حرمین شریفین۔۔۔ مسلمانوں کے دینی‘ علمی و روحانی مراکز

حرمین شریفین۔۔۔ مسلمانوں کے دینی‘ علمی و روحانی مراکز

جناب مولانا شفیع اللہ سلفی (میانوالی):

فرمان الٰہی ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے (عبادت، قربانی، طواف، نماز اور اعتکاف وغیرہ کے لیے) وہ جو مکہ مکرمہ میں ہے جو تمام دنیا کے لیے برکت و ہدایت والا ہے جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں اور مقام ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہو جائے اس کو امن مل جاتا ہے۔ (آل عمران: ۹۶۔۹۷)

ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور آس پاس کا علاقہ جو کہ حجاز کہلاتا ہے یہ وہ علاقہ ہے جہاں اللہ کے آخری رسولﷺ نے سفر و حضر گزارے، جہاں وحی الٰہی اترتی رہی، نزول قرآن ہوتا رہا، دین حق، اسلام کی اشاعت یہیں سے شروع ہوئی جس کا ذکر احادیث نبویﷺ میں وضاحت سے موجود ہے۔ جہاں سب سے پہلے دین پر عمل ہوا، جہاں صحابہ کرامؓ کے شب و روز گزرے، جہاں انتہائی تنگی کی حالت میں دین اسلام کے لیے قربانیاں دی گئیں، بدر و حنین، خندق اور احد کی جنگیں ہوئیں اور جہاں سے دنیا میں دین پھیلا اور جہاں آخر کار پوری دنیا سے سکڑ کر ختم ہو گا اور قیامت قائم ہو گی۔ جو حرمین شریفین کی صورت میں مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے۔ حرمین شریفین کے مقام اور شرف و فضیلت کے متعلق قرآن پاک کے علاوہ احادیث، سیرت اور تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ لیکن انتہائی اختصار کے ساتھ چند دلائل پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے مکہ شہر میں قائم اپنے گھر کے متعلق چند چیزیں ہمیں بتائیں۔

* یہ کہ سب سے پہلا گھر جو خالص اللہ کی عبادت کیلئے قائم کیا گیا وہ (بیت اللہ) مکہ مکرمہ میں ہے۔

* جو برکت والا ہے۔

* جو تمام جہان کیلئے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

* امن والی جگہ ہے جبکہ یہ مقام اور فضیلت روئے زمین کے کسی دوسرے حصہ کو حاصل نہیں۔ سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر۳۷ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی دعا کا ذکر فرمایا جس کو رب کائنات نے شرف قبولیت عطا فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے میرے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد (حضرت اسماعیلؑ ) کو ایک ایسے میدان میں لا کر بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں (بلکہ ریت اور خشک پہاڑیاں ہیں) تیرے ادب والے گھر (بیت اللہ) کے پاس۔ اے اللہ! تا کہ وہ نماز قائم کریں پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں (اہل مکہ) کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ تیرا شکر کریں۔ جناب رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسجد الحرام کے اندر نماز پڑھنے والے کو ایک نماز کے بدلے ایک لاکھ نماز کا ثواب ملتا ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ (بوقت ہجرت) آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اے مکہ! اللہ کی قسم تو تمام زمین سے مجھے زیادہ محبوب ہے اور سب سے بہتر ہے۔ اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔ حرم مدینہ طیبہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی (اے میرے نبی!) وہ مسجد اس لائق ہے کہ آپ اس میں (نماز پڑھنے کیلئے) کھڑے ہوں، اس میں وہ لوگ (عبادت کرتے) ہیں جو کہ خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاکی کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ (توبۃ: ۱۰۸) واضح ہو کہ بعض مفسرین نے اس سے مراد صرف مسجد قباء لی ہے۔ لیکن رسول اللہﷺ سے مسند احمد، ترمذی اور صحیح مسلم میں اس کی تفصیل موجود ہے۔

جس میں آپﷺ نے اپنی مسجد (نبوی) کے علاوہ مسجد قباء کو بھی مسجد تقویٰ قرار دیا ہے اور ابن ماجہ میں رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ اے اللہ! میں تیرا بندہ (اورحبیب) اور پیغمبر، مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کو حرام قرار دیتا ہوں۔ صحیح مسلم میں رسول اللہﷺ کی یہ دعا منقول ہے: اے اللہ! تو ہمارے (مدینہ والوں کے) پھلوں میں برکت عطا اور ہمارے شہر (مدینہ منورہ) میں برکت ہی برکت کر دے اور ہمارے مد اور صاع (ناپ تول کے پیمانے) میں برکت عطاء فرما اور اے اللہ! تو مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ جیسا کہ مکہ مکرمہ کی محبت ہمارے دلوں میں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ایک اور حدیث نبویﷺ ہے کہ میری اس مسجد میں پڑھی گئی نماز کا ثواب ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ ایک اور روایت میں پچاس ہزارنمازوں کے ثواب کا ذکر ہے اور صحیح بخاری میں حضرت عمر فاروقؓ کی دعا ان الفاظ میں منقول ہے۔ اے اللہ! تو اپنے راستے میں مجھے شہادت نصیب فرما اور مجھے اپنے رسول کے شہر میں موت دے (چنانچہ ان کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا) مشکوٰۃ میں نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ دین کا (علم) حجاز (حرمین شریفین) کی طرف سکڑ جائے گا۔ صحیح بخاری و مسلم میں آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ایمان (قیامت کے قریب) مدینہ منورہ کی طرف اس طرح سکڑ جائے گا جس طرح سانپ (اردگرد پھر پھرا کر) اپنی بل میں سکڑ جاتا ہے۔

