صوبائی بجٹ نے مایوس کیا، کسانوں کو بھرپور ریلیف ملے گا

صوبائی بجٹ نے مایوس کیا، کسانوں کو بھرپور ریلیف ملے گا

ملتان(نیوز رپورٹر)پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ2017-18ء کو اپوزیشن جماعتوں کے مقامی رہنماؤں نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں حکومت کی جانب سے جو بجٹ میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور دیگر بنیادی (بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

سہولیات کی مد میں فنڈز مختص کئے گئے ہیں ان میں سے50فیصد بھی علاقہ کی ترقی کیلئے خرچ نہیں کئے گئے بلکہ صحت،ایجوکیشن اور دیگر بنیادی سہولیات کیلئے مختص کئے جانیوالے فنڈز لاہور کی اورنج ٹرین منصوبے کی تکمیل کیلئے واپس لاہور منتقل ہوگئے ہیں ان چار سالہ تجربات کی روشنی میں یہی کہاجاسکتا ہے کہ پنجاب حکومت کے قول و عمل کے تضاد نے جنوبی پنجاب میں رہنے والے کروڑوں لوگوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے سابق ایم پی اے عثمان بھٹی،خواجہ رضوان عالم،نفیس احمد انصاری،ملک محمد عاصم ڈیہڑ،ڈاکٹر خالد خاکوانی،رکن صوبائی اسمبلی ظہیر الدین علیزئی،رکن صوبائی اسمبلی ملک محمد علی کھوکھر،میئر ملتان چوہدری نوید الحق ارائیں،ڈپٹی میئر منور احسان قریشی،ضلعی صدر تحریک انصاف اعجاز حسین جنجوعہ،راؤ ساجد علی نے بجٹ پر ملا جلا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کے بعد صوبہ کا بجٹ بھی پہلے بجٹ کا عکاس ہے پنجاب بھر کیلئے5کھرب بجٹ میں مختص کیا گیا ہے۔جس سے کٹوتی کے بعد40ارب روپے بچیں گے فی ضلع پر کتنا خرچ کریں گے صحت کیلئے23ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو ملازمین کی تنخواہوں میں خرچ ہوجائیں گے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ لوکل گورنمنٹ کو اختیارات دئیے جائیں انہوں نے کہا کہ اپر پنجاب کا بجٹ ہے پچھلے چار سالہ تجربات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک بار پھر اورنج ٹرین کی تکمیل کیلئے جنوبی پنجاب کیلئے مختص فنڈز لاہور منتقل ہوجائیں گے ترقیاتی دعوؤں کے باوجود آج بھی راجن پور میں جانور اور انسان ایک ساتھ پانی پیتے نظر آتے ہیں جبکہ حکمران جماعت کے نمائندوں کے مطابق ساؤتھ کیلئے ایک اچھا پیکج دیا ہے حکومت نے بجٹ میں کسانوں کیلئے کھاد اور ادویات میں سبسڈی دے کر انہیں بہت حد تک ریلیف دینے کی کوشش کی ہے علاقہ ازیں جنوبی پنجاب کے ایریاز میں ہیلتھ پر کافی کام کیا جارہا ہے اور حالیہ بجٹ میں دیہی علاقوں کو ترجیح دی گئی ہے حکومت نے بیورو کریسی کی بجائے کمپیئر کو متعارف کرائے اچھا تجربہ کیا ہے اور اس کے نتائج بھی بہتر آرہے ہیں اور وزیراعلیٰ خود ان پراجیکٹ کی مانیٹرنگ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تو کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتی تاہم اپوزیشن کی بعض باتیں حقائق پر بھی ہوتی ہیں جن پر عمل کرکے حکومت کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنوبی پنجاب کے لئے مختص بجٹ واپس ہوجاتا ہے تو اس میں قصور پنجاب حکومت کا ہرگز نہیں ہے ہمیں چاہیے کہ عوام کیلئے سہولیات کو مزید مؤثر بنائیں اور وقت کا انتظار کریں۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک نے واسا اور میونسپل کارپوریشن کو76کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے ہیں جن سے تمام یونین کونسلز میں سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں خوشی کی بات اس خطے کے لوگوں کیلئے ایک نئے میڈیکل کالج کا اعلان ہے جس کی اس خطے کو اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن38کروڑ کے فنڈز سے پارکس کی بحالی سمیت صاف پانی کی فراہمی اور سٹریٹ لائٹس کے منصوبوں پر عمل کررہی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر