نئے پارلیمانی سال میں جمہوری روایات مستحکم کریں

نئے پارلیمانی سال میں جمہوری روایات مستحکم کریں

  

صدرِ مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ مُلک میں پائیدار ترقی اور استحکام جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں، ہمارا جمہوری نظام تمام بحرانوں سے نپٹ سکتا ہے، پاکستان کے اُفق پر ترقی کا نیا سورج دیکھ رہا ہوں، اپوزیشن حکومت پر غیر قانونی مرضی مسلط نہ کرے، ذاتی ضِد کو جمہوریت اور ترقی کے آڑے نہیں آنا چاہئے۔ حزب اختلاف کی تنقید کوحکومت اپنی طاقت بنا لے۔ آپریشن ضربِ عضب کے اہداف اِسی سال حاصل کر لیں گے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کسی جماعت یا حکومت کا نہیں،یہ پورے مُلک اور خطے کا ہے،کسی مُلک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں، ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد امن اور برابری ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ترقی کا عمل تین سال سے جاری رکھا ہُوا ہے، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل چاہتے ہیں، ہمارے سیاسی نظام میں اتنی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ مختلف قسم کے بحرانوں کا سامنا کامیابی سے کر سکے۔ گزشتہ تین برس کے دوران نرم گرم اور تلخ و شیریں ہر طرح کے ماحول میں ہمارا یہ جمہوری سفر کامیابی سے جاری و ساری رہا اب یہ قوم کے ہر فرد، ہر طبقے اور ہر ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی زندگی میں فروغ پانے والے اس مثبت رجحان کو توانا اور قوی بنانے کے مشن میں دِل و جان سے شریک رہے۔

صدرِ مملکت کے خطاب سے نئے پارلیمانی سال کا آغاز ہوتا ہے، موجودہ پارلیمینٹ نے اپنے تین برس مکمل کر لئے ہیں اور چوتھے سال میں قدم رکھ دیا ہے، پارلیمینٹ کے ہر رُکن کی کوشش ہونی چاہئے کہ آج جو سال شروع ہوا ہے اِس میں بہتر پارلیمانی روایات قائم ہوں۔ گزشتہ تین برسوں میں اِس پارلیمینٹ نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں، تحریک انصاف کے تمام ارکان مستعفی ہو کر دھرنے پر بیٹھ گئے تھے اور پارلیمینٹ کے سامنے روزانہ ایسی تقریریں ہوتی تھیں جن میں اُن ارکان کے خلاف جو پارلیمینٹ کے اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے، سخت سُست الفاظ استعمال کئے جاتے تھے ارکانِ پارلیمینٹ کو اِن تقریروں میں چور اور ڈاکو تک کہا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ پارلیمینٹ ناکارہ ادارہ ہے۔ ایک موقع تو ایسا بھی آیا جب ارکانِ پارلیمینٹ کا اجلاس کے لئے شاہراہِ دستور کے دروازے کے راستے اندر جانا ممکن نہ رہا اور ارکان ایوانِ صدر کے راستے سے پارلیمینٹ بلڈنگ میں آتے جاتے رہے۔ اسمبلی کے باہر اِن کڑوی کسیلی اور جوشیلی تقریروں کے بعد تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی میں آنا شروع ہو گئے تو اصل ضرورت اِس بات کی ہے کہ وہ پارلیمینٹ کی کارروائی میں دلجمعی سے حصہ لیں اور اس کی کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کریں۔ اس وقت انتخابی اصلاحات کی جو کمیٹی کام کر رہی ہے اور جس میں پارلیمینٹ کی تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے وہ اگر آئینی ترمیم کر کے ایسی انتخابی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، جن کے ذریعے انتخابات آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ ہو پاتے ہیں اور اِن کا اعتماد قائم ہو جاتا ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

