اسمبلیوں میں بجٹ تقریر کے دوران شور شرابے معمول بنتے جا رہے ہیں

اسمبلیوں میں بجٹ تقریر کے دوران شور شرابے معمول بنتے جا رہے ہیں

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پنجاب اسمبلی میں صوبے کا ریکارڈ بجٹ پیش کیا جس کا ترقیاتی پروگرام (اے، ڈی پی) 635 ارب روپے پر مشتمل ہے جو رواں مالی سال کی نسبت 15 فیصد زیادہ ہے۔ تعلیم، صحت ، واٹر سپلائی اور سیوریج، ویمن ڈویلپمنٹ اور سوشل ویلفیئر کے لئے مجموعی طور پر 201 ارب 63 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو کل ترقیاتی پروگرام کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ بجٹ تقریباً ٹیکس فری ہے۔ پرانے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ بجٹ اچھا ہے یا برا، عوام دوست ہے یا عوام دشمن اس کا پتہ تو وزیر خزانہ کی تقریر سن کر یا پڑھ کر یا بجٹ دستاویزات کے مطالعے سے ہی لگنا تھا،لیکن اپوزیشن ارکان نے چونکہ گھر سے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ تقریر نہیں سُنیں گے اور دورانِ تقریر شور شرابہ کرتے رہیں گے اِس لئے انہوں نے ابتداء ہی میں ’’گونواز گو‘‘ کے نعرے بلند کر دیئے اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں۔نعرہ بازی اور ہنگامے کی اس فضا میں وزیر خزانہ نے اپنی تقریر جاری رکھی، اُنہیں بھی پہلے سے اندازہ تھا کہ ایسا ہی ہو گا اس لئے وہ ذہنی طور پر تیار ہو کر آئی تھیں۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد زیادہ نہیں ہے قائد حزبِ اختلاف کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اور وہی سب سے بڑی جماعت ہے، باقی جماعتوں کے ارکان کی تعداد برائے وزنِ بیت ہے، تاہم ہنگامے کے لئے یہ سارے ارکان متحد ہوگئے تھے اور یہ عہد کر کے ایوان میں داخل ہوئے تھے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کریں گے جس پر ’’کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘کا اطلاق ہوتا ہو اب جہاں’’گو نواز گو‘‘ کا نعرہ لگے گا، وہاں جوا بی نعرہ ’’رو عمران رو‘‘ ہے سو وہ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں بھی لگایا گیا، تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں حکمران ہے، وہاں بھی اپوزیشن ہے اور پنجاب کی نسبت زیادہ تگڑی ہے، دیکھیں وہاں کیا حال ہوتا ہے،لیکن ہمارا خیال ہے اسمبلیوں کے ایوانوں کو ذرا زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ہلے گلے کے لئے الگ’’پیریڈ‘‘ مقرر کر لینا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر کسی بھی اپوزیشن کا گذارا نہیں وہ وفاق کی ہو یا کسی صوبے کی، ایسا محسوس ہوتا ہے سب کی رونق ایک ہنگامے پر موقوف ہے، ایسے میں ہم یہ مشورہ دینے والے کون ہوتے ہیں کہ ارکان اپنے ان علاقوں کے مسائل کو ہائی لائٹ کرنے کی طرف بھی کوئی توجہ دیں جہاں سے وہ منتخب ہوئے ہیں۔

