ضلع کونسل مردان ،مانیٹرنگ کیلئے 39 کمیٹیاں تشکیل

ضلع کونسل مردان ،مانیٹرنگ کیلئے 39 کمیٹیاں تشکیل

  

مردان ( بیورورپورٹ ) ضلع کونسل مردان نے ماتحت محکموں کی مانیٹرنگ کے لئے39 مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دیں جمعرات کے روز ایک نجی شادی ہال میں کونسل کا اجلاس کنونےئر اسدعلی کی صدارت میں ہوا جس میں ضلع ناظم حمایت اللہ مایا نے کونسل کے ماتحت اداروں کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دینے کے لئے اراکین سے رائے لی جس میں اراکین کونسل نے طارق عزیز کو فنانس کمیٹی ،مولانا امانت شاہ حقانی کو ڈسٹرکٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اوراحمد سلطان کو کنڈکٹ آف بزنس کمیٹی کا چےئرمین مقرر کر دیا ہے جبکہ ملک الیاس کو بلدیات و دیہی ترقی ، سجاد خان کو ورکس اینڈ وسز،ممتاز بھادر کو پبلک ہیلتھ ،شفیق احمد کو ہیلتھ بی ایچ یوز،مولانا عرفان اللہ کوایجوکیشن پرائمری (مردانہ)،عائشہ خان کو (زنانہ)،سلیم خان کوایجوکیشن ہاےئر (مردانہ) ،شبینہ ناز کو (زنانہ) ،آصف خان کوسپورٹس اینڈ کلچر،واحد علی کو ریونیو اسٹیٹ،فرخ سیر ایڈوکیٹ کوسل کنزر ویشن اینڈ واٹر مینجمنٹ ،خبیب احمد کو ایشورینس کمیٹی، سلیم خان بازار کو زراعت ،ملک شوکت کو جنگلات،واجد علی کومیونسپل ایڈمنسٹریشن ،شیر بھادر کو فوڈ،سردار خان کو فنی تعلیم اور نعیم انور کو کمپلینٹ سیل کمیٹی کا چےئرمین مقرر کر دیا۔ ایوان نے کثرت رائے سے کمیٹیوں کے چےئرمینوں کی منظوری دیدی۔اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے ضلع ناظم حمایت اللہ مایار نے کہا کہ عمران خان اپنے وعدے کے مطابق مقامی حکومتوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 50فیصد حصہ منتقل کردیں تاکہ عوام کے مسائل میں کمی آسکے انہوں نے کہا کہ ضلع حکومت کو تاحال سالانہ اے ڈی پی کی صرف دو اقساط مل گئی ہے اور دو بقایا ہے جس سے عوام کے فلاح و بہود کے منصوبے التواء کا شکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کو فنڈز میں بخل کر رہی ہے اور پھر بعد میں مقا می حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ایم پی ایز اور ایم این ایز کا کام قانون سازی ہے لیکن پھر بھی انہیں زیادہ فنڈز اور بلدیاتی اداروں کو کم فنڈز دےئے جا رہے ہیں ۔ بعدازاں کنونےئر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -