ماہرین طوفانی ہواﺅں اور شدت کی پیشگوئی نہیں کرسکتے، محکمہ موسمیات

ماہرین طوفانی ہواﺅں اور شدت کی پیشگوئی نہیں کرسکتے، محکمہ موسمیات
ماہرین طوفانی ہواﺅں اور شدت کی پیشگوئی نہیں کرسکتے، محکمہ موسمیات

  

اسلام آباد (اے پی پی) محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول نے کہا ہے کہ محکمہ موسمیات کے ماہرن طوفانی ہواﺅ کے دورانیہ اور شدت کی پیشنگوئی نہیں کرسکتے اور رواں ماہ کے دوران گرمی کی شدید لہر کے نتیجے میں مزید تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے بدھ کو بارش اور گرد آلود ہواﺅ کے چلنے کی پیشنگوئی کی گئی تھی تاہم گرد آلود ہواﺅں کی شدت اور دورانیہ کی پیشنگوئی کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کو رات کو آنے والی طوفانی ہواﺅں کی کی وجہ گرمی کی شدت میں اضافہ تھا جس میں بارش کی وجہ سے کمی آئی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے دوران موسم کی صورتحال غیر مستحکم رہے گی اور ژالہ باریا ور گردآلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت گرمی کی شدت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اس وقت ژالہ باری اور گرد آلود ہواﺅں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جون اور جولائی کے دوران چونکہ گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے اس لئے گرم ہاﺅں کے چلنے اور ژالہ باری کے لئے یہ ماہ سازگار ہوتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے بتایا گیا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں 120 کلومیٹر اور راولپنڈی میں 150 کلومیٹر کی رفتار سے طوفانی ہوائیں چلیں۔ اس کا دورانیہ 30 سے 45 منٹ کے درمیان تھا۔ طوفانی ہواﺅں سے نقصان کی بڑی وجہ اس کی شدت میں اضافہ نہیں بلکہ دورانیہ کا زائد ہونا تھا۔ اس سے قبل 23 جون 2010ءکو 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طوفانی ہوائیں چلی تھیں جن کا دورانیہ 15سے 20 منٹ تھا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق راولپنڈی میں 23 افراد کو زخمی ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مزید : ماحولیات