خواتین اساتذہ کی کردار کشی نامناسب طرز عمل ہے،سجاد اکبر کاظمی

خواتین اساتذہ کی کردار کشی نامناسب طرز عمل ہے،سجاد اکبر کاظمی

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکز ی صدر چوہدری سرفراز، سجاد اکبر کاظمی ، رانا لیاقت علی ، اسلم گھمن ، سعید نامدار، چوہدری محمد علی، میاں ارشد، مرزا طارق، رانا خالد، امتیاز شاہین، ٖغفار اعوان، طاہر اسلام، حافظ نذیر گجر، مرزا اختر بیگ، فقیر حسین ود یگر عہدیداران نے کہا ہے کہ خواتین اساتذہ کی کردار کشی نامناسب طرز عمل ہے ۔خواتین اساتذہ بھی کسی کی بہن یا بیٹی ہیں۔جب تک انکوائری رپورٹ میں حقائق سامنے نہ آجائیں اس وقت تک خواتین اساتذہ کو تضیحک کا نشانہ نہ بنایا جائے ۔گزشتہ کئی روز سے گورنمنٹ ہائی سکول شاہدرہ میں طالبہ فجر کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کو یکطرفہ اچھالا جا رہا ہے ۔اس واقعہ کی جس طرح منظر کشی کی جارہی ہے وہ حقائق پر مبنی نہیں ۔معاشرہ اساتذہ کو اگر جائز مقام نہیں دے سکتا تو کم از کم الزام تراشی سے باز رہے اور انکوائری رپورٹ کا انتظار کرے۔

الدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں کیونکہ "مار نہیں پیار" کی وجہ سے نئی نسل مادر پدر آزاد ہوگئی ہے اور اساتذہ طالبعلموں کے سامنے بے بس ہیں۔ اساتذہ کا مقام روحانی ماں باپ جیسا ہے اور کوئی بھی ماں باپ بچے کو جان لیوا سزا نہیں دے سکتا۔ لہذا سیکرٹری سکولز پنجاب سے مطالبہ ہے کہ فور ی طور پر DEO, Dy. DEO اور CEO کو معطل کرنے کی بجائے معاملہ کی انکوائری کروائی جائے اور ٹہرائے گئے ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ فور ی معطلیوں سے اساتذہ برادری میں عدم تحفظ کی فضاء پیدا ہوگئی ہے۔ معطل افسران و اساتذہ کو فی الفور بحال کیا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4