ماہ مقدس کی آمد مہنگائی کا طوفان، ذخیرہ اندوز متحرک، اشیائے خوردنوش کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے

ماہ مقدس کی آمد مہنگائی کا طوفان، ذخیرہ اندوز متحرک، اشیائے خوردنوش کے نرخ ...

ساہوکا،باگڑ سرگانہ،سلطان کالونی،احمد پور شرقیہ،جھوک اترا،چوٹی زیریں(نمائندگان)ماہ مقدس شروع ہونے سے قبل ہی اشیائے خورد نوش کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ائیر کنڈیشنر اور ائیر کولر کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں،ذخیرہ اندوز بھی متحرک ہوگئے، اس سلسلہ میں ساہوکا سے نمائندہ پاکستان کے مطابق ساہوکا اور گردونواح جملیرا،دیوان صاحب،کچی پکی میں رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہی کریانہ اور سبزی فروشوں نے اشیاء خوردونوش،سبزیاں اور پھلوں کے ریٹ آسمان کو چھونے لگے اسی طرح سبزیاں اور پھلوں کی قیمتیں لہسن160لیموں260کیلا 150 آم 100 سیب 140 خربوزہ50روپے فروخت ہو رہے ہیں کریانہ والوں نے بھی روز مرہ کی استعمال ہو نے والی چیزیں مثلا گھی ،چینی ،دالیں وغیرہ بھی مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں ۔عوامی حلقوں ،محمد افضل بھٹی،محمد اقبال بھٹی،ناصر کمال،میاں ظہور احمد ،محمد یار جوئیہ،محمد ریاض بھٹی،بشیر احمد موہل،پیر حاجی قربان ،پیر عابد حسین،پیر محمد اقبال،پیر عمر حیات نے کمشنر ملتان،ڈی سی او وہاڑی سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے ۔باگڑ سرگانہ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق رمضان شریف کی آمد کے ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاکوپر لگ گئے ہیں د الیں بیسن معدہ سبزیاں پھل وغیرہ سب غریب کی پہنچ سے باہرچند چھوٹے دوکانداروں کو جرمانے کر کے اس مسئلے کوہرگزحل نہیں کیاجاسکتا جب تک بڑے مگرمچھوں پرہاتھ نہیں ڈالا جائے گاچند سوروپے کمانے والے دوکاندار غریب کو توآئے روز جرمانے کیے جارہے ہیں لیکن پھر بھی مہنگائی کنٹرول نہیں ہوسکی۔جودوکاندارایک روپیہ ناجائز منافع لیتا ہے اُسے توہزاروں میں جرمانہ ہوجاتا ہے لیکن جولاکھوں کمارہے ہیں اُن سے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ۔سلطان کالونی سے نمائندہ پاکستان کے مطابق ماہ رمضان کے آنے سے پہلے ہی سلطان کالونی میں مہنگائی کا طوفان آگیا کریانہ سبزی فروشوں مرغی فروشوں ،برف فروشوں نے اپنی من مانی کے نرخ مقرر کردیے ۔ ریٹ لسٹ تو کسی کے پاس بھی نہیں ہوتی نہ ہی کبھی کسی نے ان کو چیک کیا شہریوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان ،ڈی سی او مظفرگڑھ سے اپیل کی ہے کہ اس دفعہ تو سلطان کالونی میں رمضان بازار لگایا جائے تاکہ غریب نادار سادہ لوح شہری بھی سستی اشیاء لے سکیں ۔احمد پور شرقیہ سے سٹی رپورٹر کے مطابق رمضا ن المبارک کے قریب آ تے ہی لوگوں کی طر ف سے اےئر کنڈیشنر اور اےئر کولر کی خریداری میں زبر دست اضافہ ہو گیاہے۔ او را ن دوکاند اروں پر گاہکوں کا رش نظر آ تا ہے۔ جس کو دیکھتے ہوئے دوکانداروں نے ان کے نرخوں میں اضافہ کردیاہے۔ اور لوگوں سے منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔ جبکہ اےئر کنڈیشنر کی فٹنگ کر نے والے گاریگروں کی مانگ میں بھی اضافہ ہو گیاہے۔جھوک اترا سے نمائندہ پاکستان کے مطابق ماہ مقدس کی آمد نزدیک ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے عوام کو گرانفروشوں کے چنگل سے آزاد کرانے کی زحمت گوارہ نہ کی یونین کونسلز جھوک اترا،ہزارہ،حاجی کماند،جکھڑ امام شاہ،جلبانی،غوث آباد،حیدر قریشی،نوتک مہمید،بیٹ بیت والاسمیت 10 یوسیزکے ہزاروں خاندان کو ریلیف دینے اور حکومتی نرخوں پر اشیاء خورد ونوش فراہم کرنے کیلئے یکسر روائتی طور پر نظر انداز کر دیا گیا اور عوامی مطالبہ کے باوجود جھوک اترا میں رمضان بازار فیئر پرائس شاپس نہیں لگائے گئے اور نہ یوٹیلٹی سٹورز کی سہولت میسر ہے ۔شہریوں عبدالحئی خان،سید مدنی بخاری،منظور حسین میلادی،عبدالرحیم چانڈیہ ،محمد نعیم وسیر،ملک طاہر رفیق،گلزار احمد ،رانا موسیٰ ،ملک محمد اصغر ،ملک منیر حسین ،ڈاکٹر مرید حسین سمیت و دیگر سینکڑوں نے احتجاج کرتے ہوئے خود ساختہ مہنگائی کے فوری کنٹرول یوٹیلٹی سٹورز ،رمضان بازارفیئر پرائس شاپس،مدنی دستر خوانوں کا کمشنر ڈیرہ ،ڈی سی او ڈیرہ سے پر زور مطالبہ کیا ہے ۔ماہ رمضان سے قبل جھوک اترا کے گراں فروشوں نے مہنگائی کے طوفان برپا کر دیے ہیں رمضان شریف میں پھل، گوشت ،چینی ،کھجور ،مشروباتاور دیگر اشیاء ضروریات میں اضافہ ہو گیا ہے جس پر جھوک اترا کے دوکانداروں نے خود ساختہ ریٹ مقرر کر کے سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے کیلئے کمر باندھ لی ہے جس کی وجہ شہری شدید پریشانی سے دوچار ہیں ۔چوٹی زیریں سے نامہ نگار کے مطابق تاجروں نے ماہ رمضان سے پہلے ہی مختلف اشیاء خوردنوش سٹاک کرنا شروع کر دی جس سے مہنگائی کا طوفان مارکیٹ میں آ گیا ۔ غریب دیہاڑی دار طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔رمضان سے پہلے ہی چینی۔آٹا۔دالیں ۔گھی ۔گوشت ۔سبزیاں اور فروٹ کی قیمیتں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔شہر بھر میں بیف کے گوشت کی سرکاری قیمت 240 کی بجائے 300روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ دوکانداروں کے پاس ریٹ لسٹ مہیا نہ ہونے سے صارف اور دوکانداروں میں توں تکرار روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔ شہر بھر میں کسی دوکاندار کے پاس ریٹ لسٹ تک آویزاں نہیں ہوتی جس سے پرائس کنٹرول کمیٹیکی کارکردگی کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔شہریوں نے ڈی سی او ڈیرہ غازیخان سے فی الفورریٹ لسٹ کے مطابق قیمتوں کی فروخت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہ مقدس

مزید : ملتان صفحہ آخر