار میں بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کا سرے سے کوئی انتظام ہی نہیں، اس کی بجائے سبسڈی دی جاتی ہے اور یہ سبسڈی بھی عوامی خزانے سے ہی ادا ہوتی ہے۔ یوں عوام ہی کو ہر طرح سے زیربار کیا جاتا ہے۔یہ پوچھنے کا حق تو ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا جاتا؟

مزید :

اداریہ -