چند دلچسپ واقعات (4)

چند دلچسپ واقعات (4)
 چند دلچسپ واقعات (4)

  

ایک دن مجھے ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر اکیڈمی زمان علی خان مرحوم نے بلایا۔ وہاں ہمارے ڈائریکٹر نیوز شکور طاہر بھی بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اطلاعات مشاہد حسین کی خواہش ہے کہ پی ٹی وی اکیڈمی کو فعال کیا جائے۔۔۔ (یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ پی ٹی وی نے بہت پہلے اپنی اکیڈمی قائم کر لی تھی، لیکن افسوس کہ اس کے مقاصد پورے نہیں ہوئے، اسے Dumping ground بنا دیا گیا اور اب تک صورتحال یہی ہے، عموماً ناپسندیدہ افراد کو اکیڈمی بھیج دیا جاتا ہے)۔۔۔ انہوں نے کہا کہ مجھے چند پڑھے لکھے آدمیوں کی ضرورت ہے تاکہ اکیڈمی سے صحیح فائدہ اُٹھایا جا سکے اور ہماری نظر میں آپ اِس کام کے لئے موزوں آدمی ہیں۔ میں نے تجویز کیا کہ اس مقصد کے لئے زیڈ اے قریشی موزوں آدمی ہیں، لیکن زمان صاحب نے یہ تجویز رَد کر دی۔ میں نے کچھ طنزیہ مزاحیہ انداز میں کہا کہ پھر آپ اظہر مسعود کو لے لیں۔ اس پر زمان صاحب نے کہا کہ آپ ذرا میری آنکھوں میں دیکھیں۔ میں متوجہ ہوا تو کہنے لگے کہ میں اتنا بیوقوف ( شاید اس سے سخت لفظ استعمال کیا تھا جو لکھنا مناسب نہیں) نہیں جتنا آپ کو نظر آ رہا ہوں، بہرحال میں نے اکیڈمی کے لئے Volunteer نہیں کیا، میں نے کہا کہ اگر آپ نے تبادلہ کر دیا تو میں چلا جاؤں گا۔ میرا تبادلہ نہیں کیا گیا بعد میں نے سوچا کہ مجھے چلے جانا چاہئے تھا اس تبدیلی سے میں بہت کچھ سیکھ سکتا تھا۔ایک دن غالباً ECNEC کے اجلاس کی طویل خبر آئی۔ اجلاس کی صدارت اُس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے کی تھی۔ میں خبر پڑھنے لگ گیا۔ ایک پیرے میں ریونیو ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کی بات کی گئی تھی۔ میں نے کنٹرولر نیوز حبیب اللہ فاروقی کی توجہ اس طرف دلائی کہ یہ بہت اہم بات ہے اس کا فالو اپ کرنا چاہئے۔ انہوں نے مجھ سے اتفاق کر لیا۔ میں نے اس موضوع پر سرتاج عزیز کا انٹرویو کیا جو سارے بُلیٹنز میں استعمال ہوا۔ یہ غالباً نوازشریف کے دوسرے دور حکومت کی بات ہے۔ پنجاب میں اب ریونیو ریکارڈ کی کمپیوٹرازیشن مکمل ہو چکی ہے۔ بلوچستان نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ باقی صوبوں میں شاید ابھی یہ کام شروع ہی نہیں ہوا۔ حیرت کی بات ہے کہ پی ٹی وی سمیت کسی ٹی وی چینل نے اس اہم موضوع پر کوئی پروگرام نہیں کیا۔

آصف علی زرداری نے صدر مملکت کی حیثیت سے برسلز کا دورہ کیا۔ میں ایڈوانس ٹیملے کر ایک رات پہلے برسلز پہنچا۔۔۔ (زرداری صاحب اپنے طیارے میں میڈیا ٹیم کو نہیں لے جاتے تھے)۔۔۔ رات کا وقت تھا ایئرپورٹ پر پتہ چلا کہ میرا سامان نہیں آیا۔ کئی اور ٹیمیں بھی ہمارے ساتھ اتریں۔ اُن میں سے بھی کچھ کا سامان نہیں پہنچا تھا۔ سفارتخانے کا عملہ لینے آیا۔ میں مطمئن رہا کہ وہ صورت حال کو سنبھال لیں گے اور سامان کل پہنچ جائے گا، لیکن سامان اگلے دن بھی نہیں پہنچا۔ اگلے دن صدر صاحب پہنچ گئے، ہم بھی مصروف ہو گئے اور سفارتخانے کا عملہ بھی۔ یوں میں نے تین دن کا دورہ ایک ہی سوٹ میں گزار دیا۔ سامان سرے سے ملا ہی نہیں۔ اسی دوران مجھے کسی نے بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پی ٹی وی سے بڑے ناراض ہیں، کیونکہ اُن کی فلمیں نہیں چل رہیں۔ فلمیں نہ چلنے کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا، بہرحال اُن کی توقعات پوری نہیں ہو رہی تھیں۔ ایک دن اتفاق سے میں ہوٹل سے باہر نکلنے لگا تودیکھا کہ قریشی صاحب گاڑی میں سوار ہو رہے تھے۔ میں آگے بڑھا تاکہ صورت حال کی وضاحت کر دوں۔ میں نے قریشی صاحب سے اپنا تعارف کرایا اور پوچھ لیا کہ سنا ہے آپ پی ٹی وی سے ناراض ہیں۔ وہ کچھ زیادہ ہی نالاں تھے کہنے لگے کہ یہ آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں، ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ کام جیو ٹیلی ویژن کے حوالے کر دیا جائے، اس صورت حال میں انہیں مطمئن کرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا میں نے کہا کہ سر آپ نے صحیح سوچا ہے اس پر عمل کریں۔

پیپلزپارٹی کی حکومت میں ایک دفعہ وزارتِ اطلاعات سے ایک آدمی ایم ڈی کے پاس بھیجا گیا کہ اسے نیوز میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی ملازمت دی جائے اور تقرری کے لیٹر کی کاپی وزارت کو فراہم کی جائے۔ شیری رحمان اطلاعات کی وزیر تھیں، یہ آدمی ایوان صدر سے ریفر کیا گیا تھا۔ ایم ڈی ارشد خان اس بات پر تیار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اُس کے کاغذات مجھے بھجوا دیئے کہ میں انٹرویو کرکے اپنی رائے دوں۔ میں نے اُن صاحب کا انٹرویو کیا تو پتہ چلا کہ اُس نے صرف میٹرک کیا ہوا ہے اور جی نائن میں ایک پرائیویٹ جرنلزم انسٹیٹیوٹ کا ایک سرٹیفکیٹ ساتھ لگایا ہوا تھا۔ موصوف دراصل کہیں سیکیورٹی میں کوئی چھوٹا موٹا جاب کرتے تھے اور اب جرنلسٹ کا روپ دھارنے والے تھے۔ میں نے ایم ڈی صاحب کو بتا دیا کہ اِسے سیکیورٹی میں کوئی جاب دے دیا جائے۔ جرنلزم سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔بینظیر کی پہلی حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت میں سیدہ عابدہ حسین وزیر اطلاعات مقرر ہوئیں۔ ایک دن اُن کے دفتر سے کہا گیا کہ ایک رپورٹر بھیجیں۔ سینئرز نے میری ڈیوٹی لگا دی۔ ایک رپورٹر اے پی پی سے پہنچ گیا اور ایک ریڈیو سے۔ وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں کنونشن سنٹر کی تعمیر کے بارے میں کچھ حقائق سے آگاہ کیا جن سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ اس کی تعمیر میں کرپشن ہوئی ہے۔ کنونشن سنٹر وزیر اطلاعات خالد کھرل کی نگرانی میں تعمیر ہوا تھا۔ عابدہ حسین نے ہدایت کی کہ خبر اُن کے نام سے نہ دی جائے، بلکہ سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا جائے۔ خبر ٹیلی وژن پر ٹیلی کاسٹ ہو گئی۔ چند دن بعدلاہور سے ایک ماہر تعمیرات (اُن کا نام بھول رہا ہوں) نے ہماری کنٹرولر نیوز خالدہ مظہر کو فون کیا اور بتایا کہ کنونشن سنٹر کے لئے ڈیزائن کا جو مقابلہ ہوا تھا، وہ اُس میں شامل تھے اور دراصل انہی کا ڈیزائن منظور ہوا تھا اور وہ اس سلسلے میں ایمبیسیڈر ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کر رہے ہیں، لہٰٰذا آپ اپنا نمائندہ بھیجیں۔ میں اُن دنوں لاہور گیا ہوا تھا ۔خالدہ مظہر نے مجھے ہدایت کی کہ میں ہی اس پریس کانفرنس کی رپورٹنگ کروں۔ میں ہوٹل پہنچا۔ اُس ماہر تعمیرات نے بتایا کہ کنونشن سنٹر کے ڈیزائن کے لئے جو مقابلہ ہوا تھا وہ اُس میں شامل ہوئے تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو نے انہی کا ڈیزائن منظور کیا تھا البتہ انہوں نے اِس میں چند تبدیلیاں تجویز کی تھیں۔