قرآن و حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کو پوری دنیا پر دین، برکت، رحمت، ہدایت اور ہر لحاظ سے فضیلت بخشی ہے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے مدرسہ صفہ کی بنیاد رکھی۔ وہاں سے تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ آس پاس پھیلتے چلے گئے اور دعوت و جہاد سے اسلام پھیلاتے چلے گئے اور تھوڑی سی مدت میں اسلامی ریاست کا دائرہ لاکھوں مربع میل پر پھیل گیا۔ چھوٹے بڑے مدرسوں کے علاوہ آج وہی نبوی مدرسہ صفہ ایک بہت بڑی یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جہاں پر دنیا بھر سے دس ہزار طلبہ ہر وقت موجود رہتے ہیں جس کا نام جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ ہے۔ اس کے علاوہ مدینہ منورہ میں دنیا کا سب سے بڑا پرنٹنگ پریس کام کر رہاہے جہاں سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مختلف زبانوں میں ترجمہ والے قرآن پاک بہترین کاغذ اور جلد سے آراستہ مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح مکہ مکرمہ میں چھوٹے بڑے مدرسوں کے علاوہ جامعہ القریٰ کے نام سے اور ریاض میں جامعہ امام محمد کے نام سے ایک یونیورسٹی قائم ہے جہاں کے فارغ التحصیل علماء پوری دنیا میں اسلام کی اشاعت اور ترویج میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ روئے زمین پر اگر کوئی مقام ہدایت و نجات کا سرچشمہ اور فضیلت و بزرگی والا ہے تو وہ حرمین شریفین ہے جہاں سے امت کیلئے ہدایت و رہنمائی کا آغاز ہوا۔ جس سرزمین سے اللہ رب العزت نے تمام کائنات کی ہدایت کیلئے محمد بن عبداللہﷺ کو منتخب فرمایا اور حرمین شریفین اور آس پاس کے قبائل کو ہادی کائنات کی جماعت کے طور پر چنا۔ چنانچہ محمدﷺ نے سرزمین حجاز میں اللہ کی کتاب اور اپنی احادیث (سنت) سے اس پاکباز جماعت (جماعت صحابہؓ و اہل بیتؓ) کی خصوصی تربیت فرمائی۔ اس طرح یہ اس امت کے اولیاء کی پہلی جماعت وجود میں آئی۔ جہاں سے آج بھی بڑھ چڑھ کر دین اسلام کی خالص دعوت کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ جہاں پر خالص قرآن و سنت پر منہج نبویﷺ اور منہج صحابہؓ کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ آئمہ حرمین شریفین اور عملہ حرمین شریفین دین خالص کی ترویج و اشاعت کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں، دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کریم اور احادیث نبویﷺ تراجم، آڈیو، ویڈیو اور سی ڈی کی صورت میں چاردانگ عالم میں مفت پھیلائے جا رہے ہیں۔

دنیائے اسلام سے آنے والے ہزاروں طلبہ کیلئے اسلامی یونیورسٹیاں جہاں مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ وظائف، تحفیظ القرآن الکریم کیلئے بے شمار حلقات، انٹرنیٹ پر فتاویٰ جات، ویب سائٹس، ریڈیو اور ٹیلی ویژن الغرض دین اسلام کی اشاعت کیلئے جدید دور کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے علماء حرمین شریفین اور حکومت سعودی عرب کا مکمل نیٹ ورک جاری و ساری ہے۔

کاش ہم پاکستانی مسلمان بھی آپس کے اختلافات کو بھول کر اپنے ان روحانی مراکز (مکہ، مدینہ) سے علمی و اصلاحی فیض حاصل کر کے ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعا‘‘ کی عملی تصویر بن جائیں۔ فرقہ بندیوں کو چھوڑ کر حرمین شریفین اور وہاں کی علمی میراث کے ساتھ تمسک کر کے ایک ہی فرقہ، ایک جماعت اور ایک ہی امت (مسلمہ) کہلائیں۔ جس طرح کفر ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کے طور پر ہم پر ہر طرف سے یلغار کئے ہوئے ہے۔ اسی طرح ہم بھی ایک ہی ملت کے طور پر کفر کے آگے کھڑے ہو جائیں تو کفر کو بھاگنے کے سوا چارہ نہ ہو۔

مزید : ایڈیشن 1