ماہر اقتصادیات نے بجٹ کو روایتی اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن قرار دیدیا

ماہر اقتصادیات نے بجٹ کو روایتی اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن قرار دیدیا

لاہور(اسد اقبال )ملک کے ممتاز معیشت دانوں اور ماہرین اقصادیات نے وفاقی حکو مت کی جانب سے آج پیش کیے جانے والے مالی سال برائے 2016-17بجٹ کو روایتی بجٹ سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسی انقلابی تبدیلی کی کو ئی امید نہیں ،یہ ویسا ہی ہو گا جیسا کہ پہلے آتا ہے جس میں غریب کو ریلیف کی بجائے مہنگائی ملے گی اور نئے ٹیکس پیئرز تلاش کر نے کی بجائے ٹیکس دہندگان پر نئے ناموں کے ساتھ مزید ٹیکسز لگائے جائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار ماہرین معاشیات واقتصادیات ڈاکٹر سلمان شاہ ، ڈاکٹر قیصر بنگالی ، کا شف چوہدری اور بیگم بسمہ نے پاکستان سے خصو صی گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ معیشت دانوں کا کہنا تھا کہ آج وفاقی حکو مت کی جانب سے پیش کیا جانے والا بجٹ جو کہ آئی ایم ایف کی ہدایت پر بن رہا ہے اس میں ورلڈ بنک اور بیرونی قر ضوں کی اقساط کی ادائیگی کے لیے یو ٹیلیٹی بلز اور ٹیکسوں کی شر ح میں اضافہ کیا جائے گا ۔ آج کے بجٹ میں حکو مت اعدادو شمار کا گورکھ دھندہ پیش کر ے گی ،حقائق اور اخراجات چھپا کر محصو لات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ بجٹ میں ریو نیو شارٹ فا ل ہو گا جبکہ نئے ناموں کے ساتھ ٹیکسز لگانے کی تجویزیں دی جائیں گی ۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکو مت ماضی کی طرح آئندہ مالی سال میں بھی اپنے مالیاتی اہداف پورے کر نے میں ناکام رہے گی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب تک حکمران اپنے قدرتی وسائل کو صحیح طر یقہ سے بروئے کار نہیں لاتے تب تک ملکی معیشت ہچکو لے کھاتی رہے گی تاہم ملکی معیشت کو مستحکم کر نے کے لیے توانائی بحران کا خاتمہ حکومت کی بجٹ میں اولین تر جیح ہو نی چائیے۔

مزید : صفحہ آخر