مشرقِ وسطیٰ: ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ: ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے؟
 مشرقِ وسطیٰ: ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے؟

  

بھارت، افغانستان اور اب ایران کی سرحد پر کشیدگی اِس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمارے خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ’’UNSUSTAINABLE‘‘ ہے۔ایران کی طرف سے یہ وارننگ کہ وہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کر سکتا ہے اور کرے گا۔ بلوچستان ہمیشہ سے دہشت گردی کا شکار ہے، چاہے فرقہ ورانہ ہو، علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں ہوں یا بھارت کی مدد سے اہم مقامات پر حملے۔ پچھلے چند دِنوں میں مولانا حیدری کے قافلے پر حملہ، مزدوروں پر فائرنگ ایک دو دیگر واقعات جن میں کافی جانی نقصان ہوا وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور عسکری اداروں کی موجودگی کو ’’House of Cards‘‘ کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا جو لرز رہا ہے۔وزیراعظم نے خود اعتراف کیا ہے کہ جب تک سرحدوں پر امن نہیں ہو گا۔ ترقی ممکن نہیں ہے۔پاکستان کے لئے موجودہ حالات میں سب سے بڑی مشکل سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔ دونوں ’’برادر اسلامی‘‘ مُلک ہیں، دونوں پورے مشرقِ وسطیٰ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کبھی امریکہ اور سعودی عرب کی ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا حصہ نہیں بن سکتا، خطے کے حالات کا مدوجزر، جغرافیائی حیثیت اور اندرونی حالات اِس کی اجازت نہیں دیتے،لیکن طاقت کے بدلتے ہوئے عالمی توازن کو نظر انداز کرکے سعودی عرب کی پشت پناہی سے سرگرم عسکری گروہوں کی طرف سے آنکھ بند رکھنا بھی مزید ممکن نہیں ہو گا، ایران کی طرف سے سخت زبان میں وارننگ بھی اس کے سرحدی محافظوں کے قتل کے بعد دی گئی جو ’’جیشِ عدل‘‘ نامی تنظیم نے کئے اور ’’جیشِ عدل‘‘ کس کی پیشکش ہے، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

*۔۔۔ اِس واقعہ نے پاکستان ایران تعلقات میں موجود دراڑ کو وسیع کر دیا جو جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ’’اتحادی فوج‘‘ کا کمانڈر بننے کے بعد پیدا ہو گئی، جسے ایران اپنے خلاف ایک جارحانہ اقدام سمجھتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے دوران استقبال سے واپسی تک اُن کی مصروفیات اور تقاریر نے مزید واضح کر دیا ہے۔

جنرل راحیل شریف کو چارج لئے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ ایران نے سعودی عرب کو وارننگ دی کہ وہ ایران کے خلاف جارحیت کا خیال دِل سے نکال دے ورنہ ’’دو مقدس مقامات کے سوا سعودی عرب کو صحرا میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ یہ وارننگ سعودی عرب کے بااثر طاقتور ڈپٹی ولی عہد محمد بن سلمان کے اِس بیان کے بعد دی گئی کہ ہم جنگ کا انتظار نہیں کریں گے، بلکہ اب جنگ ایران کے اندر ہو گی۔ ایران کی طرف سے اِس خیال اور بیان کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین نے لبنان کے شیعہ حزب اللہ کے ٹی وی انٹرویو میں وارننگ دی تھی کہ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ کے سوا صرف ریت ہو گی۔الفاظ اور بیانات کی اِس جنگ میں پاکستان کے لئے بڑی مشکل پیدا ہو گئی ہے اور اِس مشکل کو جنرل راحیل شریف کی ’’اتحادی افواج‘‘ کی سربراہی مزید بڑھاتی رہے گی۔حالات اِس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں کہ سعودی عرب اور امریکہ ایران کے لسانی اقلیتی گروہوں خصوصاً اُن بلوچوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر دباؤ بڑھائیں گے جو پاک ایران سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے بلوچستان میں اِن کو مالی اور عسکری امداد بعض مذہبی اداروں کی معرفت مل رہی ہے۔ امریکی صدر نے خلیج کی تعاون کونسل کے رکن متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور اومان کی قیادت سے علیحدہ ملاقات بھی کی، جس میں ایران کو تنہا کرنے کے عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔ ویسے تو صدر ٹرمپ اور سعودی فرمانروا کی تقاریر میں بھی یہ مقصد کھل کر بیان کیا گیا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی
  • ۔۔۔ اگر ایران کی طرف سے پاکستان کی حدود کے اندر ایران مخالف عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی جاتی ہے تو پاکستان کو دو ’’آپشن‘‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا یا تو وہ خود اِن ٹھکانوں کو تباہ کر دے، جہاں سے ایران کی سرحدوں کے اندر حملے کئے جاتے ہیں یا ایران پر جوابی کارروائی کرے جیسا لائن آف کنٹرول پر ہو رہا ہے،لیکن ایسا کرنے سے توازن قائم نہیں رکھا جا سکے گا اور ہم سعودی عرب کی جھولی میں جا گریں گے۔

  • * ۔۔۔ یہاں ایک اور مشکل بھی ہے۔ چین کا سی ای پی سی منصوبہ، جس میں چین56ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ اور گوادر کے راستے افریقہ اور یورپ تک آسان اور سستی رسائی کے مقاصد کے لئے بھی بلوچستان بہت اہم ہے۔بلوچستان میں سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار پاکستان کے لئے اِن کے درمیان تعلقات کا توازن بگاڑ دے گی،بلکہ چین کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو گی جو دوستی، تعاون، گرم جوشی کے باوجود ’’ہلکے ہلکے‘‘ انداز میں اِن عسکریت پسندوں کی طرف سے آنکھ بند رکھنے (اگر امداد نہیں بھی کی جا رہی) پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہتا ہے،لیکن اپنے مفادات کا تحفظ بھی عزیز ہے، اِس لئے حال ہی میں اقوام متحدہ میں مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی مخالفت کی۔

*۔۔۔امریکہ کی طرف سے ایران مخالف گروہوں کی پشت پناہی اور پاکستان کی خاموشی دو دھاری تلوار کی مانند ہو گی جو ایک طرف عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گردوں کا سہولت کار ظاہر کرے گی، دوسری طرف چین کے ساتھ تعلقات میں چین کے تحفظات ہوں گے جو خود بھی پاکستان کی طرح ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کیThin line قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے،لیکن بالآخر اسے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے بلوچستان میں کسی بھی قسم کی منفی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہوں گی۔

  • ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اب تک غیر جانبدار رہ سکا ہے یا اپنے آپ کو رکھ سکتا ہے؟ جنرل راحیل شریف کی موجودہ حیثیت میں یہ زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہے۔پاکستان اور پاکستانی قوم کی بڑی بدقسمتی ہو گی اگر حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی اور دور اندیشی کا فقدان بلوچستان کو متنازعہ اور حالِ مست Approch علاقہ اور میدانِ جنگ بنا دے۔

  • *۔۔۔ پاکستان کی طرف سے شاید اس ’’آپشن‘‘ پر بھی غور کیا جائے کہ امریکہ، سعودی عرب تعاون میں شامل ہو کر دوبارہ امریکہ جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی ’’کچھ‘‘ تبدیل ہو کر صرف بھارت کو مضبوط کرنے پر نہ رہے اور پاکستان کے لئے بھی ’’کچھ‘‘ نرم گوشہ مل جائے، لیکن ’’نہ جینا یہاں مشکل نہ مرنا یہاں مشکل‘‘ کے مصداق اس صورت میں چین کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ ہو گا۔آج پاکستان کے لئے جغرافیائی،داخلی، معاشی طور پر چین ایک محفوظ پناہ گاہ ہے،باٹم لائن یہ ہے کہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ ہونا چاہیے اور وزارت خارجہ کو عملی طور پر موثر بنایا جائے۔ خارجہ پالیسی پر آل پارٹیز کانفرنس میں تمام مشکلات، تمام ممکنہ حل سب کے سامنے رکھے جائیں اور قومی مشاورت سے خارجہ پالیسی کے خدوخال ترتیب دیئے جائیں۔’’ذاتی مفادات پر قومی مفادات‘‘ کو ترجیح دی جائے‘‘ اور ذاتی تعلقات کو قومی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کیا جائے۔ ورنہ خدانخواستہ یہ House of Cards؟ اللہ پاک ہماری حفاظت اور رہنمائی فرمائے۔

مزید : کالم