ماہر تعمیرات نے کہا کہ لاہور واپس پہنچ کر انہوں نے ڈیزائن میں مطلوبہ تبدیلیاں کیں اور دوبارہ سامان لے کر اسلام آباد پہنچے، اُس کے بیان کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو ڈیزائن دیکھنے مقررہ جگہ پہنچیں، لیکن کچھ ناپسندیدگی کا اظہار کرکے فوراً وہاں سے روانہ ہو گئیں اور بعد میں نیئر علی دادا کا ڈیزائن منظور کر لیا گیا، حالانکہ وہ ڈیزائن منتخب کرنے والی کمیٹی کے رکن تھے۔ پریس کانفرنس میں وی سی آر پر اُس دن کا پی ٹی وی کا خبرنامہ دکھایا گیا جس دن محترمہ بینظیر بھٹو نے اِس ماہر تعمیرات کا ڈیزائن ابتدائی طور پر منظور کیا تھا۔ پی ٹی وی کی یہ خبر حکومت کے پریس ریلیز پر مبنی تھی جس میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم نے مجوزہ کنونشن سنٹر کے لئے فلاں ماہر تعمیرات کا ڈیزائن منظور کرلیا ہے۔2002ء میں صدر جنرل پرویز مشرف نے چین اور جنوبی کوریا کا دورہ کیا۔ پی ٹی وی نیوز ٹیم کے سربراہ کے طور پر ہمارے کنٹرولر نیوز ایم زیڈ سہیل اُن کے ساتھ تھے۔ چین کا دورہ مکمل کرکے صدر نے جنوبی کوریا جانا تھا ،لیکن یہاں ایک غیرمعمولی واقعہ ہو گیا۔ ہوا یوں کہ بیجنگ میں ایم زیڈ سہیل صدر کا انٹرویو کرکے ہوٹل پہنچے اور سامان باندھنے کے بعد واش روم چلے گئے۔ اِس دوران صدر کا قافلہ روانہ ہو گیا، یوں میڈیا ٹیم صدر کے قافلے کے ساتھ نہ چل سکی اور ٹریفک میں پھنس گئی، لہٰذا ٹیم کوئی 45 منٹ کی تاخیر سے ایئرپورٹ پہنچی، اس لئے صدر کے قافلے اور انہیں خداحافظ کہنے والے چینی وی آئی پی کو اتنی دیر ایئرپورٹ پر انتظار کرنا پڑا۔ تاخیر سے روانگی کے باعث سیول ایئرپورٹ پر صدر کا استقبال کرنے والے کورین وی آئی پی کو بھی اتنی دیر انتظار کی زحمت اُٹھانا پڑی۔ اس پر صدر کے سٹاف نے بجا طور پر بڑے غم و غصے کا اظہار کیا، یوں سہیل صاحب کو ہیڈکوارٹر ٹرانسفر کر دیا گیا، وہیں وہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ وہ نیوز میں واپس نہیں آسکے، حالانکہ ان کا تمام کیرئر نیوز سے ہی وابستہ تھا۔پی ٹی وی کا ابتدائی دور تھا، ٹیکنیکل سہولتیں زیادہ نہیں تھیں۔ مائیکرو ویو لنک نہیں تھا، لہٰذا ہر سنٹر اپنا اپنا خبرنامہ کرتا تھا۔ پیپلزپارٹی کا دورحکومت تھا، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو عید کی نماز لاڑکانہ میں پڑھا کرتے تھے۔ پی ٹی وی انتظامیہ کے لئے یہ ایک مسئلہ تھا کہ کس طرح وزیراعظم کی عید کی نماز کی فلم اُسی دن خبرنامے میں چلائی جائے۔ لاڑکانہ اور کراچی کا درمیانی فاصلہ کافی تھا، لہٰذا اس مسئلے کے حل کے لئے ایک طیارہ چارٹر کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ اِس سلسلے میں مجھے بھی طیارے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم موہنجوداڑو ایئرپورٹ پر اُترے، اُدھر لاڑکانہ سے ہماری ٹیم نجم الحسن کی قیادت میں فلم لے کر موہنجوداڑو ایئرپورٹ پہنچی اور اس طرح یہ فلم شام کو کراچی پہنچی اور اُسی رات خبرنامے میں ٹیلی کاسٹ ہوئی۔(جاری ہے)

مزید : کالم