بجٹ میں تاجرتنظیموں کی سفارشات کو شامل نہیں کیا گیا

بجٹ میں تاجرتنظیموں کی سفارشات کو شامل نہیں کیا گیا

لاہور(کامرس رپورٹر ) حکومت ایف پی سی سی آئی اور پاکستان بھر سے دیگر چیمبر اور تاجر تنظیمیں کی اپنے اپنے سیکٹرز سے متعلق مسائل اور بجٹ تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ تاجروں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی تجارت خسارے کا شکار ہے اور انڈسٹری تیزی سے تباہ ہو تی جا رہی ہے۔ پاکستان میں انرجی بحران کو کوئی بھی حکومت ختم نہیں کر سکی اور نہ ہی پانی کی وجہ سے تباہ ہوتی زراعت کو کو ئی ریلیف دیا جا سکا ہے۔حکمران مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہارلاہور چیمبر(بزنسمین فرنٹ گروپ ) کے صدر و فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) ریجنل قائمہ کمیٹی برائے’’کان کنی و معدنیات‘‘ کے چےئرمین راجہ حسن اختر نے بجٹ 2017-18میں تاجر وں کی نمائندہ تنظیموں کی سفارشات شامل نہ کرنے پر کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ یوں لگتا ہے کہ پاکستان کہ حکمران مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ حکومت جس جماعت کی بھی ہو ، حکمران کوئی بھی ہو پاکستان عالمی برادری میں اپنا وقار کھوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں نے اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں عمارتوں اور اداروں کو گروی رکھ کر قرضے حاصل کرنے تک کی نوبت پہنچ چکی ہے ایسے میں عوام کو بھی سوچنا ہو گا کہ ان کے منتخب نمائندوں نے کیا اچھا کیا۔ پاکستان کے حکمران اسی طرح عمارتوں کو گروی رکھ کر قرضے لیتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے حکمران ایٹم بم کو گروی رکھ کر پرپل میٹرو ٹرین بچھاتے نظرآئیں گے۔نہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور دنیا بھر کی سرمایہ دار کمپنیاں اور ملک اپنی نظریں پاکستان کی اس زیر زمین دولت پر مرکوز کئے ہوئے تھیں۔ حکومتِ پاکستان کی بالخصوص اور پاکستانی عوام کی بالعموم یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آپس کی لڑائی بند کر کے پاکستان کی معدنی دولت کو عالمی لٹیروں سے بچائیں۔

مزید : کامرس