یوم سقوط، ملتان سرائیکی رہنماؤں کے احتجاجی مظاہرے، رنجیت سنگھ کا پتلا نذر آتش، نواب ظفر کو خراج تحسین پیش

یوم سقوط، ملتان سرائیکی رہنماؤں کے احتجاجی مظاہرے، رنجیت سنگھ کا پتلا نذر ...

ملتان ‘ جھوک اترا ‘ راجن پور ‘ مٹھن کوٹ ‘ صادق آباد ( سٹی رپورٹر ‘ نمائندگان ) سرائیکی صوبے کے قیام تک خاموش نہیں رہیں گے ، رنجیت سنگھ کی فتوحات کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ان خیالات کا اظہار سقوطِ ملتان و نواب مظفر خان شہید کی 198 ویں برسی کے سلسلے میں ہونیوالے احتجاجی مظاہرے کے موقع پر سرائیکی رہنماؤں نے خطاب کے دوران کیا ۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ میں مظاہرہ سرائیکستان عوامی اتحاد، پاکستان سرائیکی پارٹی ، سرائیکی انقلابی پارٹی ،کاروانِ مظفر شہیداور بلوچ سرائیکی اتحاد نے کیا ۔اس موقع پر خواجہ غلام فرید کوریجہ، پروفیسر شوکت مغل ، رانا محمد فراز نون ، علامہ اقبال وسیم، سید مہدی الحسن شاہ ، اکبر انصاری ایڈوکیٹ ، عابدہ بخاری ، اجالا لنگاہ ، سید اختر گیلانی ،رانا ذیشان نون ، مظہر کات، نور الامین خاکوانی ،احسان خان سدوزئی ، مظہر جاوید سیال ، غلام رسول گورمانی ، عاشق ظفر بھٹی ،شریف لاشاری نے خطاب کیا ۔ ظہور دھریجہ نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے ۔ نوجوان شاعر جاوید شانی اور بلال بزمی نے انقلابی گیت پیش کئے ۔احتجاجی مظاہرے کے دوران رنجیت سنگھ کا پتلا نذرِ آتش کیا گیا اور شرکاء نے رنجیت سنگھ مردہ باد ، نواب مظفر خان شہید زندہ باد کے نعرے لگائے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ قلعہ لاہور میں رنجیت سنگھ کے دربار کو پنجاب حکومت کی طرف سے مکمل پروٹوکول اور سیکورٹی حاصل ہے جبکہ عظیم سپہ سالار نواب مظفرخان شہید کی قبر لا وارث نظر آتی ہے ۔سرائیکی صوبہ بننے پر ہم نواب مظفر خان شہید کا دربار بنائیں گے ۔ احتجاجی مظاہرے میں عامر شہزاد صدیقی ، مطلوب بخاری ،اشرف خان لنگاہ ، مخدوم اکبر ہاشمی ، پروفیسر مظہر امام ، محترمہ صبا فیصل ، طیب سیال ،پروفیسر پرویز قادر خان ، خالد محمود ، سلیم فریدی ، عبدالستار تھہیم، عامر سلیم دھریجہ، ابوسفیان بلوچ، مختار لنگاہ، ظفر خان گڈو، امین کان بلوچ، زوار حسین جعفری ،افضا بٹ، کاشف بھٹہ ، سلطان دھریجہ، جاوید اقبال کھوکھر، اعجاز الرحمن ، ایوب بلوچ، شیخ بابر حفیظ ایڈوکیٹ ، منور خان جتوئی، ملک ظفر بوہڑ، حاجی عید احمد، زبیر دھریجہ ،اجمل فریدی ،ایاز محمود، کامران بھٹی ، ملک بلال ،اشفاق چغتائی، اجمل دھریجہ، ناصر سلیم، علی حیدر سیال ،رانا عرفان نون ، مشتاق خان ، ڈاکٹر یاسر پاندہ ، مہر اکرم سیال ، اعجاز احمدپوری اور دوسرے سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔ جھوک اترا سے نمائندہ پاکستان کے مطابق سرائیکستان قومی اتحاد کے زیر اہتمام عالی والا میں 2 جون کو سرائیکی وسیب کے ہیرو نواب مظفر خان سدوزئی کی ملتان میں رنجیت سنگھ کے ہاتھوں شہادت کے موقع پراحتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔مظاہرے کی قیادت سید صفدر حسین شاہ، خلیل خان چنگوانی، مہر حسین خان چنگوانی ،عبدالحکیم خان لغاری، سید کامران شاہ بخاری، فیض کریم بھٹی نے کی ۔اس موقع پرمقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی وسیب کے ہیرو نواب مظفر سدوزئی کی شہادت ایک نہ ایک دن روز رنگ لائے گی رنجیت سنگھ کے پیرو کار کو عبرتناک شکست ہو گی۔ مظاہرین نے پارٹی کے جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے مظاہرین نے پنجاب ہٹلر رنجیت سنگھ کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی اور نواب مظفر خان سدوزئی کو خراج عقیدت پیش کی۔ اس موقع پر سابق ٹکٹ ہولڈر عبدالحکیم خان لغاری نے کہا کہ اقتصادی راہداری کا روٹ سرائیکی خطے سے گزارہ جائے جس سے سرائیکی وسیب میں روز گار کے مواقع میسر ہوں گے ۔ تحصیل صدر مہر خان چنگوانی نے کہا کہ رنجیت سنگھ کے پیرو کار آج بھی موجود ہیں ہم اپنے ہیرو نواب مظفر خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سید کامران حسین بخاری نے کہا نواب مظفر علی خان سرائیکی وسیب کا ہیرو تھا اور ہم نواب مظفر کی شہادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر استاد محمد رمضان چنڑ، عبدالرشید صدیقی، سیف اللہ بھٹی، ظفر خان ملکانی، اللہ ڈتہ کھرل، غلام عباس عاربی، محمد عمران بھٹی، حاجی محمد یوسف کمہار، مہر محمد راشد کھکھ، سید شیر زمان حسین بخاری، سید عدنان حیدر بخاری، محمد صابر، محمد راشد پرہار، ملک غلام سرور ‘ غلام مصطفی ڈکھنہ، مہرا جمل، خادم حسین ڈکھنہ، اللہ بخش خان ڈکھنہ ،عبدالطیف علیانی، محمد اشفاق علیانی، محمد حسین کلاچی، غلام فرید لشاری، غلام فرید گھانگھلہ، ملک غلام حیدر کھکھ، مہر عبدعبدالغفور کھکھ، مہر سمیع اللہ کھکھ، مہر محمد اشفاق کھکھ، مہر محمد عاقب کھکھ، مہر سداقت کھکھ، غلام شبیر لغاری موجود تھے۔ دریں اثناء پاکستان سرائیکی پارٹی کے زیر اہتمام سقوط ملتان کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا ۔مظاہرے کی قیادت پاکستان سرائیکی پارٹی کے ڈویژنل صدر اللہ وسایا خان لنگاہ نے کی ۔ مظاہرین کے ہاتھ اٹھا کر رنجیت سنگھ اور اسکے پیرو کار وں کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی۔ اس موقع پر جمیل جوئیہ، زوہیب حسن لنگاہ، علی محمد نے بھی خطاب کیا ۔مظاہرین میں محمد یوسف کھوجہ ،امان اللہ، محمد جمیل سانگھی، سرفراز سانگھی، احسان احمس چنگوانی، عاشق حسین کورائی کے علاوہ کثیر تعدا دمیں کارکنان موجود تھے۔ علاوہ ازیں انقلاب ہمیشہ قومیں لاتی ہیں ان کیلئے عملی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے آج نواب مظفر خان کی شہادت کا دن ہے ،رنجیت سنگھ نے ہمارے سرائیکی وسیب کے ہیرو نواب مظفر کو شہید کروایا۔ یہ بات سرائیکستان قومی اتحاد ضلعی لیہ کے صدر سردار اللہ نواز خان سرگانی راجن پور جانے سے قبل ڈیرہ غازیخاں میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سات کروڑ سرائیکی عوام کا آئینی اور جمہوری مطالبہ فوری طور پورا کیا جائے۔ اس موقع پر علامہ مولانا محمد اشرف جھورڑ، محمد عمر فاروق سرکانی، سعد سرکانی، عبدالحمید راجا، مہر محمد اجمل کھکھ، حاجی غلام اکبر، حاجی غلام سرور ، مہر افتخار کھکھ بھی موجود تھے۔ قبل ازیں یس کیو آئی کے ڈویژنل صدر وامیدوار حلقہ پی پی 246عبدالحئی خان چانڈیہ کی قیادت میں رنجیت سنگھ کی قبضہ گیری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اس کا پتلانظر آتش کیا گیا اور نواب مظفر شہید کو زبردست طریقے سے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اس موقع پر امین خان میرانی ،مہر خان چنگوانی ،ملک غلام فرید سیوڑہ ،مرید حسین چانڈیہ ،عبدالمجید سیوڑہ کے علاوہ کئی پاڑتی رہنماء موجود تھے ۔ راجن پور سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق سرائیکستان قومی اتحاد کے زہر اہتمام محمد بخش براٹھا ضلعی صدر ایس کیو آئی ،ممبر سنٹرل کمیٹی ایس کیو آئی سردار خان لنڈ کی قیادت میں احتجاج مظاہرہ کچہری چوک راجن پور میں کیا گیا جس میں ضلعی صدر سرائیکستان قومی اتحاد محمد بخش براٹھا نے پرجوش صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تخت لاہور سے نہ صرف آزادی چاہتے ہیں بلکہ دو سو سالہ محرمیوں کا بھی حساب چاہتے ہیں ہمارا مطالبہ لسانی نہیں بلکہ دھرتی کا ہے اس لئے ہم 23اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کا قیام چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ممبر صوبائی کونسل ایس کیو آئی سردار خان لنڈ نے پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سرائیکستان کا قیام عمل میں نہیں آتا سرائیکی خطہ کو بجٹ میں نصف حصہ دیا جائے ۔ اس موقع پرسیف اللہ،نصراللہ حجانہ ،اسحاق خان لغاری اور سرائیکی انقلابی شاعر فیاض زاہد گبول اور سرائیکی مزاحمتی شاعر مرید حسین تاجر نے سرائیکی انقلابی نظمیں سنا کر حاضرین کو گرما دیا اور اپنی نظموں میں نواب مظفر خان شہید کو زبر دست خراج تحسین پیش کی اس موقع پر الطاف حسین لاکھا ،اکرم جتوئی ،سید شاہ جمال ،وقار حجانہ ،یونس حجانہ ،زاہد گوپانگ ،رانا نذیر بلال کورائی ،اسامہ کورائی ،اسامہ ملک ،باقر چانڈیہ ،استاد فہیم ،ثنااللہ بھٹی ،منصور علی بھٹی ،اسحاق ڈنڈور ،حفیظ اللہ حجانہ ،فرحان خان ،ڈاکٹر حامد عباس ،سید چاند بخاری ،طارق فریدی ،قمر سونترہ ،ملک محمد نواز ارائیں سمیت کثیر التعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ مٹھن کوٹ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی ،سرائیکی قومی موومنٹ اور سرائیکستان قومی اتحاد کے زیر اہتمام چک گبول میں مرید حسین تاجر کی میزبانی میں سرائیکی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شہداد خان گبول نے کی اور اس کانفرنس میں ایس کیو آئی کے مرکزی رہنما اسحاق خان لغاری ،ضلعی صدر کسان ونگ ایس کیو آئی منظور حسین جتوئی نے خصوصی شرکت کی اس کانفرنس سے بذریعہ ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے حمید اصغر شاہین نے کہا کہ دو جون 1818کو ظالم نواب رنجیت سنگھ نے خطہ سرائیکستان پر غاصبانہ کیا اور زبردستی پنجاب میں شامل کیا سات کروڑ سرائیکیوں کی پانچ ہزار سالہ پرانی تہذیب ثقافت ہے جس کو کسی طاقت سے مسخ نہیں کیا جاسکتا ۔اکبر خان ملکانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تخت لاہور سے چھولے دیکر پاس ہونیوالے سرائیکی وسیب پر حکمرانی کررہے ہیں۔اسحاق خان لغاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2جون سات کروڑ سرائیکیوں اور خطہ سرائیکستان کیلئے یوم عاشور کی اہمیت کا حامل ہے ۔ ضلعی صدر کسان ونگ ایس کیو آئی منظور حسین جتوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب رنجیت سنگھ کی باقیات اور دو سال سے پنجابی اسٹیبلشمنٹ وسیب پر ظلم کررہی ہے۔ اعظم عادل اور دل نازک نور پوری نے سرائیکی انقلابی ترانے پیش کئے اور شاعر حضرات مرید حسین تاجر،سنصراللہ ساجد ،مرید حسین تاجر ،بلال ساجد نے اپنے شاعری فن سے سرائیکی انقلابی نظمیں اور بند پڑھے اور پوری کانفرنس کو پرجوش رکھا اس کانفرنس میں 23اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کے قیام ،درگاہ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ پر عبادات پر پابندی کیخلاف ،سرائیکی وسیب کے قیمتی رقبوں کی غیر مقامی لوگوں کو الاٹمنٹ کی منسوخی کیلئے قرار داد منظور کی گئی ۔ صادق آباد سے تحصیل رپورٹر کے مطابق سرائیکی عوام اور اولیاء کرام کی سرزمین پر شب خون مارنے والے رنجیت سنگھ کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی سرائیکی عوام کیساتھ مسلسل ظلم نا انصافی حقوق سے محرومی اور سرائیکی خطہ کے حکمرانوں کی خاموشی افسوسناک ہے پاکستان میں پنجابی ‘سندھی ‘ پختون اور بلوچوں کیساتھ ساتھ سات کروڑ مظلوم سرائیکی عوام کوکبھی برابری کے حقوق اور الگ صوبہ سرائیکستان کے نام سے دیاجائے ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی اتحاد کے تحصیل صدر حافظ جاوید کوریجہ نے عہدیداران و ممبران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا‘اجلاس میں ملک ریاض سولنگی‘رئیس رمضان فریدی‘ عبدالصمد کوریجہ‘ حاجی بشیر کوریجہ‘ سبحان علی‘ رئیس منظورو دیگر بھی موجود تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر