تعلیم دلانے کے بہانے کمسن بچہ لے جانیوالوں نے واپسی کیلئے تاوان مانگ لیا

تعلیم دلانے کے بہانے کمسن بچہ لے جانیوالوں نے واپسی کیلئے تاوان مانگ لیا

  

شاہ جمال(نمائندہ پاکستان)دینی تعلیم کی غرض سے آٹھ سالہ بچے کو لے جانے والوں نے تین لاکھ روپیہ تاوان مانگ لیا۔ورنہ جان سے ماردینے کی دھمکی پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔بیٹ(بقیہ نمبر48صفحہ7پر )

قائم شاہ کے رہائشی اللہ وسایا نے پولیس تھانہ شاہ جمال کو دی گئی درخواست میں موئقف اختیارکیاکہ حافظ حسنین احمد اورمحمدساجد اسکے پاس اسکے اٹھ سالہ بچے منظوراحمد لینے آئے جواسنے معززین علاقہ سلطان،ابراہیم اوراللہ ڈیوایا کے سامنے بچے کو انکے حوالے کیا۔تین روزبعد بچے کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ گوجرانوالا کے گاؤں میں موجود ہیں۔اور بچے کوپڑھا رہے ہیں۔بات کرانے کا مطالبہ تو ملزمان نے لیت ولعل سے کا لینا شروع کردیا۔شک گزرنے پر وہ علی محمد،حافظ نور محمداورخادم حسین کے ہمراہ وہاں پہنچاتوبچہ موجود نہ تھا۔انہوں نے چندیوم میں بچہ گھرپہنچانے کا وعدہ کیاْبچے کے واپس نہ آنے پرمعززین علاقہ کے ہمراہ بچے کی واپسی کامطالبہ کیا۔توانہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بچہ ان کے پاس نہ ہے۔جس پر اسنے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے نچے کوقتل کردیا ہے۔یاپھر اسے اونٹ ریس کے لیے اسے دوبئی بھجوا دیا ہے۔اور یہ دینی تعلیم کے بہانے مذکورہ ملزمان بچوں کولیجاکر بچوں کو اونٹ ریس کے لیے دوبئی بھجوادیتے ہیں۔آخری کوشش کے طور پر جب اسکی بیوی کلثوم اپنے بچے کی واپسی کرنے کیلیے ان کے گھر گئی تو ملزمان اورانکی والدہ نسیم مائی نے تین لاکھ روپے تاوان طلب کرتے ہوئے کہا کہ بوجہ عدم ادائیگی رقم انکے بچے کی جان کوخطرہ ہوسکتا ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی۔

تاوان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -