دیوانِ حریفِ حافظ (4)

دیوانِ حریفِ حافظ (4)
دیوانِ حریفِ حافظ (4)

  

کتاب دیوانِ حریفِ حافظ

شاعر: چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ

موضوع: فارسی شاعری

ناشر: پاکستان لٹریچر اکیڈمی، لاہور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خواجہ حافظِ شیراز کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ مشکل، دقیق اور بارِ خاطر بننے والے قوافی کو غزل کی ایسی بحروں میں نظم کرتے ہیں کہ قاری کی زبان ان کی قرات سے چٹخارے لیتی اور لطف محسوس کرتی ہے۔ مثلاً ایسے قوافی جن کے آخر میں ث، ح،خ، ع،غ، ق، ک، ص اور ض جیسے حروف آتے میں ان کا ردیفی استعمال کسی بھی شاعر کے لئے چیلنج بن جاتا ہے۔ اس لئے جن شعراء نے اپنے دواوین میں یہ التزام رکھا ہے کہ سارے ہی حروفِ ابجد ان کی غزلوں کے آخر میں آئیں ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ متقدمین میں اس روش کا رواج ضرور تھا لیکن جوں جوں زبان نے ترقی کی اور فصاحت و بلاغت ولطافت کا چلن عام ہوا تو متاخرین نے ایسے ادق قوافی کا استعمال چھوڑ دیا۔

سکول کے زمانے میں کبھی کبھی ’’بزمِ ادب‘‘ کے پیریڈ میں اساتذہ کرام کی نگرانی میں بیت بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے اور جو طلباء ان میں حصہ لیا کرتے تھے وہ ایسے اشعار نجانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کے لاتے تھے جن کے آخر میں وہ حروف آتے جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ مثلاً چونکہ حرف ’’ڑ‘‘ سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا اس لئے پہاڑ، دراڑ وغیرہ والے قوافی کے اشعار پڑھنے کی ان بیت بازی کے مقابلوں میں ممانعت ہوا کرتی تھی۔ لیکن دوسرے مشکل اورنامانوس حروف مثلاً ض، ص، ط، ظ، ژ وغیرہ والے قوافی ہم طلباء پرانے اساتذہ مثلاً مصحفی، آتش، ناسخ، انیس، دبیر، سودا، میر درد وغیرہ کے دواوین میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے تھے اور مخالفین کو مشکل میں ڈال دیا کرتے تھے۔ یہی کام ہمارے حریف بھی کیا کرتے تھے۔چونکہ ایک فریق کے شعر کا آخری حرف، دوسرے فریق کے شعر کا پہلا حرف ہوا کرتا تھا اس لئے یہ ایکسرسائز بڑی دلچسپ ہوتی تھی۔ ساتویں اور آٹھویں کلاس میں یہ ہنگامے عام ہوا کرتے تھے۔ ہم بھی ان میں کبھی کبھار شریک ہوجایا کرتے تھے۔ آج چونکہ خود اساتذہ میں شعر و سخن کا ٖذوق ناپید ہے، اس لئے بیت بازی کا کوئی نام تک نہیں جانتا۔

میں عرض کر رہا تھا کہ جن الفاظ کے آخر میں ایسے حروف آتے جن کے صوتی اثرات سماعت پر گراں گزرتے تو ان کو شعرائے قدیم اپنی غزلیات میں بطورِ قافیہ (بدونِ ردیف) کم کم استعمال کیا کرتے تھے۔ خواجہ حافظ کے دیوان میں بھی ان حروف پر ختم ہونے والی غزلیں بہت کم ہیں۔ لیکن جتنی بھی ہیں ان میں غنائیت اور نغمگی کا عالم وہی ہے جو حافظ کی دوسری غزلوں میں پایا جاتا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ قارئین کی خدمت میں خواجہ حافظ کی ایک ایسی ہی غزل پیش کروں جس کی پیروی کوثر نے بھی کی ہے اور اسے خوب نبھایا ہے۔ پہلے تو یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ کوثر نے ایسی جتنی بھی غزلیں کہی ہیں ان کی بحریں، اوزان اور قوافی وہی رکھے ہیں جو حافظ کی غزلوں میں استعمال ہوئے۔ مثلاً حائے حُطی (ح) پر ختم ہونے والے اشعار کی دو غزلیں حافظ نے موزوں کی ہیں اور ایک غزل کوثر نے ۔آیئے ان میں سے بعض اشعار کو کوثر کے اشعار کے مقابل رکھ کر دیکھتے ہیں کہ ان کی ’’حریفانہ کشاکش‘‘ کس شان کی ہے۔ اس ردیف میں حافظ کا شعر ہے:

بیا کہ خونِ دلِ خویشتن بحل کردم

اگر بمذہبِ تو خونِ عاشق است مباح

[آؤ کہ میں نے اپنے دل کا خون جو تیرے مذہب میں مباح (جائز) تھا (اور میرے مذہب میں گناہ تھا) تمہیں معاف کر دیا ہے۔]

اب کوثر کا شعر دیکھئے:

جنون و عشق ندانند فرقِ صبح و مسا

کہ چشمِ عقل شناسد، حدِ گناہ و مباح

[عشق اور دیوانگی میں تو صبح و شام کا احساس نہیں رہتا لیکن عقل کی آنکھ گناہ و مباح کی حد کا ادراک رکھتی ہے]۔۔۔میں یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ اگر شاعر نے اس شعر میں عقل وعشق اور جنون و خرد کے مابین تمیز کرنے کا موضوع بیان کیا ہے تو یہ کوئی نیا موضوع ہے یا نہیں۔

اسی غزل میں خواجہ حافظ نے ’’ملاح‘‘ کے قافیے سے یہ مضمون پیدا کیا ہے:

زدیدہ ام شدہ صد چشمہ درکنار رواں

کہ خود شنا بکند درمیانِ آں ملاح

[میری آنکھوں سے (آنسوؤں کے) سینکڑوں چشمے جاری ہو کر میری بغل میں بہہ رہے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ ان چشموں میں وہ ملاح(محبوب) نہانے آئے اور جیسے اس کی مرضی ہو، تیرتا پھرے]۔۔۔ یہ بڑا شوخ مضمون ہے جو حافظ نے باندھا ہے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کے چشمے پھوٹ کر عاشق کی بغل (کنار) میں بہہ رہے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ محبوب آئے اور اس چشمے میں غوطے لگا کر کبھی بغل سے اِدھر نکل جائے اور کبھی اُدھر اُبھر آئے۔ عاشق کی بغل میں محبوب کا اس طرح مسلسل متحرک ہونا کتنا لطف آگیں ہوتا ہے اس کی تشریح اور تعبیر کے لئے کسی نوبیاہتا جوڑے کی طرف رجوع فرمایئے یا چشمِ تصور سے اپنے آپ کو اس ’’صورتِ حال‘‘ میں رکھ کر دیکھئے۔۔۔ انشاء اللہ سب سمجھ آ جائے گی!

کوثر نے ملاح کے اس قافیے میں وہی پرانا مضمون باندھا ہے کہ میں اگر اپنی قوتِ بازو کو اپنا ملاح نہ بناؤں تو طوفان سے تیر کر کیسے نکلوں گا؟

بہ دستگیریء طوفاں چساں شنا بکنم

اگر بہ قوتِ بازو نمی شوم ملاح

اب ’’صباح‘‘والا قافیہ دیکھتے ہیں۔ حافظ کہتا ہے :

زمانِ شاہ شجاع است و دورِ حکمتِ شرع

براحت اے دل و جاں کوش در مَسا و صباح

[شاہ شجاع کا زمانہ ہے اور شرع اور حکمت کا دور دورہ ہے اس لئے میری جان! صبح و شام کوشش کر کہ زمانے کے ساتھ چل سکے]۔۔۔ حافظ نے شیراز میں کئی بادشاہوں اور حکمرانوں کا دور دیکھا جن میں کئی سخت گیر تھے اور کئی لبرل۔ شاہ شجاع کا دور تاریخِ شیراز میں نفاذِ شرع کا دور سمجھا جاتا ہے۔ حافظ نے اس شعر میں گویا اپنے دور کی ترجمانی کی ہے۔

اسی قافیے میں اب کوثر کا شعر دیکھئے:

در آسیائے شب و روز من چساں بزیم

مثالِ دانہ بسائد خراسِ شام و صباح

[میں اس شب و روز کی چلتی چکی میں، کس طرح زندگی گزاروں کہ گندم کے دانوں کی طرح یہ خراس (چکی) دن رات چل رہی ہے اور مجھے پیس رہی ہے]۔۔۔ کوثر نے دونوں مصرعوں میں ایک ہی مضمون ادا کیا ہے۔۔۔یہی مضمون بھگت کبیر کے ایک دو ہے میں بھی بیان ہوا ہے:

چلتی چاکی دیکھ کر پیا کبیرا روئے

دوپاٹوں کے بیچ میں ثابت بچے نہ کوئے

حافظ اور کوثر دونوں ہی نے اپنے دورِ موجودہ پر تبصرہ کیا ہے۔لیکن مجھے دونوں شعروں میں کسی دلآویز شعریت یا نئے مضمون کا سراغ نہیں ملا۔ البتہ اس ردیف میں کوثر نے ایک ایسا قافیہ بھیف استعمال کیا ہے جو حافظ کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔۔۔ شعر یہ ہے:

زہے مقامِ محبت ، زہے نوازشِ عشق

کہ بے نیاز بباشم ز ازدواج و نکاح

[مقام محبت اور نوازشاتِ عشق کا کیا کہناکہ انہوں نے مجھے شادی اور نکاح وغیرہ کے جھنجھٹوں سے بے نیاز کر دیا ہے!]۔۔۔ مجھے خبر نہیں کوثرصاحب کے نزدیک محبت کا کیا مقام ہے اور عشق و عاشقی کی ان پر کتنی اور کیسی نوازشات رہی ہیں جنہوں نے ان کو نکاح اور شادی کے بغیرہی وہ سب کچھ ’’عطا‘‘کر دیا تھا جو نکاح اور شادی کے بعد ’’ہاتھ‘‘ آتا ہے۔ کبھی ملاقات ہوئی تو پوچھوں گا کہ حضرت اس شعر کی دوسری تفسیر یا’’روحانی تشریح‘‘ کیا ہے کہ ہمارے خیال میں تو عشق و محبت کا وفور کتنا ہی بڑھ جائے اور مقامِ الفت کتنا ہی ارفع و بلند ہو جائے ، نکاح و ازدواج، بے جانوازشات کے زمرے میں نہیں آتے اور نہ کوئی عاشق ان رسوم و قیود سے آزاد اور بے نیاز ہو سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا حالی کا شعر ہے

مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر

شہر میں کھولی ہے حالی نے دکان سب سے الگ

اس میں کوئی شک نہیں کہ کوثر نے جو مال اکٹھا کیا ہے وہ باوجود اس کے کہ اس کا حجم زیادہ نہیں لیکن جتنا بھی ہے گراں بہا ہے لیکن انہوں نے جو الگ دکان کھولی ہے اس میں گاہکوں کی آمد و رفت خود مالکِ دکان نے گویا بند کر رکھی ہے۔کوئی دکان اس وقت ہی بکتی یا کرائے پر چڑھتی ہے، جب اس کے لوکیشن اور اس کی تعمیر و تزئین دلکش ہو۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر اس دکان کا خریدار مشکل سے ملے گا:

1۔کتاب کی جلد بندی بہت ناقص ہے، کاغذ انتہائی سستا استعمال کیا گیا ہے۔ مختلف مسلوں کی سلائی دو چار بار ورق گردانی سے اکھڑنے لگتی ہے۔ ٹائٹل کا ڈیزائن بھی کسی کم ذوق ڈیزائنر کی پروڈکشن معلوم ہوتی ہے۔

2۔ کوثر صاحب کو میرے خیال میں اب کوئی ضرورت نہیں رہی کہ وہ اپنے نام کے ساتھ خود ساختہ قسم کے القابات لکھیں اور کتاب کے ٹائٹل پر بھی لگائیں۔ ایسا کرنا جگ ہنسائی کو دعوت دینا ہے۔ فقط ’’اصغر علی کوثر‘‘ لکھنا ہی کافی ہوگا۔دیوانِ میر، دیوان حالیِ یا کلیاتِ اقبال جیسے نام زیادہ موزوں اور معروف ہیں یا دیوانِ حریفِ حافظ ؟۔۔۔ یہاں تو شاعر کا جو نام لکھا ہے وہ مغلِ اعظم کے ورودِ جلوس کی تقریباتی منادی سے بھی طویل ہو گیا ہے۔۔۔ اب ظلِ سبحانی باقی رہ گیا ہے وہ بھی لکھ دیں تو وہ منادی پوری ہو جائے گی ۔

3۔اعراب گو بڑی احتیاط سے لگائے گئے ہیں لیکن پروف ریڈنگ کی پراسس میں کئی غلطیاں ہیں۔مثلاً کسی ایک غزل میں ایک ہی شعر دو ، دو، تین، تین بار لکھ دیا گیا ہے۔ فہرست بھی نظر ثانی چاہتی ہے ۔ صفحہ 84 پر جو غزل درج ہے وہی صفحہ 15 پر بھی درج ہے۔

4۔ہر ورق کے حاشیئے پر ’’دیوانِ حریفِ حافظ: مجموعۂ غزلیات: نتیجۂ فکر و فنِ شہنشاہِ الفاظ و سلطان المعانی و تاجدار سخن، علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ مدظلہ العالی‘‘ لکھا ہوا ہے جو آج تک کسی زبان کی کسی مطبوعہ کتاب میں لکھا نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں ہر صفحہ پر جو چوکور خانے بنا کر حاشیہ لگایا گیا ہے، اس سے بھی کتاب کی طباعتی وقعت کم ہو گئی ہے۔

