وفاقی وزیر خزانہ آج بجٹ پیش کریں گے ، مجموعی حجم، 4,450 ارب، خسارہ 1250 ارب روپے رہنے کا امکان

وفاقی وزیر خزانہ آج بجٹ پیش کریں گے ، مجموعی حجم، 4,450 ارب، خسارہ 1250 ارب روپے ...
وفاقی وزیر خزانہ آج بجٹ پیش کریں گے ، مجموعی حجم، 4,450 ارب، خسارہ 1250 ارب روپے رہنے کا امکان

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2016-17 کا بجٹ آج پیش کر رہی ہے جس کی تفصیلات بھی منظرعام پر آ گئی ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق بجٹ کا مجموعی حجم 4 ہزار 450 ارب روپے، آمدنی کا ہدف 3620 ارب اور بجٹ خسارہ 1250 روپے رہنے کا امکان ہے۔

بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 800 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 143 ارب بیرونی امداد سے بھی حاصل ہوں گے۔ ترقیاتی بجٹ کا 97 فیصد جاری منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ توانائی منصوبوں پر 410 ارب روپے اور اقتصادی راہداری کیلئے 125 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ٹی ڈی پیز کیلئے 100 ارب روپے، شاہراہوں کیلئے 188 ارب روپے اور بلوچستان میں 100 چھوٹے ڈیمز کیلئے 20 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

بجٹ دستاویزات کے مطابق کابینہ ڈویژن، 9 شعبے اور 12 کارپوریشنز کیلئے 32 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جن میں سے 22 ارب روپے سبسڈی اور قر¾ضوں کی معافی پر خرچ کئے جائیں گے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق پبلک سروس کمیشن کیلئے 54 کروڑ 90 لاکھ روپے، ایرا کیلئے 7 ارب 3 کروڑ 51 لاکھ روپے، ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 10 ارب 24 کروڑ 99 لاکھ روپے، ائیرپورٹ سیکیورٹی فورسز کیلئے 5 ارب 80 کروڑ روپے، وزارت کیڈ کیلئے 17 ارب 18 کروڑ روپے ،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کیلئے 3 ارب 11 کروڑ روپے، نیشنل سیکیورٹی پلان ڈویژن کیلئے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے، وزیراعظم سیکرٹریٹ کیلئے 46 کروڑ 50 لاکھ روپے، وزیراعظم ہاﺅس کیلئے 41 کروڑ 30 لاکھ روپے اور سرمایہ کاری بورڈ کیلئے 33 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

کارپوریشنز کا مجموعی ترقیاتی بجٹ318ارب روپے، وفاقی وزارتوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 282ارب روپے، بجلی کے منصوبوں کیلئے 130ارب روپے، این ایچ اے کیلئے 188 ارب 80 کروڑ روپے، پانی کے منصوبوں کیلئے 31 ارب 71 کروڑ روپے، وزارت سیفران کیلئے 22 ارب 30 کروڑ روپے، ریلوے کیلئے 41ارب روپے،پورٹ اینڈ شپنگ کیلئے 12 ارب 82 کروڑ روپے، منصوبہ بندی وترقی کیلئے 12 ارب روپے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 27 ارب 56 کروڑ روپے، صحت کیلئے 24 ارب 95 کروڑ روپے، کشمیر افیئر و گلگت بلتستان ڈویڑن کیلئے 25 ارب 75 کروڑ روپے، داخلہ ڈویژن کیلئے 11 ارب 55 کروڑ روپے، صنعت وپیداوار کیلئے 90 ارب 95 کروڑ روپے، انسانی حقوق ڈویژن کیلئے 17 کروڑ روپے، ہاو¿سنگ اینڈ ورکس کیلئے 6 ارب 55 کروڑ روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 21 ارب 48 کروڑ روپے، فنانس ڈویژن کیلئے 9 ارب 20 کروڑ روپے، وفاقی تعلیم کیلئے 2 ارب 22 کروڑ روپے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کیلئے 13 کروڑ 65 لاکھ روپے، وزارت دفاع کا ترقیاتی بجٹ 2ارب 52کروڑ روپے،مواصلات کیلئے 5ارب 28کروڑ روپے، وزارت ماحولیاتی تبدیلی کیلئے 1ارب 2کروڑ 70لاکھ روپے، منصوبہ بندی وترقی کیلئے 12ارب روپے، ریلوے کیلئے 41ارب روپے، وزارت سیفران کیلئے 22ارب 30کروڑ روپے، پانی کے منصوبوں کیلئے 31ارب 71کروڑ روپے، این ایچ اے کیلئے 188ارب 80کروڑ روپے، بجلی کے منصوبوں کیلئے 130ارب روپے، وفاقی وزارتوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 282ارب روپے، کارپوریشنز کا مجموعی ترقیاتی بجٹ318ارب روپے، خصوصی وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے 28ارب روپے،ایرا کیلئے 7ارب روپے، عارضی بے گھر افراد کی بحالی وسیکیورٹی کیلئے 100ارب روپے، وزیر اعظم یوتھ پروگرام کیلئے 20ارب روپے، گیس انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ کیلئے 25ارب روپے،داخلہ ڈویژن کیلئے 11ارب 55کروڑ روپے تجویز، کشمیر افیئروگلگت بلتستان ڈویژن کیلئے 25ارب 75کروڑ روپے، صحت کیلئے 24ارب 95کروڑ روپے اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 27ارب 56کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ٹیلی نار کی زبردست تھری جی سروس کے بعد ایک اور شاندار آفر، مناسب ترین قیمت پر بہترین موبائل فونز متعارف کرا دیئے

بجٹ دستاویزات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کیلئے 77 ارب58 کروڑروپے، انکم سپورٹ کیلئے 107 ارب روپے، سرحدی امور کیلئے 48 ارب 19 کروڑ روپے،ٹیکسٹائل کیلئے 6 ارب 57 کروڑ روپے، انسانی وسائل کیلئے ایک ارب 14 کروڑروپے، اعلیٰ تعلیم کیلئے 22 ارب روپے، گرین پاکستان منصوبے کیلئے ایک ارب روپے اور ایوی ایشن کیلئے 31 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مزید : قومی