ترقی یافتہ ممالک کی صفط میں شامل ہونے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے

ترقی یافتہ ممالک کی صفط میں شامل ہونے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے

  

صوابی(رپورٹ: محمد شعیب)صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے حقیقی معنوں میں پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم ملک بنانے کے لئے تیزی سے ترقی پانے والے ممالک کے صف میں شامل ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقصد کے حصول سے ہمارا ملک معاشی اور خوشحال ملک بن سکے گاان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی سہ پہر غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ٹوپی ضلع صوابی میں بیسویں کانو کیشن کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔ جس میں سوسائٹی فار دی پروموشن آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے چیر مین و سابق وزیر اعلیٰ انجینئر شمس الملک کے علاوہ ساپرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر و سابق چیر مین واپڈا ڈاکٹر شکیل درانی، ایم پی اے حاجی محمد شیراز خان، ریکٹر انسٹی ٹیوٹ جہانگیر بشر ، پرو ریکٹر اکیڈمک پروفیسر ڈاکٹر جاوید اے چٹھہ، پرو ریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس حسن بصیر شیخ ، فارغ التحصیل طلبہ کے والدین ، کئی محکموں کے اعلیٰ آفسران ، اکیڈمیہ اور دیگر نے شرکت کی۔ گورنر نے اس موقع پر انجینئر نگ کے مختلف شعبوں میں فارغ التحصیل 339بی ایس گریجویٹس اور 23ایم ایس گریجویٹس کو ڈگریاں اور اعلیٰ پوزیشن حاصل کر نے والے طلبہ کو گولڈ میڈلز دیئے قائد اعظم گولڈ مڈل طلحٰہ بن اسد ، غلام اسحاق خان گولڈ مڈل محمد ارسلان علی ،جب کہ فیکلٹی بیس مڈل شہباز علی ، شعیب ، عطاء اللہ خان ، عبدالصمد شاہ ، محمد ارسلان علی ، نعمان احمد ، برہان شبیر ، سید ہاشم شاہ ، سید اختشام گیلانی اور منیر احمد نے حاصل کئے۔گورنر نے گولڈ مڈل حاصل کر نے والے طلبہ کو فی کس کے حساب سے دس ہزار ور ڈبل مڈل حاصل کر نے والے طلبہ کو فی کس پندرہ ہزار روپے انعام دینے کے علاوہ جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ کے لئے دس لاکھ روپے فنڈ ز کی فراہمی کا بھی اعلان کیا گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ پاکستان کو ایسے قابل ترین انجینئرز کی ضرورت ہے جو تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور در پیش چیلنجز کا نہ صرف مقابلہ کر سکے بلکہ ان میں یہ قابلیت ، قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیت بھی ہو کہ وہ مسائل کا حل ڈھونڈ نکال لیں لیکن پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کا اخلاق کا معیار بھی بلند ہونا ہے ۔ کیونکہ رشوت نے ہماری معاشی ، سیاسی اور معاشرتی ڈھانچے کو نہایت متاثر کیا ہے انہوں نے کہا کہ نالج بیسڈ اکا نومی جو کہ معاشی ترقی کا بنیادی تصور ہے تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے ترقی کی رفتار میں نا قابل یقین تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے اور ہمیں اس دوڑ میں شامل ہونا ہے آج کل ہم ایسی دُنیا میں رہ رہے ہیں جس میں سائنس ، انجینئرنگ اور ٹیکنا لوجی نے کافی ترقی کی ہے فاصلے کم ہو تے جارہے ہیں دنیا ایک گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکا ہے سائنس میں ترقی کے باعث قابل ستائش تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں انجینئرز کا کر دار نہایت اہمیت کا حامل ہے تعلیمی اداروں کے لئے اشد ضروری ہے کہ وہ مزید محنت کر کے ایسے طلبہ پیدا کریں جن کا اخلاقی معیار بلند ہونے کے علاوہ ان میں پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھی موجود ہوں اور وہ اپنے مفادات کو قومی مفاد ات پر ترجیح نہ دیں انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان واقعی معاشی طور پر مزید مستحکم ہونا چاہتا ہے تو انہیں تیزی سے ترقی پانے والے ممالک کے دوڑ میں شامل ہوتے ہوئے معاشی اور خوشحالی کے مقاصدحاصل کر نے ہونگے انہوں نے کہا کہ کانوکیشن کا انعقاد فارغ التحصیل طلبہ،والدین اور فیکلٹی ممبران کے لئے ایک یاد گار موقع فراہم کرتا ہے۔طلبہ کی خوابیں شرمندہ تعبیر ہو تا ہے اور وہ عملی زندگی کاآغاز کر تے ہیں گورنر نے کہا کہ جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ انجینئرنگ اور ریسرچ کا ایک معیاری ادارہ ہے جس پر ہمیں فخر ہے اس ادارے نے ایسے انجینئرز پیدا کئے جس نے پاکستان کو ترقی سے ہمکنار کر نے میں ایک کلیدی کر دار ادا کیا ہے تقریب سے سابق صوبائی وزیر اعلیٰ اور ساپرسٹ جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ انجینئر شمس الملک نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے قوموں کی ترقی میں تعلیم کا بنیادی کر دار ہے جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ ایک ایسا ادارہ ہے جس نے اچھے انجینئرز پیدا کئے ہیں جو ملک کی ترقی میں اپنا بھر پور کردا ر ادا کر رہے ہیں اس موقع پر ریکٹر جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ جہانگیر بشر نے کہا کہ جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ اکیڈمیہ انتھک کوشش کر رہا ہے کہ ایسے قابل انجینئر زپیدا کر سکے جو معاشرے کو ٹھوس اور دور رس کامیابیاں دلوانے میں کامیاب ہوہم طلبہ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ پیچیدہ مسائل کا حل خود ڈھونڈ نکال لیں جس کا نہ صرف انہیں بلکہ معاشرے کو بھی فائدہ ہو انہوں نے کہا کہ جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ سے فارغ ہونے والے طلبہ ہمارے سفیر ہیں جو دنیا کے ہائیر ایجو کیشن کے اداروں نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جس پر ہمیں فخر ہے پر و ریکٹر اکیڈمک پروفیسر ڈاکٹر جاوید اے چٹھہ نے جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ میں پڑ ھائے جانے والے مختلف انجینئرنگ کے ڈسپلنز ، نصابی اور غیر نصابی سر گر میوں پر تفصیلی روشنی ڈالی #

مزید :

راولپنڈی صفحہ اول -