پہلے ملک، پھر کچھ اور؟

پہلے ملک، پھر کچھ اور؟
 پہلے ملک، پھر کچھ اور؟

  

بعض اوقات کچھ کہنے سے کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ہم نے بوجوہ حالیہ دنوں میں معاشرتی مسائل پر اظہار خیال کیا اور ملکی حالات اور سیاست سے اجتناب کرتے ہوئے واقعات کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کی۔اس سلسلے میں تحریروں کا بھی جائزہ لینا ضروری تھا۔ یوں بھی پیشہ ورانہ فرائض کے حوالے سے پڑھنا اور سننا لازم ہے اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ صبح ہی صبح سن اور پڑھ لیں، پڑھنے کا یہ سلسلہ گھر سے دفتر تک بھی جاری رہتا ہے، تاکہ دوستوں اور دانشور حضرات کے خیالات سے مستفید ہوا جائے، جہاں تک ملکی حالات اور معاملات کا تعلق ہے تو ہمارے موقف میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی بلکہ اور بھی پختگی ہوئی کہ قومی اتفاق رائے والا ہمارا جو موقف ہے وہ پل پل ثابت ہو رہا ہے۔ تازہ ترین صورت حال مزید ابتر ہوئی ہے۔ ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ملک کے آئینی اداروں کے درمیان بھی کسی محاذ آرائی کی شکل پیدا ہو، یہ بدقسمتی کی بات ہے اور اس سے یقیناًکسی کو فائدہ نہیں ہوتا اور نقصان ہی ہوتا ہے۔ کسی صاحب نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ حکومت اور عدلیہ کی محاذ آرائی میں فائدہ تیسری قوت اٹھاتی ہے۔ یہ پوسٹ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہے، چاہے عدالت سے حکومت کی بحالی کے بعد بھی حکومت بحال نہ ہو اور فریقین کو گھر جانا پڑے، حالیہ صورت حال میں وہ تحریریں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے جن کی توپوں کا رخ اب عدلیہ کی طرف ہو گیا اور میانہ روی سے گریز کیا گیا ہے، ہم کسی محاذ آرائی یا مقابلہ آرائی اور طنز و تشنیع میں پڑے بغیر یہ گزارش کرنے پر مجبور ہیں کہ حب الوطنی کے جذبے کے تحت تحریر اور الفاظ کے ذریعے ٹکراؤ کو بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

افسوس تو یہ بھی ہوتا ہے کہ کل تک جو حضرات کسی اپنے ناپسندیدہ فریق کے خلاف فیصلوں کے وقت عدلیہ کے لئے رطب اللسان تھے آج وہ ایک فاضل جج کے ریمارکس کے حوالے سے نہ معلوم کیا کچھ کہہ اور لکھ رہے ہیں ان حضرات کو اپنے بیان و تحریر میں بھی توازن رکھنا چاہیے کہ اصول غیر متبدل ہوتے ہیں۔ یہ کالم گواہ ہے کہ ہم نے فاضل جج حضرات کی طرف سے ریمارکس کے حوالے سے ہمیشہ یہ عرض کی کہ اول تو فاضل جج حضرات کو خود ہی محتاط رہنا چاہیے اور دوسری صورت میں خود میڈیا والوں کو اصول پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا لیکن یہ نقارخانے میں طوطی کی آواز تھی کہ فاضل چیف جسٹس (ر) افتخار چودھری کے دور سے جس نوعیت کا ’’جوڈیشل ایکٹوازم‘‘ شروع ہوا، اس کے بارے میں ’’چسکا‘‘ تو لیا گیا لیکن درست نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ ان دنوں جو حضرات فاضل عدلیہ کے ریمارکس اور اقدامات کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور جن حضرات نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے فیصلے پر بغلیں بجائیں آج وہ سب سے زیادہ مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔

ہم نے تب بھی ماضی کی روایات کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ عدالتی کارروائی کی خبر صرف وہ ہوتی ہے جو عدالت میں ہو اور ساتھ ریکارڈ ہو، ہمیں اپنی رپورٹنگ ڈیوٹی کے دوران بہت اہم کیسوں کی رپورٹنگ کا موقع ملا، عدالتیں ہمیشہ اس کارروائی کی اجازت دیتی تھیں جو اس روز کی ہو، اکثر مقدمات یا کیسوں میں تو میڈیا کے لئے کارروائی کی الگ ٹائپ کاپی بھی مہیا کی جاتی تھی اور ہم سب رپورٹر اس کی فوٹو کاپیاں کروا کے تقسیم کرتے تھے، جب عدالتوں میں ’’جوڈیشل ایکٹوازم‘‘ کے تحت یہ سب ہو رہا تھا تو تب بھی ہم نے بصد ادب مخالفت کی تھی۔ اگر ہمیں بھی جانبداری کا طعنہ نہ دیا جائے تو ہم گزارش کریں کہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف سزا کا جو فیصلہ تھا اس پر کیوں اعتراض نہ کیا گیا کہ توہین عدالت کے کیس میں وقت کا وزیراعظم پیش ہوا، اسے تابرخاست عدالت سزا دی گئی اور سزا کا اعلان کرنے کے فوراً بعد فاضل بنچ کے اراکین اٹھ کر چیمبر میں تشریف لے گئے اور چند سیکنڈ میں سزا پر عمل درآمد ہوا اور منتخب وزیراعظم نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ پانچ سال کے لئے نااہل بھی ٹھہرے، دوسرے وزیراعظم نے خط لکھ کر جان چھڑائی اور نااہلی سے بچے۔ اس وقت جو حضرات اس سارے معاملے کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔ آج ان کے خیالات مختلف کیوں ہیں؟

یقین جانئے ہم یوسف رضا گیلانی کے اس وقت ناقد تھے جب وہ وزیراعظم تھے حالانکہ ہمارا ان کے ساتھ تعلق پرانا ہے کہ جب وہ ابھی ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر تھے اور کینال بنک کے ایک فلیٹ میں کرایہ پر رہتے تھے، اسی طرح ہم نے پیپلزپارٹی کے اس دور حکومت کی کبھی تعریف نہیں کی اور نہ ہی کرپشن کے حوالے سے چھپنے والی اور کہی جانے والی حکائتوں کی مخالفت کی بلکہ بہت سے معاملات میں ہم خود بھی تنقید کرتے رہے ہیں تاہم تب بھی ہم نے فاضل جج حضرات کے ریمارکس اور عدالتی کارروائی کی اشاعت اور فیصلے سے پہلے ہی تنقید،تجزیوں اور تبصروں کو غیر مناسب اور غیر روائتی قرار دیا، جو بات آج بری ہے وہ تب بھی بری تھی اور ہمارے نزدیک یہ کشمکش بالکل سود مند نہیں۔ جہاں تک سینیٹر (ابھی تک ہیں) نہال ہاشمی کے متنازعہ بیان کا تعلق ہے تو یہ معاملہ اب عدالت عظمیٰ کے روبرو ہے ہم سب کو فیصلے کا انتظار کرنا اور اسی اصول پر عمل کرنا ہوگا کہ جو کارروائی عدالتی ریکارڈ پر ہو وہی چھپے اور وہی سنائی جائے۔ فاضل عدلیہ سے پھر گزارش ہے کہ ریمارکس کی طوالت پر قابو پایا جائے کہ ’’جج خود نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں‘‘۔ نہال ہاشمی کے حوالے سے ہم یہ بات بھی عرض کر دیں کہ اگر نہال ہاشمی کے کہے گئے الفاظ توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں تو پھر ویڈیو کلپ چلا کر ان الفاظ کو بار بار ناظرین کو دکھانا کس ’’زمرے‘‘ میں شمار کیا جائے گا اور پھر الفاظ کی جوں کی توں اشاعت کو کیا معنی پہنائیں گے جبکہ حسب توقع نہال ہاشمی اپنے بیان کے اثرات سے مکر بھی گئے ہیں اور وضاحت کر دی ہے کہ ان کا ہدف’’مائنڈ سیٹ‘‘ تھا۔

ہم پھر دہراتے ہیں کہ سرحدوں پر جو حالات ہیں، ملک کے اندر ’’را‘‘ کی تخریب کاری اور دو ملک واضح طور پر ایک دوسرے کے ساتھ ملی بھگت کرکے کھلم کھلا ہمارے ملک کی سلامتی کے درپے ہیں، افغانستان نے تو بم دھماکے کا الزام لگا دیا اور دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات بھی ختم کر دیئے۔ بھارت نے اپنے ملٹری چیف کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے وقت دو پاکستانیوں کو شہید اور پانچ کو زخمی کرکے پھر کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی جبکہ ایران بھی کچھ بہتر خیالات کا مظاہرہ نہیں کر رہا،بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ریاض کانفرنس پر نظر ڈالنے کے بعد اب مشیر وزیرخارجہ سرتاج عزیز کی اس یقین دہانی پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ابھی اسلامی اتحادی فوج کے قواعد مرتب ہونا ہیں اور جب یہ اتحاد کارروائی کرے گا تو پاکستان اس وقت غور کرے گا کہ اس میں شامل ہونا ہے یا نہیں اور سینٹ کو یقین دلایا کہ پاک فوج سعودی عرب سے باہر نہیں جائے گی۔ اللہ کے لئے خود سوچئے اور بتایئے کہ کیا یہ حالات اس سب معاملے کا تقاضا کرتے ہیں؟ جو ہو رہا ہے ، یہ لکھنے اور بولنے والوں کے لئے بھی غور کا مقام ہے، پھر عرض ہے کہ یہ وقت قومی اتفاق رائے اور قومی یکجہتی کا ہے۔

مزید : کالم