سیاسی جماعتوں کو انتخابی نظام سے جو جائز شکایات ہیں اُنہیں کمیٹی میں لایا جائے اور ان کے ازالے کے لئے ایسا طریق کار وضع کیا جائے کہ شکایات کم ہو سکیں، دُنیا میں جتنے بھی انتخابی نظام ہیں ان میں بھی کہیں نہ کہیں سقم موجود ہیں، لیکن زندہ قومیں وقت کے ساتھ ساتھ غلطیوں کی اصلاح کر کے آگے بڑھتی رہتی ہیں اور جو نئی شکایات پیدا ہوں انہیں دور کرتی ہیں، محض پرانی شکایات کا رونا رونے اور اُنہیں دور کرنے کی کوششوں سے گریز کی پالیسی اپنا کر نظام میں کوئی اصلاح نہیں کی جا سکتی، نہ محض تنقیدی رویئے اپنا کر بہتری لائی جا سکتی ہے، اِس کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔2013ء یا اِس سے پہلے کے عام انتخابات میں جو بے قاعدگیاں روا رکھی گئیں اُنہیں دور کرنے کے لئے کمیٹی کے سامنے لانا چاہئے، اگر اِس کمیٹی میں ایسی اصلاحات نہ لائی جا سکیں، جن سے آنے والے انتخابات میں بہتری ہو سکے تو اِس کے لئے ارکانِ پارلیمینٹ کو ہی ذمہ دار گردانا جائے گا، نظام کی خرابیاں دور کرنے کی بجائے بعض لوگ اِس کی بساط لپیٹ دینے کی جو بات کرتے ہیں وہ کسی طرح صائب نہیں، اِس طرح تو کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا، بلکہ ایسے نئے مسائل پیدا ہو جائیں گے جن کا حل بھی شاید نظر نہ آئے۔

صدرِ مملکت نے اپنے خطاب میں جو باتیں کہی ہیں اُن میں غورو فکر کے بہت سے پہلو ہیں، جن امور کا تذکرہ انہوں نے نہیں کیا یا انہیں اپنی تقریر میں جگہ دینا مناسب نہیں سمجھا اُن کی جانب تو اپوزیشن نے بھرپور توجہ دِلا دی ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا کیا اس میں غورو فکر کا کوئی سامان نہیں؟ بنیادی بات تو انہوں نے یہی کہی ہے کہ ہمارا جمہوری نظام اب استحکام کی جانب گامزن ہے اور یہ بحرانوں سے نمٹ سکتا ہے، دھرنے سے پیدا شدہ حالات پر غور کیا جائے تو ان کی یہ دلیل کافی وزنی ہے تاہم جمہوری نظام کی مضبوطی کے لئے صرف حکومت ہی نہیں اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمینٹ کا کردار بھی ہے اور مُلک میں استحکام کے لئے ضروری ہے کہ تمام پارلیمانی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں،جو جماعتیں پارلیمینٹ سے باہر ہیں وہ بھی کوشش کریں کہ اگلے انتخابات میں ایسا منشور پیش کریں، جس سے متاثر ہو کر عوام ان کے ارکان کو منتخب کر کے پارلیمینٹ میں بھیجیں۔ جمہوریت سڑکوں پر دھرنے دینے سے مضبوط نہیں ہو گی، نہ ٹرین مارچ کر کے کسی جماعت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے کرپشن کے خاتمے میں اپنا کرادا کر دیا ہے، بدعنوانی کی جڑیں ہمارے معاشرے میں جتنی گہرائی میں جا چکی ہیں اس کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کرنے اور ادارے بنانے کی ضرورت ہے، جو ہر قسم کے حالات میں بلا خوف و خطر کام کرتے رہیں اور عملی اقدامات سامنے لائیں، محض نعرہ بازی سے یہ کام ہونے والا نہیں ہے، پارلیمینٹ مضبوط ہو گی تو نظام مضبوط ہو گا اور نظام کی مضبوطی سے قومی زندگی میں استحکام اور قرار آئے گا۔

مزید :

اداریہ -