ٹرمپ کا پیرس ماحولیاتی معاہدے سے نکلنے کا اعلان نئے عالمی بحران کا خدشہ

ٹرمپ کا پیرس ماحولیاتی معاہدے سے نکلنے کا اعلان نئے عالمی بحران کا خدشہ

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) داخلی بحران کے شکار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کی شدید مزاحمت کے باوجود پیرس کے ماحولیاتی معاہدہ سے نکلنے کا اعلان کر کے ایک نیا عالمی بحران پیدا کر دیا ہے۔ جمعرات کی سہ پہر وائٹ ہاؤس کے روزگارڈن میں ایک خصوصی بریفنگ میں جیسے ہی صدر ٹرمپ کا بیان مکمل ہوا سابق صدر بارک اوبامہ نے جنہوں نے کئی سال کی ریاضت کے بعد معاہدے کے مسودے پر اتفاق رائے حاصل کیا تھا پر اپنے فوری رد عمل میں یقین ظاہر کیا کہ امریکہ کی تمام ریاستیں اور کاروباری ادارے ماحولیات دوست معاہدے کو مسترد کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا قدرت نے ہمیں جو یہ سیارہ عطا کیا ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک قدم اور آگے بڑھیں اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ معاہدے سے نکلنا امریکی قیادت کے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے اعلان میں واضح کیا کہ انہیں ذرا پرواہ نہیں کہ باقی دنیا کیا سوچتی ہے انکی اس معاہدے میں موجود رہنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں کیونکہ یہ امریکہ کیلئے نقصان دہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے موقف میں تھوڑی سی لچک بھی دکھائی کہ اگرامریکہ کیلئے بہتر شرائط کے حصول کیلئے وہ پیرس میں ہونیوالے بین الاقوامی معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں، تقریبا دو سو ممالک کے اتفاق سے طے ہونیوالے اس معاہدے پر ازسرنو مذاکرات کرنے کی ٹرمپ کی پیش کش کو فرنس ، جرمنی، اٹلی اور اقوام متحدہ نے مسترد کر دیاہے، معاہدے پر صدر اوبامہ نے دستخط کئے تھے جس کی شرائط کی روسے اس معاہدے سے رسمی طور پر جلد سے جلدبھی امریکہ نومبر20ء میں آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل نہیں نکل سکتا۔ روس، نکاراکوا اور شام کے بعد امریکہ چوتھا ملک ہے جس نے معاہدے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ماحولیات کے معاہدے پر طنز کرتے ہوئے کہا میں پیرس کی بجائے پٹسبرگ کے عوام کی نمائندگی کرتا ہوں،یاد رہے یہ شہر موٹرگاڑیوں سمیت لوہے کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شہر کے مئیر بل پیڈوٹو نے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے۔ صدر ٹرمپ کی ایڈوائزری کونسل کے رکن اور ایک بڑے بزنس مین ایلن مسک نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کونسل سے علیحدگی کا اعلان کر دیاہے۔ ڈزنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر باب ایگر اور جنرل الیکٹرک کے چیئرمین چیف ایملٹ نے بھی ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ پیرس معاہدے پر دستخط کرنیوالے ممالک گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کم کرنے پر رضا مند ہوئے تھے جو عالمی ماحول کو مکدر کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ سابق صدر اوبامہ نے امریکی شہریوں ، کاروباری اور صنعتی اداروں پر زور دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے قطع نظر وہ گرین ہاؤس گیسوں کی ماحول سے مقدار کم کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ماحولیات کے معاہدے سے نکلنے کے بعد امریکی ملازمتوں میں تین فیصداضافہ ہوگا،

تاہم معاشی مبصرین نے ٹرمپ کے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کیا، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا چونکہ اوبامہ نے اس معاہدے کی سینیٹ سے توثیق نہیں کرائی اس لئے وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اسے مسترد کر سکتے ہیں۔ اس دوران کیپیٹل ہل پر رد عمل ملا جلا تھا، اکثر ری پبلکن ارکان کے خیال میں ٹرمپ کے فیصلے سے معاشی صورتحال بہتر ہوگی جبکہ ڈیمو کریک ارکان اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

مزید : علاقائی