آئندہ سال ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ کے منصوبوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

آئندہ سال ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ کے منصوبوں کی تفصیلات سامنے ...
آئندہ سال ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ کے منصوبوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

  

اسلام آباد (اے پی پی)آئندہ سال ملکی تاریخ میں ترقیاتی بجٹ کا حجم سب سے زیادہ رکھا گیا،مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں انفراسٹرکچر کے ساتھ سماجی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، خیبر پختوانخو، بلوچستان، سندھ، گلگت اور آزاد کشمیر میں یو نیورسٹیوں کے قیام کے لئے بجٹ مختص کی گئی ہے۔ضلع نو شہرہ کے جلوزئی کیمپس میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے کیمپس کے لئے چھ سو پچاس ملین رکھے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کل ترقیاتی بجٹ 1675ارب روپے رکھنے کی تجویز

وفاق کا بجٹ 800 ارب روپے

صوبوں کی ترقیاتی بجٹ 875 ارب روپے

سوشل سیکٹر کے لئے 90ارب روپے

ہائیر ایجوکیشن کے 167 منصوبوں کے لئے اکیس ارب روپے

ہر ضلع میں یونیورسٹی کیپمس بناناحکومت کی ترجیہات میں شامل ہے

سوات یونیورسٹی کے لئے دوسو ملین روپے تجویز

سوات یو نیورسٹی کے قیام سے پسماندہ علاقوں کے طلبا و طالبات کو تعلیم کی سہولیات میسر ہو سکیں گی۔

بلوچستان مییں تربت اور لورالائی یونیورسٹیوں کے قیام کے لئے آٹھ سو پچاس ملین۔

فاٹا کے دو ہزار طلبائکو اعلیٰ تعلیم دینے کیلئے دو سو پچاس ملین روپے۔

نئے منصوبوں میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے اسلام آباد میں عالمی معیار کی یونیورسٹی آف سنٹرل ایشیا و پاکستان کے قیام کی تجویز

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں گوادر یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ۔

سوات میں خواتین یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے منصوبہ۔

بنوں یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی کے لکی مروت کیمپس کو یونیورسٹی میں بدلنے کے منصوبے۔

کرک میں خوشحال خان یونیورسٹی میں نئے اکیڈمک بلاک کے منصوبے۔

ژوب میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے سب کیمپس کا قیام۔

پاکستان امریکہ نالج کورئیڈار کے تحت دس ہزار پی ایچ ڈی ایز کو تیار کرنے کیلئے تین سو ملین رقم مختص۔

گلگت بلتستان میں ٹیکنکل اینڈ میڈیکل کالج کے قیام کا منصوبہ۔

گلگت میں سنٹر آف ایکسی لینس برائے چین پاکستان اقتصادی راہداری ٹیکنیکل کالج کا قیام۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم تعلیمی اصلاحات پر عمل در آمد کے یونٹ کے قیام۔

توانائی کے شعبے میں نیلم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لئے61 ارب روپے۔

دیا مر بھاشا ڈیم کے لئے 32 ارب روپے۔

خیبر پختوانخو میں داسو ڈیم کے لئے 42 ارب روپے۔

تربیلہ تو سیع منصوبے کے لئے 16 ارب مختص کرنے کی تجویز

انفراسٹکچر کے شعبے میں لواری ٹنل کے لئے ساڑھے چار ارب روپے۔

جاگلوٹ اسکرود روڈ کے لئے دو ارب روپے۔

کراچی پشاور موٹر وے کے ملتان سکھر سیکشن کی تعمیر کے لئے انیس ارب روپے۔

پشاور کراچی موٹر وے کے لاہور عبدالحکیم سیکشن کے لئے 34 ارب روپے۔

اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت برہان سے ڈی آئی خان موٹروے کے لئے 22 ارب روپے۔

مغربی روٹ پر گوادر، تربت۔ھوشاب سیکشن کیلئے پانچ ارب روپے۔

مغربی روٹ پر خوشاب،ناگ،بسیمہ،سراب سیکشن کے لئے چار ارب روپے۔

مغربی روٹ پر ڈی آئی خان،مغل کوٹ سیکشن کے لئے ایک ارب روپے۔

گوادر ایسٹ ایکسپریس وے کے لئے چار ارب سات کروڑ رقم۔

گوادر انٹرنشنل ائیرپورٹ کے لئے ڈیرھ ارب روپے۔

میگا منصوبوں میں گریٹر کراچی واٹر سپلائی کیلئے ایک ارب روپے روپے۔

مزید :

قومی -