کرپشن کے خلاف کارروائی نظر کیوں نہیں آتی ؟

کرپشن کے خلاف کارروائی نظر کیوں نہیں آتی ؟
کرپشن کے خلاف کارروائی نظر کیوں نہیں آتی ؟

  

قومی احتساب بیورو کے سربراہ جسے عرف عام میں نیب کہا جاتا ہے، قمر الزمان چوہدری حال ہی میں اپنے محکمہ کے عمال اور دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ لینے کراچی آئے تھے۔ خبر کے مطابق انہوں نے کارکردگی اور رفتار پر برہمی کا اظہار کیا۔ نیب وفاقی سطح پر اسلام آباد کے ساتھ ساتھ صوبائی سطحوں پر بھی کارروائی کرتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم کردہ نیب احتساب کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا ۔ اس کے پہلے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل امجد کو جب محسوس ہوا کہ ان کے ہاتھ باندھے جارہے ہیں اور جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ہی مداخلت کی جارہی ہے تو انہوں نے مستعفی ہونے میں بہتری جانی۔ پاکستان میں احتساب کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں طویل عرصے سے جاری ہے لیکن کرپشن کی بھی بہتات ہے۔ بااثر سیاسی افراد کے علاوہ بااختیار افسران اور غیر سرکاری افراد کرپشن میں د ھنسے ہوئے ہیں۔ اگر کرپشن نہ ہوتی تو لوگ بیرون ملک سرمایہ نہ لے جاتے اور پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں قائم نہ ہوتیں۔ دبئی میں جا ئیدادیں نہ خریدی جاتیں۔ حکمرانوں نے ا حتساب اپنی اپنی ضرورت کو مد نظر رکھ کر کیا ہے۔ کوئی بھی حکمران خلوص نیت کے ساتھ احتساب کرنے اور کرانے میں کامیاب نہیں رہا ہے۔ پارلیمنٹ جس طرح انتخابی اصلاحات پارلیمنٹ میں موجود سیاست دانوں کے مفادات کو مد نظر رکھ کر کر تی ہے اسی طرح کے رویہ کا سامنا احتسابی عمل کو بھی در پیش ہے۔ حال ہی کی بات ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کسی معاملے پر نیب پر برہم تھے اور اس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کر بھی دیا تھا۔ بات یہ ہے کہ احتسابی عمل اور ادارے کو ہر قسم کی مداخلت سے محفوظ بنانا ہی پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔ اس ملک میں گزشتہ دو عشروں میں جس طرح کرپشن نے اپنی حدود پار کی ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ ادارے قائم کر لینا اہم کام ضرور ہوتا ہے لیکن اس ادارے کی کارکردگی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ سینکڑوں ادارے قائم کئے گئے، بہت سارے زمین بوس بھی ہو گئے ۔ کارکردگی کسی شعبے میں بھی بہتر نہیں ہوئی۔ انسداد کرپشن کے لئے بنیادی ادارہ صوبائی حکومتوں میں محکمہ انٹی کرپشن قائم کئے گئے ۔ وہ ادارے اپنی ناقص ترین کارکردگی کی وجہ سے نیک نامی کی بجائے بدنامی کا باعث ہی بن گئے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے قائم کیا گیا ، جس کی غلط کاریوں کی ہوش ربا داستانیں موجود ہیں۔ نیب تشکیل دی گئی ، وہ اپنے اہداف اس لئے حاصل نہیں کر سکی کہ حکمرانوں کی مداخلت نے اس کے پر ہی تراش دیئے۔ ادارے میں جو لوگ بھی آئے انہوں نے بھی ملازمت کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔

نیب کے پاس موجود مقدمات کی رفتار کیا ہے، پیش رفت کیا ہے ، تازہ ترین صورت حال کیا ہے ۔ سب ہی صورت حال جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پلی بارگین اور والنٹری اسکیم کی اپ ڈیٹ رضا کارانہ ادائیگی اسکیم کی تازہ ترین تفصیل نیب کی ویب سائٹ پر موجود ہی نہیں ہے۔ جون 2015 سے آگے کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔ صرف ایک ہی مثال لے لیں کہ بلو چستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے جو کروڑوں روپے بر آمد ہوئے ، ان کا مقدمہ کس مرحلے میں ہے، کراچی میں محکمہ بلڈنگ کنٹرول اور دیگر محکموں پر جو چھاپہ مار کارروائیاں کی گئیں، گرفتاریاں بھی ہوئیں اور ملزمان بیرون ملک فرار بھی ہو گئے، ان معاملات میں تازہ تریں صورت حال سے لوگوں کو آگاہ رکھنا بھی نیب کی ذمہ داری ہے۔ نیب پر لوگوں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ حالیہ دو سالوں میں جو کارروائیاں کی گئی ہیں وہ اس پر اعتماد کی بحالی کی وجہ ہیں۔ اسی لئے ان کے بارے میں نیب کو تازہ ترین صورت حال اپنی ویب سائٹ پر ضرور رکھنا چاہئے۔

نیب کے سربراہ خود کہتے ہیں کہ 2014 نیب کے لئے وہ سال ہے جب اسے ہوا کا تازہ جھونکا ملا۔ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک طرح سے نیب کا نیا جنم ہے۔ لیکن نیب اپنے اس جنم میں بھی 2006میں دائر مقدمات کے فیصلے نہیں کرا سکی۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، چودھری شجاعت، پرویز الہی، بلوچستان کے سابق وزیر اعلی اسلم رئیسانی اور دیگر سینکڑوں افراد کے خلاف درج مقدمات کے نتائج سامنے نہیں آئے تو لوگ نیب پر کیوں اعتماد کریں گے۔ افراد کی ساکھ سے کہیں زیادہ اداروں کی ساکھ ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہی مسئلہ رہا ہے کہ حکمرانوں نے اداروں کی ساکھ کو تو داؤ پر لگایا ہی لیکن افراد کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر 179 ایسے مقدمات کی فہرست پیش کی گئی جسے میگاکیسزکا نام دیا گیا ۔ اس میں سے 81 میں معلومات جمع کرنے کی کارروائی جاری ہے، 53 میں تحقیقات جاری ہیں، 45 عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ مقدمات میں طوالت کے پیش نظر ہی نیب حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ دس ماہ کے اندر ہر مقدمہ کی حتمی صورت حال پیدا کر دی جائے گی۔ دو ماہ میں شکایت کی تصدیق کا مرحلہ پورا ہوگا، چار ماہ میں انکوائری مکمل کی جائے گی اور اس کے بعد چار ماہ میں تفتیش اور تحقیقات مکمل کر لی جائیں گی۔ یہی حل ہے کہ لوگوں کو کارکردگی نظر آئے ، صرف یہ نعرہ کہ ’’ کرپشن سے انکار کرو ‘‘ لگانے اور شائع کرانے سے کرپشن کا سدباب ممکن نہیں ہوگا۔

مزید : کالم