اسلام نے عورت کو کائنات میں شرف بخشا

اسلام نے عورت کو کائنات میں شرف بخشا

صاحبزادہ غلام نقشبندضیاء علوی:

اللہ پاک نے مذہب اسلام میں عورت کو وہ عظمت و رفعت کا تاج بخشا ہے کہ جس کے بارے میں عورت کے خیال میں بھی کبھی یہ چیز گزری نہ ہوگی کہ وہ کس مقام و مرتبہ پر فائز ہونے والی ہے ۔ اسلامی ضابطہ حیات کے سنہری اصولوں کے رائج ہونے سے قبل عورت کی تحقیر و تذلیل کی داستانیں اتنی ظلم انگیز تھیں کہ اگران پر قلم اٹھایا جائے تو ارض و سما ء کا نپ اُٹھیں مگر دین مُبین کی برکات ہیں کہ جس نے عورت کو کائنات میں شرفِ عزت بخشا کہ جنت جیسی عظیم مقدس چیز کو ماں جیسے مقدس رشتے کے پاؤں میں رکھ دیا۔ پھر بہن جیسا پُرخلوص رشتہ عطا کیا کہ جس کی بے لوث محبت انسان کے ذہن و قلب میں ہر وقت رقصاں نظر آتی ہے اور پھر انسان کو بیوی جیسے رشتے سے نوازا کہ جو اس کے لمحات رنج و راحت میں اچھے اور مخلص دوست کی طرح ساتھ نبھائے۔

بلاشبہ خدائے قدیر نے عورت کو وہ مقام عطا فرما دیا ہے کہ جس پر حورو غِلماں بھی محو جستجو ہیں لیکن ایک عورت کو یہ عظیم شرف اُسی وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ جب وہ دل سے اللہ پاک اور اس کے پیارے محبوبﷺکے احکامات کی پابندی کرے اور اپنی سیر ت کو سیدہ کائنا ت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرہؓ کا نمونہ بنا لے۔

اللہ پاک نے عورت پر ایک اور احسان عظیم کرتے ہوئے اس کی ہدایات و رہنمائی کے لئے حضور نبی پاکﷺ کی لاڈلی اور پیاری دختر سردار جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرہؓ کی حیات طیبہ خواتین کے لیے باعث نمونہ بنا دی تاکہ خواتین اس کو اپنا کر نجات حاصل کر سکیں۔ جنابہ سیدہ پاک وہ ہستی ہیں کہ جن کے متعلق حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے جب حضورﷺ سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سب کے بعد جس سے گفتگو کر کے سفر پر روانہ ہوتے وہ جنابہ سیدہ فاطمہؓ ہوتیں اور سفر سے واپسی پر بھی سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ آپ ہی ہوا کرتیں۔

آپ کے اعلیٰ و ارفع مرتبہ کے متعلق حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری بیٹی فاطمہ قیامت کے دن اس طرح اٹھیں گی کہ اس پر عزت کا جوڑا ہو گا جسے آبِ حیات سے دھویا گیا ہے پھر اسے جنت کا لباس پہنایا جائے گا جس کا ہر حُلہ ہزاروں حُلوں پر مشتمل ہو گا ہر ایک پر سبز خط سے لکھا ہوگا محمدﷺ کی بیٹی کو احسن صورت و اکمل ہیت تمام تر کرامت اور وافر عزت کے ساتھ جنت میں لے جاؤ پس آپ کو دلہن کی طرح سجا کر ستر (70)ہزار حوروں کے جھرمٹ میں جنت کی طرف لایا جائے گا تو اس شان اطہر کے بارے میں مزید کیا کہا جائے کہ جس کے متعلق حضور نبی پاکﷺ نے اتنی بشارتیں عطا فرمائی ہوں اور ان کو خاتون جنت یعنی جنت کی عورتوں کی سردار بھی فرمایا ہے۔

آپ کے سر پر بیک وقت کئی مقدس رشتوں کی ردائے عظمت موجود ہے آپ حضور نبی پاکﷺ کی لاڈلی اور پیاری دختر ہیں، حضرت علیؓ کی زوجہ محترمہ اور بس یہی نہیں بلکہ جنت کے سردار حضرت امام حسن و حسینؓ کی والدہ ماجدہ بھی ہیں۔

آپ کی سیرت پاک تمام خواتین کے لیے مشعل راہ ہے دورِ حاضر میں اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ اُمت کی عورت وہ کسی بھی رشتہ سے منسلک ہو خواہ وہ ماں ہو ، بیٹی ، بہن یا بیوی سب کے لیے لازم ہے کہ وہ تعلیمات حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرہؓ پر عمل پیرا ہوں تاکہ وہ اپنے دورِ رفتہ کی عظمت و رفعت کو حاصل کر سکے اور زرق و برق لباس اور اپنے بدن کی نمود و نمائش کی بجائے اپنے جسم پر جامہۂ حیا اوڑھے اور پردا بھی فیشن کی صورت میں نہیں بلکہ حیاء کی نیت سے کرئے اور اپنی اس چند روزہ زندگی کو تقاضہ دین پربسر کرنے کی کوشش کرئے اور ان بے سود چیزوں سے بچے کہ جن کی کبھی کوئی حقیقت تھی نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہو گی۔تو لہٰذا اس عالم رنگ و بو کی عیش و عشرت سے بہتر ہے کہ اپنا رشتہ اس مقدس اعلیٰ ہستی کے ساتھ استوار کیا جائے کہ جس کے قدموں کے طفیل ہی ایک عورت کے پاؤں میں جنت جیسی عظیم دولت رکھ دی گئی تو عورت کو عظیم دولت عظمیٰ نبی پاکﷺ کی غلامی اختیار کرنے کی صورت میں حاصل ہوئی اور بلا شبہ عورت کو اس مقام میں مکمل کامیابی و کامرانی اس وقت ہی ملے گی جب وہ اپنی زندگی کو سیدہ پاک کی سیرت کاعملی نمونہ بنائے و گر نہ جنت تو کیا زمانہ جاہلیت سے بھی بدتر تحقیر و تذلیل اور ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہ حاصل ہو گا۔

مزید : ایڈیشن 1