بجٹ غریبوں پر ڈرون حملہ ہے ،حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے ٹیکسوں کے ہیر پھیر میں الجھی رہی:سینیٹر سراج الحق

بجٹ غریبوں پر ڈرون حملہ ہے ،حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے ٹیکسوں کے ...
 بجٹ غریبوں پر ڈرون حملہ ہے ،حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے ٹیکسوں کے ہیر پھیر میں الجھی رہی:سینیٹر سراج الحق

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے فلاحی نہیں انتظامی بجٹ پیش کیا ہے جس کے تمام اندازے غلط اور فرضی ہیں، یہ بجٹ بھی امیروں کا بجٹ اور غریبوں پر ڈرون حملہ ہے،حکومت مردم شماری کروانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے آمدن اور اخراجات کے تخمینہ جات غلط مفروضوں پر مبنی ہیں،تعلیم صحت ،ماحولیات اور انسانی ترقی کے دیگر منصوبوں کے بجٹ میں اضافہ ہونا چاہئے تھالیکن حکومت بمشکل اپنے انتظامی اخراجات پورے کرنے کیلئے ٹیکسوں کے ہیر پھیر میں الجھی رہی۔

بجٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت ا ین ایف سی میں صوبائی حکومتوں کو ان کا حصہ دینے میں ناکام رہی،آئین کے تقاضوں کے مطابق وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوئی۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے احکامات پر بنایا گیا بجٹ ہے جس میں ایک عام پاکستانی پر 90قسم کے ودہولڈنگ ٹیکس دے رہا ہے ،جس کی وجہ سے انہیں نہ صرف مہنگائی کا سامنا ہے بلکہ بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کی بھی سکت نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا گیا اضافہ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے مقابلے میں بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔10فیصد اضافہ سے چھوٹے ملازمین موجودہ مہنگائی کا مقابلہ نہیں کرسکتے،مزدور کی کم سے کم تنخواہ بیس ہزار روپے ہونی چاہئے تھی مگر حکومت نے محض 14ہزار تنخواہ مقرر کی ہے لیکن اس پر بھی عمل درآمد کا کوئی واضح امکان نہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت گزشتہ سال بھی زرعی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور موجودہ بجٹ میں بھی ملک کی 64فیصد آبادی جو زراعت سے وابستہ ہے اسے طفل تسلیوں پر ٹرخایا جارہا ہے۔حکومت کی زرعی پالیسی کسانوں کو پولیس مقابلے میں مارنے کے مترادف ہے۔کھادوں کی قیمتوں میں معمولی کمی کرکے تاثر دیا جارہا ہے کہ حکومت نے کسانوں کو بڑا ریلیف دیا ہے مگر زرعی ادویات ،بیج اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں کے حوالے سے بجٹ خاموش ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سودی معیشت سے کسی طرح بھی عوام کو ریلیف نہیں مل سکتااور قرضوں پر مبنی معیشت کیسے پنپ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوکروڑ نوجوان بے روز گار پھر رہے ہیں حکومت نے ان کو روز گار فراہم کرنے کی طرف کوئی توجہ دی نہ منصوبہ بندی کی۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کیلئے دیا گیا بجٹ انتہائی کم ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میں اسحق ڈار کو اس وقت ماہر معیشت سمجھوں گا جب وہ 14ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بناکر دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہاں غربت ناپنے کا پیمانہ بھی مضحکہ خیز ہے ،فی کس آمدنی روزانہ دو ڈالرہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پیش کئے گئے اخراجات اور آمدن کے تمام اعشاریے غلط ہیں جس سے معیشت میں کسی بہتری کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

مزید :

قومی -