وفاق میں یہ مسئلہ پیدا ہوگیا تھا کہ جب اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر دیا تو اگلے اجلاس میں جب روایت کے مطابق قائد حزب اختلاف کو بحث کا آغاز کرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے یہ مطالبہ رکھ دیا کہ ان کی تقریر بھی اسی طرح براہ راست نشر کی جائے جس طرح وزیر خزانہ کی تقریر کی گئی ہے۔ سپیکر نے خورشید شاہ کا یہ مطالبہ نہیں مانا اور روایت شکنی کرتے ہوئے سرکاری بنچوں سے بحث کا آغاز کر دیا۔ اب انہیں شاہ صاحب کی جانب سے یہ طعنہ سننا پڑا کہ انہوں نے کسی کے اشارہ ابرو کے باعث یہ فیصلہ کیا ہے، حالانکہ اس طرح کی صورت حال میں اس کے سوا کیا فیصلہ ہوسکتا تھا؟ پاکستان کی قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی میں ایسی روایت موجود نہیں کہ قائد حزب اختلاف کی تقریر کبھی براہ راست ٹیلی کاسٹ کی گئی ہو، نہ ہی اس سے پہلے کسی قائد حزب اختلاف نے اس معاملے پر اتنا غیر لچکدار بلکہ انتہائی سخت موقف اختیار کیا تھا کہ مطالبہ نہ مانے جانے کے بعد سرے سے بحث کے آغاز سے ہی انکار کر دیا گیا ہو، اس مسئلے کا حل یہ ہوسکتا تھا، چونکہ اس ضمن میں پہلے سے قواعد و ضوابط موجود نہیں، اس لئے حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر قواعد بنا لیں اور اس کے مطابق آئندہ قائد حزب اختلاف کا خطاب بھی براہ راست نشر ہونا چاہئے۔ ہمارے خیال میں تو تمام منتخب نمائندوں کے ’’خطابات‘‘ کو بھی براہ راست ریلے کرنا چاہئے تاکہ ان کو منتخب کرنے والے ووٹر جان سکیں کہ جو لوگ ان کے ووٹ لے کر معزز ایوانوں میں بیٹھے ہیں وہ ان کے مسائل پر کتنی گفتگو کرتے ہیں اور غیر متعلقہ موضوعات پر کتنا زور دیتے ہیں۔ ہم نے تو دیکھا ہے کہ اگر اسمبلی کی کارروائیوں میں سے احتجاج، ہنگامے، واک آؤٹ وغیرہ نکال دئیے جائیں تو باقی کچھ زیادہ نہیں بچتا جس کی بنیاد پر عوام سے ووٹ طلب کئے جائیں۔ حکومت معلوم نہیں ان تقریروں سے کیوں ڈرتی ہے، کیونکہ جو تقریریں بھی لائیو ہوں گی ان میں ان سے زیادہ کاٹ تو نہیں ہوگی جو پہلے سے ہونے والی تقریروں میں ہوتی ہے۔ یہ اصول اگر طے کر دیا جائے کہ قائد حزب اختلاف کو بھی وزیر خزانہ کی طرح براہ راست خطاب کی سہولت دی جائے تو بہت سے قائدین ایسے ہوں گے جو اپنے ووٹروں کو کوئی زیادہ خوش نہیں کرسکیں گے کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ ان کی تقریروں میں اس طرح کی کوئی بات اس سے پہلے بھی کبھی نہیں سنی گئی جن کا مقصد ووٹروں کا حق نیابت ادا کرنا ہو۔ ویسے ہماری تجویز ہے کہ ایک ’’پارلیمانی چینل‘‘ بنایا جائے جو صرف قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی کی کوریج کرے اس طرح ووٹروں کا بھی بھلا ہوگا اور وہ اپنے نمائندوں سے پوچھ سکیں گے کہ انہوں نے اسمبلی میں احتجاج کے سوا بھی کوئی کام کیا۔ اسمبلی کے اندر بعض اوقات غیر پارلیمانی الفاظ بھی استعمال ہو جاتے ہیں جو سپیکر حضرات حذف کرا دیتے ہیں لیکن گزشتہ روز ایک نیا لفظ ’’رنگ باز‘‘ سامنے آیا جو سپیکر نے حذف کرا دیا کہ اس کا ہدف قائد حزب اختلاف تھے جو کوئی نیا پھڈا کرسکتے تھے۔اسی طرح صدر ممنون حسین کے خطاب کے دوران ان کے لئے ’’جھوٹا صدر‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے، اب معلوم نہیں یہ لفظ پارلیمانی ہے یا غیر پارلیمانی لیکن ماضی میں ہم نے اس ایوان میں ایک لفظ ’’ٹریکٹر ٹرالی‘‘ سنا جس پر بہت زیادہ شور اٹھا، اگرچہ معافی تلافی بھی ہوگئی لیکن اس لفظ کا ہدف بننے والی رکن نے عدالت میں مقدمہ کر دیا جس کی تاریخیں پڑ رہی ہیں، معلوم نہیں اس کا کیا فیصلہ ہو، لیکن جو دوسرے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کے بارے میں کوئی لائحہ عمل طے ہونا چاہئے، دراصل ہمارے ارکان اسمبلی خود تو اتنے نازک بلکہ حساس ہیں کہ بات بات پر تحریک استحقاق پیش کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن خود انہوں نے اپنی اداؤں پر کبھی غور نہیں کیا نہ کبھی اس زبان پر دھیان دیا جو کوثر و تسنیم میں دھلی ہوتی ہے، اگر ایسی ہی مقفع اور مسجع زبان خود ان کے لئے استعمال کی جائے تو کیسا رہے؟ کوئی ہے جو اس سلسلے میں لائحہ عمل بنانے کے لئے تیار ہو۔

شورشرابے کا معمول

مزید : تجزیہ