چناروں میں پھیلتی لالی

چناروں میں پھیلتی لالی
چناروں میں پھیلتی لالی

  

سبز زار بھٹ کل تک اس نام کو شاید کسی نے  بھی نہ سنا ہو لیکن آج یہ ہر زبان پہ ہے- جسے نہیں معلوم وہ  بھی بے اختیار دوسروں سے پوچھ رہا ہے کہ دورافق پہ پھیلتا ہواغازہ کس جری نوجوان کی شہادت کا آوازہ ہے کہ آسماں  کی آنکھیں بھی رو رو لال ہورہی ہیں –کس کا خوں ایک آزادی کی تحریک میں اک نئی امنگ پھونک گیا ہےکہ چناروں نے  پھر سے سرخ لبادہ اوڑھ لیا ہے- کون ہے ایک بہادر ماں  کا جایاجو ناچتا گاتا  پا بجولاں سرِ مقتل  کو گیا ہےاور ہنستے کھیلتے اس نے موت کو گلے لگا لیا ہے-زمیں ِ گلستاں بھی اک ترنگ میں ہے کہ اس کے بیٹے نے اپنے سر واجب الادا قرض چکا دیا ہے اور گلِ لالہ کو وہ حیاتِ جاوداں بخشی ہے کہ  جس نے جنت نظیر وادی کا ہر غنچہ ایک انمول خوشبو میں  نہلا دیا ہے-اس خاک کا نمو پاتا ہوا ہر سپوت سر پہ کفن باندھےوہ داد شجاعت دے رہا ہے کہ ذرہ ذرہ سجدہ ء شکر بجا لا رہا ہے-اب تو ہر ایک گھر میں برہان الدین  وانی پیدا ہو رہا ہے- اپنے اجداد کی طرح نیزے کی نوک پہ  سر کو کٹائے  - ایک شان سے پکار پکا ر کے کہہ رہا ہے کہ                                                                                                                          

ہم  سب    کا   نعرہ  آزادی

ہر  دل    یہ   پکارا  آزادی

ہے    حق      ہمارا    آزادی

ہم  لیکے رہیں گے آزادی

آسمان کے لئے یہ منظر نیا  نہیں ہے- اس کے نیچے روز  یہ خونی کھیل سجتا ہے – صرف مقتول بدلتا ہے جبکہ قاتل کا وہی سفاک چہرہ ظلم کے باب لکھتا ہے  اور دھرتی کو لہو میں رنگ کے  اپنے انگ انگ میں  وہ طمانیت محسوس کرتا ہے جو ایک  خون آشام درندے کا وصف ہوتا ہے-کئی برسوں سے علی الصبح شہادت کی تمنا دل میں لئے  ہوئے نڈر ممولے بلا خوف و خطر جبر کی ہر دیوار سے دیوانہ وار ٹکرا رہے ہیں اور یہ پیغام گھر گھر پہنچا رہے ہیں کہ ظلم کے خلاف یہ جہاد اب آخری بوند تک جاری رہے گا-خون کی ہر ٹپکتی بوند رائیگاں نہیں جائے گی اور اس دھرتی کے بچے شیر بن  بن کرشیرِ مادر کا قرض ادا کرتے رہیں گے- مٹی کے  یہ جاں نثار بیٹے  مٹی میں مدفون اس تحریک کی بنیادوں میں نئی روح پھونک رہے ہیں – تحریکیں اور آزادی کی آواز ظلم و ستم سے کب رکی ہے  خاص طور پہ جس کے جوان سال بیٹے سینے پہ گولیاں کھا کے  بھی اس کو زندہ و تابندہ رکھتے ہیں- جب موت کا ڈر نہیں رہتا تو کون ہے جو اِن  جاں نثاروں کو غلام رکھ سکتا ہے- سبززار بھٹ اور اس کے بارہ ساتھیوں نے جن چناروں کو ایک بار پھر اپنے خون سے رنگا ہے  کیا وہ رنگ کبھی پھیکا پڑے گا کیسے ہو سکتا ہے یہ شہیدوں کا لہو ہے – جان فروشوں کا عزم ہے  جنہوں نے گل ِلالہ کے رنگوں کو اور  رنگین کر دیا ہے- سبززار بھٹ اپنے یار برہان  مظفر وانی  کے ساتھ منوں مٹی تلے جا سویا ہے لیکن  اس کی آنکھیں آج بھی اسی راہ پہ بچھی ہیں جس کی منزل صرف آزادی ہے اور بس آزادی – ایک ہندو سامراج سے آزادی-

اس آزادی کی جنگ میں ماں گلیوں میں بین نہیں کرتی  وہ تو جگر گوشے وار کے پھولے نہ سماتی ہے- تحریک ِ آزادی میں بیٹیوں کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے –بھارتی چَھروں  کے زخم چہروں  پہ سجائے دنیا کے سامنے بھارت کے مسخ چہرے کو بے نقاب کر رہی ہیں-اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کندھے سے کندھا ملائے  دادِ شجاعت دے رہی ہیں-ان کی قربانیاں ہر مجاہد کا حوصلہ بڑھا رہی ہیں- بہنوں کی لٹتی عصمتیں اور بیٹیوں کی اڑتی ردائیں اور  کیا اقوام ِ عالم کو بتائیں  کہ ان کی خواہش  اور بجھتی آنکھوں کی حسرت کیا ہے- بھارتی استبداد کے سامنے سینہ سپر یہ خواتین  اپنے قدم بڑھاتی –اپنے بھائیوں کے لاشے اٹھاتی اور ان پہ کفن سجاتی کبھی کمزور نہیں پڑتی ہیں -دنیا دیکھ رہی ہے خالی گودوں کے ویرانے نہ سہاگ کے اجڑے افسانے ہی ان کی ہمت و جرات کو کملا سکتے ہیں-آنے والے کل کے حسیں سپنے آنکھوں میں بسائے اور ایک روشن مستقبل کی آس لگائے حوا کی یہ بیٹیاں سب خواتین کے لئے مشعلِ راہ اور قابلِ فخر ہیں- 

بچوں کے سروں پہ سجا پاکستانی جھنڈا اور مقبوضہ سرحد پہ اٹھتی پکار دشمن کا دل دہلا رہی ہے-گلوں کو ابن ِ حسین کی یاد آرہی ہے کہ جنہوں نے دھرتی کے ہر ذرے کا اپنے لہو سے منہ دلایا تھااور سب کو بتلایا تھا کہ اس قوم کے بچے بھی فولاد کی طرح سخت جان اور جذبہ ء شہادت سے مالا مال ہیں-                                                                                                                          

وقت کی ضرورت ہے اور ہماری ذمہ داری کہ  امن کے ہر فورم پہ کشمیری آواز   بن کر اس مسئلے کے حل کی بھرپور کوشش کی جائے –   اکثریتوں کو اقلیتوں میں بدلنے کے دشمن منصوبے کو آشکار کیا جائے اور اقوا م ِعالم کو بتایا جائے کہ اس قوم  کو بھی اس دھرتی پہ آزادی سے جینے کا حق دیا جائے جو ہر ایک کی بنیادی ضرورت ہے اور چناروں میں پھیلتی لالی  کو ایک روشنی  بنا کے ان شہیدوں سے وفا کا اظہار کیا جائے جو اس راہ حق میں اپنی زندگیاں وار رہے ہیں-                                                                                                

  .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