5۔کوثر صاحب نے لفظ ’’زہے‘‘ کو اپنی غزلوں میں 50 بار شعروں (یا مصرعوں) کے آغاز میں استعمال کیا ہے۔ ’’زہے‘‘ کی یہ گردان صاحبانِ ذوق پر گراں گزرتی ہے۔

6۔کتاب کا ٹائٹل تو صفحہ نمبر ایک پر دیا گیا ہے جبکہ ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کے دو طغرے صفحہ نمبر 2 پر درج ہیں۔۔۔۔ یعنی گھوڑا پیچھے اور تانگہ آگے؟

7۔اظہارِ حقائق والے صفحے کی ضرورت بھی نہ تھی اور اسی طرح ہدیہ احترام میں اگر صرف ’’مرحوم والدینِ گرامی‘‘ لکھ دیا جاتا تو بہت بہتر تھا۔

8۔صفحہ نمبر ایک پر جو ٹائٹل دیا گیا ہے اسے صفحہ نمبر 5 پر بھی دوبارہ چھاپ دیا گیا ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے۔

9۔ صفحہ نمبر 6 پر چار مصرعوں پر مشتمل ایک فارسی قطعہ دیا گیا ہے جس کو صفحات نمبر 17،29،34،40،42،49، 52،63، 75،78،96، 99، 132 ،142، 147، 156،185، 199، 205، 233، 241،253، 258، 260، 270، 275، 301،306اور 312 پر بھی من و عن اور ہو بہو چھاپ دیا گیا ہے۔۔۔ بندہ پوچھے 29 بار ایک ہی قطعہ کو طبع کرنے کی کیا تُک ہے؟ یہ قطعہ ’’خورشید گوہر قلم‘‘ صاحب کی قلم سے لکھا ہوا ہے اور بہت خوبصورت خطاطی میں ہے۔ خورشید گوہر قلم صاحب نے اچھا کیا ہے کہ اس میں یہ بھی لکھ دیا ہے: ’’بہ فرمائش حضرت علامہ ابو البیان اصغر علی کوثر وڑائچ‘‘ ۔۔۔یعنی درجن بھر القابات کے بعد بھی کوثر صاحب کا جی نہیں بھرا اور دو مزید القابات یعنی ’’حضرت‘‘ اور ’’ابوالبیان‘‘ اس قطعہ میں اضافہ کر دیئے گئے ہیں۔۔۔ اس فارسی قطعہ کا ترجمہ یہ ہے۔’’ رب تعالیٰ کا نام لے کر اس کو بڑے شوق سے پڑھئے کہ یہ کلام مجھے خدا کی طرف سے دریعت فرمایا گیا ہے۔ میں اس افلاک کے نیچے حافظِ شیرازی کا حریف ہوں۔ خدا کرے میں بھی ان کی طرح ادراک کی بلندیوں پر پہنچ جاؤں۔‘‘۔۔۔ بندہ پھر ایک بار پوچھے کہ اس پیشکش اور دعا کو 29 بار دہرانا چہ معنی دارد؟

10۔شروع میں آٹھ صفحات پر مشتمل ایک پیش لفظ بھی ہے جس کا عنوان ہے: داستانِ تکمیل ’’ دیوانِ حریف حافظ‘‘ از قلم علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ ۔۔۔پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ آٹھ صفحات ’’سبک سرگودھوی‘‘ میں لکھے گئے ہیں۔ اگر یہ دیوان پنجاب یونیورسٹی کو بھی بھیجا گیا ہے اور خانہ ء فرہنگ ایران کو بھی ارسال کیا گیا ہے تو وہاں کے اربابِ ذوق اس ’’تعارف‘‘ کو پڑھ کر خوب محظوظ ہوں گے کہ پاکستان میں فارسی زبان کا ایک نیا ’’سبک‘‘ ایجاد ہو گیا ہے۔

کوثر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ درج بالا حقائق پر غور فرمائیں۔ اگر یہ دیوان ایران جائے گا اور ایران کے علاوہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور قازقستان میں بھی جائے گا کہ ان ممالک کی زبان فارسی ہے تو مجھے یقین ہے ان ممالک میں یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔ اس لئے اس کی قیمت ڈالرز/ پاؤنڈز میں بھی لکھ دیجئے۔ ٹیلی فون نمبر بھی کتاب میں ہونا چاہئے اور اگر ای میل ایڈریس ہو تو وہ بھی ضرور دیجئے۔۔۔ دل چاہتا تھا اس تذکرے اور تبصرے کو جاری رکھوں کہ ایک مدت کے بعد ایسی خوبصورت فارسی غزلیں دیکھنے کو ملی ہیں جن کو پڑھ کر زبان حلاوت سے بھر جاتی ہے۔ لیکن:

سکوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ

زباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تابِ سخن بھی ہے

ختم شد

مزید :

کالم -