تائیکوانڈومیں نام پیداکرنے کیلئے کافی محنت کی ،لیکن اللہ کو منظور نہیں تھا،اکرام حسین

تائیکوانڈومیں نام پیداکرنے کیلئے کافی محنت کی ،لیکن اللہ کو منظور نہیں ...

پشاور (انٹرویو خالد خان) پشاور تعلق رکھنے والے تائیکوانڈوکھلاڑی وکوچ بلیک بیلٹ فرسٹ ڈان اکرام حسین خلیل نے کہاہے کہ تائیکوانڈوایک منفرد کھیل ہے اسے کھلاڑی بلکہ ہر مردوعورت کوسیکھنااور کھیلناچاہئے ،کیونکہ اسے کھیلنے کی وجہ سے انسان چاک وچوبند رہتاہے بلکہ اچھے اندازمیں اپنے دفاع کرنے کا بھی قابل بن جاتاہے،مجھے بچپن سے تائیکوانڈوسے کھیلنے او ر اس میں نام پیداکرنے کی خواہش تھی ،لیکن کھیلوں میں اختلافات کے باعث اپنے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب بہ ہوسکا،اگر موقع ملاتو کوئی شک نہیں کہ اب بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک وقوم کا نام روشن کرسکتاہوں ۔ان خیالات کا اظہارپشاور کے نامی گرامی خلیل تائیکوانڈواکیڈمی کے کوچ اور بلیک بیلٹ فرسٹ ڈان اکرام احسین خلیل نے روزنامہ پاکستان سے گفتگوکرتے ہوئے کہا۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوامیں کھلاڑیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچادیاہے ،کیونکہ انہی اختلافات کے باعث بے تحاشہ ٹیلنٹ ضائع ہوگیاہے ،اب بھی وقت ہے کہ اگر ایسوسی ایشن نے تمام کلبو ں کو اکھٹے کرکے توجہ دی، تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل کا عالمی چمپئن پشاور میں ہی کہیں چھپا ہوا ہے ،بس اسے ڈھونڈ کر پالش کرنے کی ضرورت ہے۔انکاکہناتھاکہ پشاور ،سوات اور ہزارہ تائیکوانڈوکا گڑھ تصور کئے جاتے ہیں،ضروت اس امر کی ہے کہ اچھا طریقہ یہ ہے کہ گراس روٹ لیول تک اس کھیل کو فروغ دینے اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کیلئے مزیدسنجیدہ اقدامات کئے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ مجھے بچپن میں دوسرے بچوں کی طرح تائیکوانڈو کھیلنے کا بے پناہ شوق تھا،اس کھیل میں لوہامنوانے کیلئے بہت محنت کی جسکے لئے بہترین کوچز کی نگرانی میں کھیل کر بہت کچھ سیکھالیکن قسمت میں نہیں تھا اور بلیک بیلٹ فرسٹ ڈان سے آگے نہ جاسکا، اب بھی وقت ہے اگر ایسوسی ایشن نے موقع دیا تو انشاء اللہ اپنے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی بھر پور کوشش کروں گا۔انہوں نے کہاکہ خلیل تائیکوانڈواکیڈمی میں ان کے ساتھ اس وقت 40کے قریب مختلف ویٹ کے کھلاڑی موجود ہیں ،جن میں محمد سہیل 69ویٹ کٹیگری ،شاہ فیصل 60کے جی،جمشید علی 54،ابوبکر 50کے جی،عمر 45،عبداللہ خانس90کے جی،عامر 56،نعمان60 اور 85کلوگرام ویٹ کٹیگری میں فرمان ایسے کھلاڑی ہیں جن میں آگے جانے کی بھر پور صلاحیتیں موجود ہیں اگرمواقع دیئے گئے تو خیبر پختونخواکیلئے قومی سطح پر میڈل جیت سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تائیکوانڈو ایسا کھیل ہے جس میں کوئی کھلاڑی پرفیکٹ نہیں ہوسکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ نئی تکنیکس سامنے آتی رہتی ہیں ،ہم تو صرف اپنی محنت اور قدرتی ٹیلنٹ کی وجہ سے یہاں تک پہنچے ہیں۔اگر جاپان، کوریا اور دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی تائیکوانڈو کے کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم کر دی جائیں ،تو جلد ہی مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر